Donate
ARTICLE(URDU)

اگر ہم واقعی دل سے خدا اور کلیسیا کی خدمت کے لیے وقف ہوتے، تو ہم اس خدمت کو کہیں زیادہ جوش، سنجیدگی اور قوت کے ساتھ سرانجام دیتے

Author
AUTHOR

اگر ہم واقعی دل سے خدا اور کلیسیا کی خدمت کے لیے وقف ہوتے، تو ہم اس خدمت کو کہیں زیادہ جوش، سنجیدگی اور قوت کے ساتھ سرانجام دیتے:


 ہم میں سے ایسے کتنے خادمین ہیں جو پوری طاقت کے ساتھ وعظ کرتے ہیں؟ اور کتنے ایسے ہیں جو ہمیشہ کی زندگی اور ہمیشہ کے عذاب پر کلام اس انداز میں کرتے ہیں کہ سننے والے محسوس کریں کہ یہ بات سنجیدہ اور  سچے دل سے کہی جا رہی ہے؟ یہ منظر دیکھ کر دل دکھتا ہے کہ گنہگار، جو روحانی طور پر مردہ اور غافل ہیں، واعظ کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں، مگر کوئی ایسی بات نہیں سنتے جو اُنہیں جگا دے یا زندہ کر دے۔ افسوس! ہم اتنے سست اور نرم لہجے میں کلام کرتے ہیں کہ سوئے ہوئے گنہگار سن ہی نہیں پاتے۔ ہماری بات کا وار اتنا ہلکا ہوتا ہے کہ سخت دل لوگ  اُسے محسوس بھی نہیں کرتے۔ اکثر خادم اپنی آواز تک بلند نہیں کرتے اور نہ ہی خود کو سنجیدہ انداز میں کلام کرنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ اور اگر کبھی آواز بلند ہو بھی جائے، تو بھی کم ہی ہوتے ہیں جن کی بات میں وزن اور گہرائی ہوتی ہے۔ ایسی آواز کا بہت کم ہی  فائدہ ہوتا ہے، کیونکہ جب کلام میں طاقت نہ ہو تو لوگ اُسے صرف خالی  شور ہی سمجھتے ہیں۔دل کو دکھ ہوتا ہے جب یہ دیکھا جائے کہ بعض خادمین کے پاس بہترین تعلیم ہونے کے باوجود وہ اسے درست اور زندہ انداز میں لوگوں تک نہیں پہنچاتے، اور یوں بات اُنہی کے ہاتھوں بے اثر ہو جاتی ہے۔ اُن کے پاس گنہگاروں کو قائل کرنے کے لیے بہترین مواد ہوتا ہے، پھر بھی وہ اس سے پورا فائدہ نہیں اُٹھاتے۔ اگر وہ بات کو دل سے لیں تو بہت بھلا کر سکتے ہیں، مگر وہ یا تو کر نہیں پاتے یا کرنا ہی نہیں چاہتے۔ اے بھائیو! ہمیں اتنے اہم  پیغام کو کتنے صاف، کتنے قریب سے، اور کتنی سنجیدگی سے پہنچانا چاہیے، کیونکہ اس میں ہمارے لوگوں کی ہمیشہ کی زندگی یا ہمیشہ کی موت کا معاملہ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم سب سے زیادہ جس چیز میں کمزور ہیں وہ یہی سنجیدگی ہے؛ حالانکہ اس کام کے لیے سب سے زیادہ نامناسب چیز  یہی ہے کہ ہم ہلکے اور سست لہجے میں کلام کریں؟ کیا ہم خدا کے لیے اور لوگوں کی نجات کے لیے اتنے  ٹھنڈے انداز میں کلام کر سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ جانتے ہوئے کہ ہمارے سننے والے یا تو بدلیں گے یا ہلاک ہوں گے، اور پھر بھی خدا کے نام پر غنودہ لہجے میں کلام کریں؟  اے بھائیو! منبر پر جانے سے پہلے اپنے دلوں کو خود جگاؤ، تاکہ تم دوسروں کے دل جگانے کے قابل ہو سکوں۔ یاد رکھو، لوگوں کو یا تو جاگنا ہوگا یا ہلاک ہونا ہوگا، اور سویا ہوا خادم سوئے ہوئے گنہگاروں کو شاید ہی جگا سکے۔

