Donate
ARTICLE(URDU)

Agar Khuda "Kisi ki Halaqat nhi chahta" to phr Jahanum mein Log khu Hai.. ?

Author
AUTHOR

 

’’ خُداوند اپنے وعدہ میں دیر نہیں کرتا جَیسی دیر بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ تُمہارے بارے میں تحمُّل کرتا ہے اِس لِئے کہ کِسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی تَوبہ تک نَوبت پُہنچے‘‘۔  ( 2 پطرس 9:3)

2 پطرس 9:3 آج کے دور میں مسیحیت میں سب سے زیادہ غلط سمجھی جانے والی آیات میں سے ایک ہے۔ بہت سے لوگ اسے پڑھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ خدا چاہتا ہے کہ ہر شخص بغیر کسی امتیاز یا فرق کے نجات پائے، لیکن پھر بھی بہت سے لوگ خدا  کی مرضی کے خلاف ہلاک ہو رہے ہیں۔ یہ تفسیر بائبل کی تعلیم کے سراسر خلاف ہی نہیں ، بلکہ خدا کی حاکمیت کو کمزور ثابت کرنے کی ناکام کوشش ، اور اُس کے ابدی ارادے کی یقینیّت کا انکار بھی کرتی ہے۔ صحیح سمجھ کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس آیت پر اسکے سیاق و سباق، زبان اور پوری بائبل کی تعلیم کے مطابق غور کریں۔

جب پطرس رسول کہتا ہے کہ’’خداوندکسی کی ہلاکت نہیں چاہتا‘‘  تو سب سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہا ہے۔ اپنے دونوں خطوط میں،پطرس رسول واضح کرتا ہے کہ وہ  یہ خطوط ایمانداروں کو لکھ رہا ہے، یعنی  اُن لوگوں کو جنہوں نے مسیح کی

 راستبازی کے ذریعے “قیمتی ایمان” حاصل کیا ہے (2 پطرس1:1)۔ لہٰذا جب وہ کہتا ہے کہ خدا ہمارے تئیں صبر کرتا ہے، تو ’’ہم‘‘  کا مطلب پوری انسانیت نہیں بلکہ خدا کے عہد کے لوگ، یعنی اُس کے چنے ہوئے لوگ ہیں۔ سیاق و سباق میں ’’ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا‘‘  کا مطلب ہے کہ خدا اپنے لوگوں میں سے کسی ایک کی بھی ہلاک نہیں چاہتا۔ یہ نجات کی ضمانت ہے، نہ کہ ایک عالمگیر پیشکش جو انسانی انکار کی وجہ سے ناکام ہو جائے۔

یہ سوچنا کہ خدا چاہتا ہے کہ ہر شخص نجات پائے لیکن وہ اپنی مرضی میں ناکام رہ جاتا ہے، خدا کی حاکمیت کے اصول کے خلاف ہے۔ بائبل بار بار یہ بیان کرتی ہے کہ خدا کی مرضی کبھی ناکام نہیں ہو سکتی۔ دانی ایل کہتا ہے کہ ’’ کوئی نہیں جو خدا کا ہاتھ روک سکے‘‘ ( دانی ایل 35:4)، ایوب اقرار کرتا ہے کہ ’’خدا سب کُچھ کر سکتا ہے اور اُسکا کوئی  بھی اِرادہ رُک نہیں سکتا‘‘ (ایوب 2:42)، اور پولوس رسول سکھاتا ہے کہ خدا سب چیزیں اپنی مرضی کے مطابق کرتا ہے (افسیوں 11:1)۔ اگر خدا واقعی چاہتا کہ ہر شخص نجات پائے، تو ہر شخص نجات پاتا، ورنہ اُسکی مرضی ناکام ہو جاتی، جو کہ ناممکن ہے۔ یہ ماننا کہ خدا کچھ چاہتا ہے لیکن اُسے پورا نہیں کر سکتا، اُس کی قدرت، حکمت اور حاکمیت پر شک کرنے کے مترادف ہے۔

بائبل میں لفظ ’’ کوئی ‘‘ اور ’’ سب ‘‘  اکثر کسی خاص گروپ کے تمام افراد کے لیے استعمال ہوتے ہیں، نہ کہ دنیا کے ہر فرد کے لیے۔ 2 پطرس9:3 میں، “سب” کا مطلب خدا کے تمام چنے ہوئے لوگوں سے ہے، جو دنیا کی بنیاد سے پہلے مسیح یسوع میں نجات کے لیے چنے گئے ہیں

