Donate
ARTICLE(URDU)

: اگر ہم واقعی خدا اور کلیسیا کی خدمت کے لیے وقف ہوتے تو ہم اپنی پڑھائی میں اتنے لاپروا نہ ہوتے

Author
AUTHOR

: اگر ہم واقعی خدا اور کلیسیا کی خدمت کے لیے وقف ہوتے تو ہم اپنی پڑھائی میں اتنے لاپروا نہ ہوتے


 بہت کم لوگ اتنی محنت کرتے ہیں جتنی عقل کو درست طور پر سمجھانے اور آنے والے کام کے لیے تیار کرنے کے لیے ضروری ہے۔ کچھ خادمین کو تو پڑھائی میں کوئی دل چسپی ہی نہیں ہوتی؛ وہ کبھی کبھار ایک آدھ گھنٹہ پڑھ لیتے ہیں، وہ بھی ایک بوجھ سمجھ کر، اور خوش ہوتے ہیں جب اس ذمہ داری سے جان چھوٹتی ہے۔ کیا علم حاصل کرنے کی فطری خواہش، یا خدا اور روحانی امور کو جاننے کا شوق، یا اپنی بڑی جہالت اور کمزوری کا احساس، یا خدمت کے کام کی بھاری ذمہ داری—کیا ان میں سے کوئی چیز بھی ہمیں پڑھائی  کے ساتھ مضبوطی سے جوڑے نہیں رکھ سکتی؟ ایک خادم کے لیے کتنی ہی باتیں ہیں جن کا جاننا ضروری ہے، اُن سے ناواقف ہونا کتنی بڑی کمی ہے، اور اپنے کام میں ہم اس کمی کو کتنا زیادہ محسوس کرتے ہیں،  بہت سے خادم صرف اتنا پڑھتے ہیں کہ ایک وعظ تیار ہو جائے، اس سے زیادہ نہیں، حالانکہ پڑھنے کے لیے بے شمار کتابیں ہیں اور جاننے کے لیے بے شمار موضوعات۔ بلکہ وعظ کی تیاری میں بھی ہم اکثر لاپروا ہوتے ہیں؛ ہم صرف چند سادہ سچائیاں جمع کر لیتے ہیں، مگر یہ نہیں سوچتے کہ اُنہیں کس مضبوط اور مؤثر انداز میں پیش کیا جائے تاکہ وہ لوگوں کے دل اور ضمیر تک پہنچیں۔  ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ کیسے لوگوں کو قائل کیا جائے، ہر حقیقت کو کیسے دل و دماغ میں اُتارا جائے، اور یہ سب کچھ محض موقع پر بولنے پر نہ چھوڑا جائے، سوائے ضرورت کے حالات میں۔

 یقیناً، اے بھائیو، تجربہ یہی سکھاتا ہے کہ کوئی بھی شخص بغیر سخت محنت، مسلسل جدوجہد اور تجربے کے نہ علم والا بنتا ہے اور نہ ہی دانا۔