اگرچہ تم خدا کی پاک باتوں کی تعریف عظیم الفاظ میں کرو، پھر بھی اگر انداز ٹھنڈا ہو تو تمہارا طریقہ خود تمہاری بات کی نفی کر دے گا۔ اور اس سے بڑھ کر خدا کے عظیم کلام  کی بے قدری کیا ہو سکتی ہے؟ کہ مقدس چیزوں کے بارے میں بے دلی سے کلام کیا جائے۔ اے بھائیو ، ہمارے صرف الفاظ ہی سے نہیں، بلکہ اندازِ   بیان سے  بھی خدا کے کلام کی عظمت  ظاہر  ہونی چاہیے۔ کیونکہ ہمیں  واعِظ 10:9  میں  یہ حکم دیا گیا ہے کہ ’’جو کام تمہیں کرنے کو ملے، اُسے دل لگا کر اور پوری طاقت کے ساتھ کرو۔‘‘، تو پھر لوگوں کی نجات کے لیے وعظ کرنا تو یقیناً پوری طاقت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ مگر افسوس، ایسے خادمین بہت کم ہیں! حتیٰ کہ اچھے خادمین میں بھی بہت کم ہی کوئی ایسا شخص ملتا ہے جو ایسا سنجیدہ، قائل کرنے والا اور طاقتور انداز میں  کلام کرے، کہ لوگ سن کر محسوس کریں کہ وہ واقعی وعظ کر رہا ہے۔میں تمہیں اس بات کی تلقین نہیں کرتا کہ وعظ ہمیشہ بلند آواز میں ہی کیا کرو، کیونکہ اس سے تمہارا جوش حقیر لگے گا۔ مگر یہ ضرور ہے کہ تمہارے انداز میں ہمیشہ سنجیدگی ہو۔ اور جب بات کا تقاضا ہو (خاص طور پر نصیحت اور دل پر اُتارنے کے وقت ) تو اپنی آواز بلند کرو اور پورے اختیار سے کلام کرو۔ لوگوں سے اس طرح کلام کرو جیسے وہ ایسے انسان ہوں جنہیں ضرور جاگنا ہے، چاہے یہاں یا پھر جہنم میں۔ ایمان کی آنکھ سے لوگوں پر نظر ڈالو، دل میں ہمدردی رکھو، اور سوچو کہ یہ سب ہمیشہ کے لیے یا تو ابدی زندگی میں ہوں گے یا ابدی عذاب میں۔ یہ خیال خود تمہیں سنجیدہ بنا دے گا اور تمہارا دل اُن کی حالت پر پگھل جائے گا۔ جنت اور جہنم جیسے عظیم معاملات پر ایک لفظ بھی ٹھنڈے انداز  یا بے پروائی کے ساتھ نہ کہو۔ جو کچھ بھی کہو، لوگوں پر ظاہر ہونا چاہیے کہ تم یہ بات سچے دل اور سنجیدگی  سے کہہ رہے ہو۔

