ہم ایمان رکھتے ہیں کہ یسوع مسیح راستباز، کے سوا کسی اور کے وسیلے سے ہمیں خدا تک رسائی حاصل نہیں ؛ کیونکہ وہی اکیلا ہمارا درمیانی، شفاعت کرنے والا، اور مددگار ہے۔اسی لیے اُس نے الٰہی اور انسانی فطرت کو ایک کر کے انسان کی صورت اختیار کی، تاکہ ہم انسان خدا کی عظیم اور جلالی حضوری تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ورنہ ہم کبھی خدا کے قریب نہیں آ سکتے تھے۔لیکن یہ درمیانی، جسے باپ نے ہمارے اور اپنے درمیان مقرر کیا، اپنی عظمت کے باعث ہمیں خوفزدہ نہیں کرتا، تاکہ ہم خوف کے باعث کسی اور کی تلاش نہ کریں۔
کیونکہ نہ آسمان میں اور نہ زمین کی کسی مخلوق میں کوئی ایسا ہے جو ہم سے یسوع مسیح سے بڑھ کر محبت رکھتا ہو۔ اگرچہ وہ خُدا کی صُورت پر تھا، پھر بھی اُس نے اپنے آپ کو خالی کر دِیا اور خادِم کی صُورت اِختیار کی اور اِنسانوں کے مُشابِہ ہو گیا۔اور ہر لحاظ سے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مانند بنا۔
فرض کریں کہ ہمیں کسی اور درمیانی کو تلاش کرنا پڑے، تو کون ایسا ہوگا جو ہم سے اُس سے زیادہ محبت کرے، جس نے اُس وقت ہماری خاطر اپنی جان دے دی جب ہم اُس کے دشمن ہی تھے؟اور اگر فرض کریں کہ ہمیں کوئی ایسا درمیانی ڈھونڈنا پڑے جو عزت اور قدرت رکھتا ہو، تو کس کے پاس یہ سب اُس کے برابر ہوگا جو خدا باپ کے دہنے ہاتھ پر بیٹھا ہے اور جسے آسمان اور زمین کا کل اختیار حاصل ہے؟ اور کس کی بات زیادہ جلد سنی جائے گی، اُس کے مقابلے میں جسے خدا اپنا پیارا بیٹا کہتا ہے؟
پس، مقدسین کو شفاعت کے لیے درمیانی بنانا دراصل اُن کی بےعزتی ہے۔ ایسا کرنا ایمان کو غلط جگہ پر رکھنا ہے کیونکہ نہ تو کسی مقدس نے کبھی ایسا عمل کیا اور نہ ہی خود کو درمیانی ٹھہراتے ہوئے کسی اور سے اس کی درخواست کی۔ بلکہ اپنی ذمہ داریوں کے مطابق، جیسا کہ اُن کی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے ،اُنہوں نے ہمیشہ ایسے عقائد کو رد کیا۔
یہاں ہمیں اپنی نااہلی کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے، کیونکہ ہماری دعائیں ہماری اپنی اہلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ صرف یسوع مسیح کی فضیلت اور عظمت کی بنیاد پر خدا کے حضور پیش کی جاتی ہیں، جس کی راستبازی ایمان کے ذریعے ہماری ہو گئی ہے۔اسی لیے رسول ہمیں اس احمقانہ خوف بلکہ بےایمانی سے بچانے کے لیے یاد دلاتا ہے کہ یسوع مسیح ہر لحاظ سے اپنے بھائیوں اور بہنوں کی مانند بنا، تاکہ وہ ایک رحم دل اور وفادار سردار کاہن بنے، جو اپنے لوگوں کے گناہوں کا کفارہ دے۔ چونکہ وہ خود آزمائش کے دکھوں سے گزرا، اس لیے وہ اُن کی مدد کر سکتا ہے جو آزمائش میں پڑتے ہیں۔ رسول ہمیں سیدھا مسیح سے دعا التماس کرنے میں حوصلہ دیتے ہوئے کہتا ہے کہ "چونکہ ہمارے پاس ایک عظیم سردار کاہن ہے جو آسمانوں سے گزر چکا ہے یعنی یسوع، خدا کا بیٹا، تو آؤ ہم اپنے اقرارِ ایمان کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ کیونکہ ہمارے پاس ایسا سردار کاہن نہیں جو ہماری کمزوریوں میں ہمارا ہمدرد نہ ہو سکے ؛ بلکہ وہ ہر لحاظ سے ہماری طرح آزمایا گیا، پھر بھی وہ بے گناہ ٹھہرا۔ پس آؤ ہم خدا کے فضل کے تخت کے سامنے پوری دلیری سے جائیں، تاکہ اسکا فضل اور رحم پائیں جو ضرورت کے وقت ہماری مدد کرتا ہے۔
مزید رسول ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمارے پاس مسیح کے خون کے وسیلہ سے پاک ترین مقام میں داخل ہونے کی پوری دلیری ہے ، پس آؤ ہم سچے دل اور کامل ایمان کے ساتھ اُس کے پاس آئیں۔ اور چونکہ مسیح کی کہانت ہمیشہ کے لیے قائم ہے، اِسی لیے وہ ہمیشہ اُن کی نجات کے لیے شفاعت کرتا رہتا ہے جو اُس کے وسیلے سے خدا کے پاس آتے ہیں۔
اس سے بڑھ کر ہمیں اور کیا چاہیے؟ کیونکہ خودمسیح کہتا ہے کہ : "راہ ، حق اور زِندگی مَیں ہُوں۔ کوئی میرے وسِیلہ کے بغَیر باپ کے پاس نہیں آتا۔" پھر ہم کیوں مسیح کے سوا کسی اور مددگار یا درمیانی کی تلاش کریں؟ جب خدا کو یہ منظور ہوا کہ وہ ہمیں اپنا اکلوتا بیٹا، یعنی یسوع مسیح، بطور ہمارا مددگار اور درمیانی بخشے، تو ہمیں اُسے چھوڑ کر کسی اور کو تلاش نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اگر ہم ایسا کریں تو تلاش تو کرتے رہیں گے، مگر کبھی پائیں گے نہیں۔ خدا نے یہ جانتے ہوئے کہ ہم گنہگار ہیں، ہمیں مسیح یسوع نجات دہندہ کے طور پر دیا۔
پس، ہم مسیح یسو ع کے حکم کے مطابق آسمانی باپ کو مسیح کے وسیلے سے پکارتے ہیں، جو ہمارا واحد درمیانی اور مددگار ہے، اور جیسے اُس نے ہمیں ربّانی دعا میں سکھایا، ہمیں یقین ہے کہ ہم جو کچھ بھی باپ سے اُس کے نام میں مانگیں گے، وہ ہمیں ضرور عطا کرے گا۔
بیلجک اقرارِ الایمان (Belgic Confession of Faith)
آرٹیکل 26