کیوں حقیقی مسیحی عبادت/پرستش میں تالیاں بجانہ روا نہیں۔۔؟
عبادت انسان کی سب سے بلند ترین ذمہ داری ہے، جو انسان کے دل کا خدا کے جلال، فضل اور عظمت کے لیے جواب ہے۔ بائبل مقدس حقیقی عبادت کو اس طرح بیان کرتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو “روح اور سچائی کے ساتھ” پیش کریں (یوحنا 24:4)، یعنی ایک باوقار، خدا مرکز تعلق جو اُس کی خودمختاری اور پاکیزگی کو تسلیم کرے۔ ریفارمڈ چرچ میں عبادت صرف جذبات یا انسانی خوشی کا اظہار نہیں بلکہ خدا کے کلام کے مطابق ایک سنجیدہ، خوشی بھرا اور فرمانبردار جواب ہے۔ عبادت کے ضابطہ کار اصول (Regulative Principle of Worship)، جو حقیقی مسیحی کلیسیا کی بنیاد ہے، سکھاتے ہیں کہ صرف خدا ہی طے کرتا ہے کہ اُس کی کس طرح سے پرستش کی جائے اور اُس کے لوگ عبادت میں ایسے عناصر شامل نہ کریں جن کی بائبل مقدس اجازت نہیں دیتی (استثنا 32:12؛ احبار 3:10)۔
اگرچہ بائبل میں تالیاں بجانے کا ذکر ہے، اکثر عوامی خوشی، فوجی فتح یا شاہی تقریبات میں (زبور 1:47، زبور 8:98)، یہ قومی یا شاعرانہ جشن کے اظہار ہیں، نہ کہ نئے عہد کی کلیسیا میں اجتماعی عہد کی عبادت/پرستش کے لیے ہدایات۔ نئے عہد میں عبادت کی شکل وعظ، دُعا، مذہبی رسومات، گیت، زبور اور منظم نظرانوں کے ذریعے دی گئی ہے (1 کرنتھیوں 26:14–40؛ کلُسیوں 16:3)، تاکہ خدا کی تعریف ہو، نہ کہ انسانی کارکردگی کی تعریف۔ تالیاں بجانا، اگرچہ خوشی اور قدرتی لگتی ہیں، مجموعی طور پر خدا سے توجہ ہٹا کر انسانی ہنر، تفریح یا جذباتی اظہار کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ کلام مقدس عبرانیوں 28:12–29 میں ہمیں خدا کے سامنے خوشی اور احترام کے ساتھ عبادت کرنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ ہمارا خدا ایک بھسم کرنے والی آگ ہے۔
ریفارمڈ ایمان میں باوقار خوشی، اتحاد اور خدا مرکز پرستش/عبادت کو فروغ دیا جاتا ہے، تاکہ کلام اور روح کے ذریعہ ہر ایماندار خدا کی پرستش کرے۔ تالیاں نہ بجانا خوشی یا ستائش سے انکار نہیں بلکہ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ حقیقی عبادت صرف بائبل مقدس کے مطابق ہو نہ کے انسان کے ایجاد کیے ہوئے اصولوں پر، بائبل مقدس مسیحی عبادت کے تمام اصولوں کو خدا کی پرستش کے لیے بیان کرتی ہے، اور یہ تعلیمات ایسی شکل میں پیش کی جاتی ہے جو ایمان مضبوط کرے، فرمانبرداری کو ترغیب دے اور خدا کے جلال کو انسانی اظہار سے بالاتر بلند کرے۔
Glory to God alone