Donate
ARTICLE(URDU)

حقیقی کلیسیا کی پہچان اور جھوٹی کلیسیا سے اس کا فرق:

Author
AUTHOR

حقیقی کلیسیا کی پہچان اور جھوٹی کلیسیا سے اس کا فرق

 

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ہمیں خدا کے کلام کی روشنی میں، بڑی احتیاط اور غور و فکر کے ساتھ پہچاننا چاہیے کہ حقیقی کلیسیا کون سی ہے، کیونکہ آج دنیا میں ہر جماعت اپنے آپ کو "کلیسیا" کہتی ہے۔  ہمارا مطلب یہاں اُن ریاکاروں سے نہیں ہے جو کلیسیا میں حقیقی ایمانداروں کے ساتھ شامل ہیں، اور بظاہر کلیسیا کے رکن نظر آتے ہیں مگر حقیقیت میں اس کا حصہ نہیں ہیں۔ بلکہ ہم اُس فرق کو واضح کر رہے ہیں جو حقیقی کلیسیا یعنی مسیح کا بدن اور اُس کی شراکت میں شریک جماعت میں اور اُن تمام جماعتوں کے درمیان ہے جو اپنے آپ کو کلیسیا کہتی ہیں۔

حقیقی کلیسیا کی پہچان درج ذیل نشانیوں سے کی جا سکتی ہے:

1. کلیسیا میں انجیل کے کلام کی خالص منادی کی جاتی ہے۔

2. کلیسیا ساکرامنٹس (مقدس رسومات یعنی بپتسمہ اور عشائے ربانی ) کو بالکل ویسے ہی انجام دیتی ہے  جیسے مسیح نے اُنہیں مقرر کیا۔

3. اور کلیسیائی نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے گناہ پر ملامت اور اسکی اصلاح کے لیے عمل کرتی ہے۔

مختصراً، سچی کلیسیا اپنے تمام کام خدا کے کلام کے مطابق انجام دیتی ہے،  جو کچھ خدا کے کلام کے خلاف ہو اُسے رد کرتی ہے، اور یسوع مسیح کو اپنا واحد اور حقیقی سر تسلیم کرتی ہے۔

ان نشانیوں کے ذریعے کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ  سچی کلیسیا کو پہچان سکتا ہے، اور کسی کو بھی ایسی سچی کلیسیا سے الگ نہیں ہونا چاہیے۔

جہاں تک اُن لوگوں کا تعلق ہے جو کلیسیا کے حقیقی رکن ہیں، اُنہیں درج ذیل مسیحی صفات سے پہچانا جاسکتا ہے:

1. یعنی وہ یسوع مسیح پر حقیقی ایمان رکھتے ہیں۔

2. یسوع مسیح کو اپنا واحد منجی تسلیم کرنے کے بعد گناہ سے دور بھاگتے اور راستبازی کے پیچھے چلتے ہیں۔

3. وہ سچے خدا اور اپنے ہمسایوں سے محبت رکھنے میں دائیں یا بائیں طرف نہیں مڑتے، اور اپنے جسم کو  اُس کے کاموں سمیت مصلوب کرتے ہیں۔

اگرچہ اُن میں کمزوریاں باقی رہتی ہیں، پھر بھی وہ اپنی ساری زندگی روح کی قوت سے اُن کمزوریوں کے خلاف لڑتے رہتے ہیں، اور ہمارے خداوند یسوع کے خون، دکھ، موت اور  فرمانبرداری کی طرف رجوع کرتے ہیں، جس میں ایمان کے وسیلے سے اُن کے گناہوں کی معافی پائی جاتی ہے۔

جہاں تک جھوٹی کلیسیا کا تعلق ہے، وہ اپنے آپ کو اور اپنی رسم و رواج کو خدا کے کلام سے زیادہ ترجیح اور اختیار دیتی ہے، وہ مسیح کے جُوے کے نیچے آنے سے انکار کرتی ہے، وہ ساکرامنٹس کو  ویسے انجام نہیں دیتی  جیسے مسیح نے اپنے کلام میں حکم دیا،  بلکہ اپنی مرضی کے مطابق اُن میں کمی یا زیادتی کرتی ہے، وہ یسوع مسیح  کی بجائے انسانوں پر زیادہ انحصار کرتی ہے،  اور اُن لوگوں کو ستاتی ہے جو خدا کے کلام کے مطابق پاک زندگی گزارتے ہیں اور جھوٹی کلیسیا  کی غلطیوں، لالچ، اور بت پرستی پر اُس کو ملامت کرتے ہیں۔

یہ دونوں کلیسیائیں واضح طور پر پہچانی جا سکتی ہیں، اور اسی لیے ایک دوسرے سے الگ اور ممتاز ہیں۔

بیلجک اقرارِ الایمان (Belgic Confession of Faith)

آرٹیکل 29