Donate
ARTICLE(URDU)

مسیح کا زندگی بخش کفارہ

Author
AUTHOR

کیونکہ یہ خدا باپ کا حاکمانہ ارادہ، مہربان مرضی اور پاک مقصد تھا کہ اپنے بیٹے کی بیش‌قیمت موت کی زندگی بخش اور نجات دینے والی تاثیر صرف چُنے ہوئے لوگوں تک پہنچے۔ اور صرف اُنہی کو راستباز ٹھہرانے والا ایمان عطا کیا جائے، تاکہ وہ یقینی طور پر نجات کو حاصل کریں۔ یعنی، خدا کی مرضی یہ تھی کہ مسیح صلیب پر بہائے خون کے وسیلہ سے، جس سے اُس نے نئے عہد کی تصدیق کروائی،  ہر قوم، قبیلہ، نسل اور زبان میں سے اُن سب لوگوں کو، اور صرف اُنہی کو، مؤثر طور پر چھڑائے جو ازل سے نجات کے لیے چُنے گئے اور جو باپ نے اُس کے سپرد کیے تھے۔ تاکہ مسیح اُنہیں ایمان بخشے، جو پاک روح کے باقی تمام روحانی تحفوں کے ساتھ، اُس نے اپنی موت کے وسیلے سے اُن کے لیے خریدا، وہ اُنہیں تمام گناہوں سے پاک کرے ، خواہ وہ موروثی گناہ ہوں  یا وہ گناہ جو ایمان لانے سے پہلے یا بعد میں کیے گئے ہوں، اور پھر مسیح اُنہیں پوری وفاداری سے  آخر تک سنبھال کر رکھے، یہاں تک کہ وہ ہر داغ اور ہر عیب سے پاک ہو کر خدا کے حضور ہمیشہ کے جلال میں داخل ہوں اور سکونت کریں۔

یہ مقصد، جو خدا کی ازلی محبت سے چُنے ہوئے لوگوں کے لیے ٹھہرایا گیا تھا، دنیا کے آغاز سے لے کر آج تک پوری قدرت کے ساتھ پورا ہوتا آیا ہے، اور آئندہ بھی دوزخ کی تمام رکاوٹوں کے باوجود پورا ہوتا رہے گا۔ تاکہ مقررہ وقت پر تمام چُنے ہوئے لوگ ایک جگہ جمع ہو جائیں، اور کلیسیا جس کی بنیاد مسیح کے بہائے ہوئے خون پر رکھی گئی ہے، اس میں کبھی بھی ایمان رکھنے والوں کی کمی نہ ہو۔ یہ کلیسیا اپنے منجی مسیح سے سچی محبت رکھے، اُس کی وفاداری سے خدمت کرے، اُس مسیح کی، جس نے اپنی دلہن یعنی کلیسیا کے لیے اپنی جان تک صلیب پر قربان کردی، کلیسیا صرف اسی مسیح کی حمد اس دنیا میں اور ہمیشہ کی زندگی میں بھی کرتی رہے۔

 Canons of Dort

Part2/Article 8 and 9