 یقیناً اےبھائیو! یہ بہت بڑے کام ہیں، اور تم یہ نہ سمجھو کہ ہلکی پھلکی بات سے کام بن جائے گا۔ نہ ہنسی مذاق سے لوگوں کے پتھر دل ٹوٹے گے، نہ خوش کن کہانیاں سنا کر، اور نہ ہی بناوٹی اور چمک دار تقریروں سے۔ لوگ اپنی سب سے  پیاری خواہشات اُس شخص کی آہستہ اور بے جان کلام کی درخواست پر نہیں چھوڑتے جو خود سنجیدہ نظر نہ آئے اور جسے پروا ہی نہ ہو کہ اُس کی بات مانی جائے یا نہیں۔ اگر آپ کہیں کہ یہ کام خدا کا ہے، اور وہ سب سے کمزور وسیلے سے بھی کام کر سکتا ہے، تو میں جواب دوں گا، یہ سچ ہے، وہ کر سکتا ہے؛ لیکن پھر بھی اُس کا عام طریقہ یہ ہے کہ وہ وسائل کے ذریعے کام کرے، اور نہ صرف تبلیغ کا مواد بلکہ تبلیغ کا طریقہ  بیان بھی اپنے کام کا ذریعہ بناتا ہے۔ زیادہ تر سننے والوں کے لیے الفاظ کی ادائیگی  اور آواز کا اُتار چڑھاؤ بہت اہم ہوتا ہے۔ بہترین بات بھی اگر مؤثر انداز میں نہ کہی جائے تو دل پر اثر نہیں کرتی۔ خاص طور پر اس بات کا خیال رکھو کہ تمہاری بات میں بناوٹ نہ ہو، بلکہ ایسے سادہ اور مانوس انداز میں بات کرو جیسے تم کسی شخص سے آمنے سامنے بات کر رہے ہو۔ غیر فطری، کتابی یا رٹی رٹائی آواز ( جیسے کوئی طالب علم سبق سنا رہا ہو) اکثر لوگوں کو متاثر نہیں کرتی۔

اس لیے آؤ، ہم خود کو خدا کے کام کے لیے جگائیں، اور اپنے لوگوں سے اس طرح کلام کریں جیسے اُن کی زندگی کا معاملہ ہو۔ اُنہیں اس طرح بچانے کی کوشش کریں جیسے آگ سے کھینچ کر نکالا جا رہا ہو۔ شیطان محض نرمی سے اپنا قبضہ نہیں چھوڑتا؛ ہمیں گنہگاروں کی جانوں پر محاصرہ کرنا ہوگا، جو اُس کا قلعہ ہیں، اور اُس کی اصل طاقت کو پہچان کر خدا کے ہتھیاروں سے اُس پر حملہ کرنا ہوگا، اور مسلسل محنت کرنی ہوگی، یہاں تک کہ دراڑ  پیدا ہو جائے؛ اور پھر اُنہیں اپنی چالاکیوں سے دوبارہ اُس کی مرمت نہ کرنے دیں۔

چونکہ ہم عقل رکھنے والے انسانوں سے بات کر رہے ہیں، اور وہ اکثر اپنی عقل کو سچائی کے خلاف استعمال کرتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے وعظ دلائل سے بھرپور ہوں۔ ہمیں کلامِ مقدس اور عقل کی روشنی اس قدر صاف اور بہترانداز میں پیش کرنی چاہیے کہ بے دین لوگ چاہیں بھی تو حقیقت کو نہ جھٹلا سکیں، جب تک وہ جان بوجھ کر آنکھیں بند نہ کر لیں۔ ایک تقریر جو صرف الفاظ سے بھری ہو، چاہے کتنی ہی خوبصورتی سے مرتب کی گئی ہو، اگر اس میں  دلائل کی روشنی اور جوش و جذبہ نہ ہو، تو یہ محض ایک سجی ہوئی لاش یا بے جان تصویر کے برابر ہے۔ وعظ کے وقت روحوں کے درمیان ایک رشتہ بنتا ہے، اور واعظ کی روح سے سننے والوں کی روح تک کچھ منتقل ہوتا ہے۔ جیسے ہمارے اور اُن کے پاس عقل، ارادہ اور جذبات ہیں، ویسے ہی ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم اپنی عقل سے دلائل کی پوری روشنی اُن تک پہنچائیں، اور اپنے دل کی گرمی سے اُن کے دلوں میں پاک جذبات روشن کریں۔ جن عظیم سچائیوں کو ہم لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں، اُن کے حق میں خود عقل بھی گواہ ہے، اور وہ خدا کے کلام میں صاف صاف موجود ہیں۔

اس لیے ہمیں ہر طرح کے دلائل سے لیس ہونا چاہیے، تاکہ ہم اُن کی عقل و فہم  پر  بارش کی مانند برسیں، اور اپنے دلائل اور تنقید کے ذریعے اُن کے فضول اعتراضات کو شرمندہ کریں، اور سچائی کی قوت سے سب کچھ بہا لے جائیں، یہاں تک کہ وہ حق کے آگے جھکنے پر مجبور ہو جائیں۔