Donate
ARTICLE(URDU)

انسان کی تخلیق، زوال، اور نا اہلی

Author
AUTHOR

انسان کی تخلیق، زوال، اور نا اہلی

 

ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خدا نے انسان کو زمین کی مٹی سے بنایا اور اسے اپنی صورت اور شبیہ پر  —  نیک، عادل، پاک اور سب باتوں میں خدا کی مرضی کے تابع رہنے کا اہل بنایا تھا۔ لیکن جب انسان عزت و وقار میں تھے تو  اُنہوں نے نہ تو اس اعزاز کو سمجھا اور نہ ہی اس کی فضیلت کو پہچانا۔ (زبور 20:49)  بلکہ اُنہوں نے اپنی مرضی سے شیطان کے بہکاوے میں آکر اپنے آپ کو گناہ کے اختیار میں دے دیا، جس کے نتیجے میں موت اور لعنت اُن پر آ پڑی۔ اُنہوں نے  زندگی کے حکم کی خلاف ورزی کی، جواُنہیں ملا تھا، اور اپنے گناہ کے سبب سے خود کو خدا سے جدا کر لیا، جو اُن کی حقیقی زندگی تھا، اور  یوں اپنی پوری انسانی فطرت کو بگاڑ لیا۔ لہذہ  اُنہوں نے اپنے آپ کو مجرم اور جسمانی و روحانی موت کا قصور وار بنایا، اور اپنی تمام راہوں میں شریر ، ٹیڑھے، اوربدکار ہو گئے۔ اُنہوں نے وہ تمام عمدہ نعمتیں کھو دی جو اُنہیں خدا سے ملی تھیں، اور اب  اُن میں سے کوئی بھی نعمت باقی نہ رہی، سوائے چند  معمولی نشانیوں کے جو  اُنہیں  قصوروار  ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

مزید، گناہ کے سبب سے  ہماری ساری روشنی تاریکی میں بدل گئی،  جیسا کہ بائبل مقدس سکھاتی ہے کہ: “نُور تارِیکی میں چمکتا ہے اور تارِیکی نے اُسے قبُول نہ کِیا۔” (یوحنا 5:1)  یہاں یوحنا رسول  انسانی نسل کو “تاریکی” کہتا ہے۔ اسی لیے ہم اُن تمام تعلیمات کو رد کرتے ہیں جو انسانی آزاد مرضی کے حق میں ہیں، کیونکہ انسان صرف گناہ کے غلام ہیں اور وہ کوئی نیکی نہیں کر سکتے جب تک کہ اُنہیں آسمان سے یہ توفیق عطا نہ کی جائے۔ (یوحنا 27:3) اس لیے  کون یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ خود کوئی  نیک کام کرنے کے قابل ہے،  جبکہ مسیح خود فرماتا ہے کہ:  “کوئی میرے پاس نہیں آ سکتا جب تک باپ جِس نے مُجھے بھیجا ہے اُسے کھینچ نہ لے۔” (یوحنا 44:6)  کون اپنی  نیت( مرضی) پر فخر کر سکتا ہے اس بات کو سمجھتے ہوئے کہ:  “ جسمانی نیت (مرضی) خدا کی دشمن ہے۔” (رومیوں 7:8) کون اپنے علم کی بات  کر سکتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ: “ نفسانی آدمی خُدا کے رُوح کی باتیں قبُول نہیں کرتا۔” (1 کرنتھیوں 14:2)

مختصراً، کوئی کیسے سوچ بھی سکتا ہے یہ جانتے ہوئے کہ "  ہم اپنی طرف سے یا اپنے آپ  میں کچھ بھی  سوچنے کے قابل  نہیں ہیں، بلکہ ہماری یہ قابلیت صرف خداوند کی طرف سے ہے۔"؟ (2 کرنتھیوں 3:5) لہٰذا رسول جو کہتا ہے وہ بالکل درست اور حتمی ہے کہ :  “خدا اپنے نیک اِرادہ کو انجام دینے کے لِئے  ہمارے اندر  نِیّت اور عمل دونوں کوپَیدا کرتا ہے۔” (فلپیوں 13:2) کیونکہ مسیح کی شمولیت کے بغیر نہ تو سمجھ ہے اور نہ ہی ایسی مرضی جو خدا کی مرضی کے مطابق ہو،  جیسا کہ وہ  خود ہمیں سکھاتا ہے کہ:  “میرے بغیر تم کچھ نہیں کر سکتے۔” (یوحنا 5:15)

بیلجک اقرارِ ایمان 

مضمون 14