Donate
ARTICLE(URDU)

باپ، بیٹا، اور روحُ القُدُس۔؟

Author
AUTHOR

ہم خدا کے کلام اور اس کی سچائی کے مطابق ایک ہی خدائے واحد پر ایمان رکھتے ہیں، جو ایک ہی الہیٰ ذات ہےاور اسی ایک ذات میں تین شخصیات ہیں جو حقیقت میں، سچائی کے ساتھ، اور ہمیشہ کے لیے اپنی جداگانہ خصوصیات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ یعنی: باپ، بیٹا، اور روحُ القُدُس۔

باپ تمام چیزوں ،خواہ وہ نظر آنے والی ہوں یا نادیدہ  کا سبب، آغاز اور سرچشمہ ہے۔

بیٹا باپ کا کلام، حکمت اور صورت (عکس) ہے۔

روحُ القُدُس ابدی قدرت اور قوت ہے، جو باپ اور بیٹے سے صادر ہے۔

تاہم یہ فرق خدا کو تین حصوں میں تقسیم نہیں کرتا، کیونکہ پاک نوشتے ہمیں سکھاتے ہے کہ باپ، بیٹا، اور روحُ القُدُس اپنی اپنی پہچان میں الگ ہیں، لیکن اس لحاظ سے یہ تینوں شخصیات ایک ہی خدا ہیں۔

چنانچہ یہ بات ظاہر ہے کہ باپ بیٹا نہیں، اور بیٹا باپ نہیں؛ اسی طرح روحُ القُدُس نہ باپ ہے، نہ بیٹا۔

پھر بھی، یہ تینوں شخصیات الگ ہیں، مگر جدا نہیں، اور نہ ہی یہ ایک دوسرے میں ملے ہوئے ہیں۔ کیونکہ باپ نے جسم اختیار نہیں کیا، نہ روحُ القُدُس نے، بلکہ صرف بیٹے نے۔ اور باپ کبھی بیٹے کے یا روحُ القُدُس کے بغیر نہ تھا، کیونکہ یہ تینوں ازل سے ایک ہی ذات میں برابر ہیں۔ ان میں نہ کوئی پہلا ہے نہ آخری،  کیونکہ تینوں سچائی، قدرت، نیکی، اور رحمت میں ایک ہیں۔

بیلجک اقرارِ الایمان (بیلجک کنفیشن آف فیتھ)

آرٹیکل 8