 (افسیوں 4:1)،  یعنی وہ جن کے لیے مسیح نے خصوصی طور پر صلیبی قربانی دی (یوحنا 14:10-15)، اور وہ جو بیٹے (مسیح) کے سپرد کیے گئے ہیں تاکہ وہ سب اُس کے پاس آئے (یوحنا 37:6)۔ خدا آخری دن (قیامت) کے فیصلے میں تاخیر کرتا ہے کیونکہ وہ صبر کے ساتھ اپنے تمام چنے ہوئے لوگوں کو توبہ کی طرف لاتا ہے۔ مسیح کی دوسری آمد خدا کے نجاتی منصوبے کی تکمیل کا انتظار کرتی ہے، نہ کہ یہ کہ دنیا کے ہر شخص کے ایمان لانے کا انتظار۔ یہ تفسیر باقی بائبل کی تعلیم کے مطابق ہے۔ بائبل کہیں بھی نہیں کہتی کہ خدا دنیا کے ہر فرد کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بلکہ یہ واضح کرتی ہے کہ وہ جس پر رحم کرنا چاہتا ہے اُس پر رحم کرتا ہے (رومیوں 18:9)،اور یہ بھی  کہ سب مسیح کی بھیڑ یں نہیں ہیں (یوحنا 26:10)، اور کچھ لوگوں  کو ٹھوکر کھانے کے لیے ہی مقرر کیا گیا ہے (1 پطرس 8:2)۔  مزید، امثال 4:16 میں کہا گیا ہے کہ’’ شرِیروں کو خدا نے بُرے دِن کے لِئے بنایا ہے‘‘۔ اور یسوع مسیح خود باپ کا شکر ادا کرتا ہے جس نے بعض کے لیے روحانی سچائی چھپائی مگر بعض پر اسی سچائی کو ظاہر کیا (متی 25:11)۔

 یہ سب آیات واضح طور پر  بیان کرتی ہیں کہ خدا کا نجات بخش فضل خاص اور خود مختار ہے۔ اس لیے 2 پطرس 9:3 کا اصل مطلب ایک خوبصورت اورتسلی بخش   پیغام ہے۔ جو یہ بیان کرتا ہے کہ خدا اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں سست نہیں ہے،  بلکہ وہ صبر کے ساتھ اپنے ہر چنے ہوئے  بندے کو اپنی بادشاہت میں جمع کر رہا ہے۔ ان میں سے نہ تو کوئی ہلاک ہوگا اور نہ ہی کوئی ضائع ہوگا۔اور نہ ہی ان کی تعداد میں کسی قسم کی کوئی کمی یا اضافہ ہو سکتا ہے۔  اُس کا صبر کمزوری نہیں بلکہ اُسکے ابدی انتخاب کے حکم کا اظہار ہے۔ یہ آیت خدا کے لوگوں کی نجات کی یقینیّت کے بارے میں ہے، نہ کہ عالمگیر نجات کی ایک نامکمل خواہش کے بارے میں۔

مختصراً، 2 پطرس 9:3 خدا کے خود مختار  فضل کی شاندار تصدیق ہے جب اسے اسکے صحیح سیاق و سباق میں پڑھا جائے۔ یہ ایمانداروں کو یقین دلاتی ہے کہ خدا اپنا کام مکمل کرے گا، اپنے تمام چنے ہوئے لوگوں کو جمع کرے گا، اور اُنہیں ہمیشہ کی زندگی کے لیے محفوظ رکھے گا۔ یہ

 آیت خدا کی حاکمیت کو کمزور نہیں کرتی بلکہ اُسے روشن اور واضح انداز میں ظاہر کرتی ہے کہ جو خدا اپنے لوگوں کا انتخاب کرتا ہے، اُنہیں بلاتا ہے اور اُنہیں نیا جنم دیتا ہے، وہ اپنے چنے ہوئے لوگوں میں سے کسی ایک کو بھی ہلاک نہیں ہونے دے گا، جیسا کہ یسوع نے ہمیں 100 

میں سے ایک کھوئی ہوئی بھیڑ کی مثال کے ذریعے سکھایا ہے کہ خدا کے نزدیک اُس کے  ہر چنے ہوئے بندے کی جان قیمتی ہے اور وہ  اُنہیں  کسی قیمت پر بھی ہلاک نہیں ہونے دے گا۔  (لُوقا 4:15-7)۔

ہمارے زندہ خدا کی برکتیں آپ پر ہوں۔

سلیمان شہزاد