Donate
ARTICLE(URDU)

Kiya Church mein 'kalam' k duraan "hallelujah" k naree lagana biblical hai ?

Author
AUTHOR

بہت سی جدید کلیسیاؤں میں، "ہلیلویاہ" کا لفظ ایک عام نعرہ بن چکا ہے، جو اکثر خطبات کے دوران خوشی یا تعریف کے طور پر بلند کیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ بے ضرر یا روحانی طور پر حوصلہ افزا لگتا ہے، لیکن جب ہم بائبل کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو اس کے خطبے کے سیاق میں استعمال پر کچھ سنگین سوالات اُٹھتے ہیں۔

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ  بائبل مقدس میں کہیں بھی ہم نہیں پاتے کہ رسولوں یا خود یسوع مسیح نے خطبات یا تعلیمی مواقع پر "ہلیلویاہ" کو ردعمل کے طور پر استعمال کرنے کا حکم دیا ہو۔ یہ لفظ جو کہ "خدا کی تعریف کرو" کے معنی رکھتا ہے، زیادہ تر زبور اور مکاشفہ میں نظر آتا ہے، جہاں یہ اجتماعی عبادت یا قیامت کے دن کی حمد کے طور پر استعمال ہوتاہے، نہ کہ تعلیم دیتے وقت۔

بائبل میں اس کا مقصد تعلیمی نہیں بلکہ جشن منانے کے انداز میں ظاہر ہوا ہے، جو خدا کی عظمت کا اعلان ہے، جو اُس کے عظیم کارناموں کے بعد ہوتا ہے، نہ کہ انسان کے الفاظ کا مجرد اضافہ۔ اگر اسے خطبات کے دوران ایک نعرے کے طور پر استعمال کیا جائے تو یہ ایک مقدس اعلان کو صرف جذباتی اضافے میں بدل دیتا ہے۔

اصلاحی پروٹسٹنٹ نقطہ نظر سے یہ تشویش مزید بڑھ جاتی ہے۔ اصلاحی عبادت میں خدا کے کلمے کی کفایت اور بائبل کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے تاکہ عبادت کی حقیقت کو محفوظ رکھا جائے۔ جان کیلون نے خبردار کیا تھا کہ وہ نئے طریقے جو خدا کی عظمت کو کم کرتے ہیں اور عبادت کی پاکیزگی کو بگاڑتے ہیں، اُن سے پرہیز کرنا چاہیے۔ "ہلیلویاہ" کا خطبے کے دوران اچانک نعرہ بلند کرنا روحانی طور پر پُرجوش لگ سکتا ہے، لیکن یہ خدا کے کلام کی سنجیدگی اور وضاحت میں خلل ڈالتا ہے۔ یہ توجہ کو خدا کی ذات سے ہٹا کر انسان کے جذبات کی طرف منتقل کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں خطبے کی افادیت کو ایمان کی وضاحت کی بجائے آواز کے ردعمل سے ناپا جانے لگتا ہے۔ ایسی عادتیں غیر ارادی طور پر تفریحی سرگرمیوں میں بدل جاتی ہیں، نہ کہ روحانی استفادہ میں۔

اس کے علاوہ، "ہلیلویاہ" کا خطبات میں استعمال مذہبی الجھن  پیدا کر سکتا ہے۔ بائبل میں تعریف کے مخصوص طریقے ہیں جیسے دعا، گانا، اور اعتراف کرنا، لیکن یہ کسی بھی اچانک نعرے کے طور پر نہیں ہے۔ جب لوگوں کو "ہلیلویاہ" پادری کے کہنے پر بلند کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے، تو اس سے اصلی عبادت اور دکھاوے کی عبادت کے درمیان فرق دھندلا جاتا ہے۔ اصلی بائبل کی تعریف خدا کے لیے عزت و محبت ہے؛ یہ اُس کے کلام اور کاموں کا ردعمل ہے، نہ کہ پادری کی تقریر کی مہارت کا۔ "ہلیلویاہ" کا بلا سوچے سمجھے استعمال عبادت کو تفریحی نعرےبازی میں بدلتا ہے، جس میں وہ تعظیم نہیں رہتی جو بائبل طلب کرتی ہے۔

آخر میں، اگرچہ "ہلیلویاہ" خدا کی تعریف کا ایک شاندار اعلان ہے، لیکن خطبے کے دوران اس کا بلا ضرورت استعمال بائبل کے اصولوں سے متصادم ہے۔ خطبہ کا مقصد خدا کے کلام کے ذریعے ہدایت اور تعلیم دینا، نصیحت اور تعمیر کرنا ہے۔ "ہلیلویاہ" کو جذباتی طور پر شامل کرنا اس مقدس مقصد میں خلل ڈالنا ہے، اور انسانی خواہشات کو خدائی ہدایت سے بلند کرناہے۔ بائبلی کلیسیاوں میں خطبے کے دوران نہ ہی تالیوں کا استمال ملتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی نعرےبازی کا۔

خدا کریں کہ اُسکی کلیسیا بائبل کے نمونہ پر واپس لوٹے، خدا کی تعریف پرستش اور دعا میں ہو، لیکن خطبے کو خدا کے سچے کلام کا سنجیدہ اور عبادت کو کلام مقدس کی بنیاد پر رہنے دیں۔ کیونکہ خدا کی مرضی اور تعریف اُس کے سیکھائے ہوئے اصولوں میں ہے، نہ کہ روایتی  جذباتی بے مقصد نعروں میں۔کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم خدا کی عبادت میں اپنی طرف سے احکام شامل کر کے احبار10 باب میں موجود ہارون کے بیٹوں ناداب اور ابیہو کی طرح سزا کے مستحق بن جائیں۔

خدا کے نام کو ہمیشہ جلال ملتا رہے۔ آمین