Donate
ARTICLE(URDU)

Asi Kalisiya ko kahbi mat chory jis mein ya nishaniya hu..?

Author
AUTHOR

 کلیسیا کی نشانیاں اور اُس کا اختیار:

ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ حقیقی کلیسیا کو پہچاننے کی نشانیاں یہ ہیں: خدا کے کلام کی منادی اور مقدس رسومات کی ادائیگی۔ کیونکہ یہ چیزیں جہاں بھی درست طور پر موجود ہوں، وہاں خدا کی برکت سے ضرور پھل  پیدا کرتی ہیں اور ترقی پاتی ہیں۔ میرا مطلب یہ نہیں کہ جہاں کلام سنایا جائے وہاں فوراً نتیجہ نظر آئے، بلکہ یہ کہ جہاں اِسے قبول کیا جائے اور یہ مضبوطی سے قائم ہو جائے، وہاں یہ لازماً اپنا اثر دکھاتا ہے۔ بہرحال، جہاں انجیل کی منادی ادب اور احترام سے سنی جاتی ہے اور مقدس رسومات کو نظرانداز نہیں کیا جاتا، وہاں اُس وقت کلیسیا کی صورت صاف طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ ایسی کلیسیا کے اختیار کو حقارت سے رد کرنا، اُس کی نصیحتوں کو ٹھکرانا، اُس کے مشوروں کی مخالفت کرنا، یا اُس کی تنبیہات کا مذاق اُڑانا کسی کے لیے بھی بے سزا نہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اُس سے علیحدگی اختیار کرنا اور اُس کی وحدت کو توڑنا بہت بڑا قصور ہے۔

خدا اپنی کلیسیا کی رفاقت کو بہت قیمتی سمجھتا ہے۔ جو لوگ ضد اور ہٹ دھرمی سے اپنے آپ کو اُس مسیحی جماعت سے الگ کر لیتے ہیں جہاں اُس کے کلام اور رسومات کی سچی خدمت قائم ہو، خدا اُنہیں دین سے پھر جانے والا سمجھتا ہے۔وہ کلیسیا کے اختیار کو اتنی اہمیت دیتا ہے کہ جب کوئی اُس کی بے عزتی کرتا ہے تو یہ گویا خدا کی خود اپنے اختیار کی توہین ہوتی ہے۔

کلیسیا کو "خدا کا گھر" اور "سچائی کا ستون اور بنیاد" کہا گیا ہے (1 تیمتھیس 15:3)۔ اِن الفاظ سے پولس رسول ظاہر کرتا ہے کہ دنیا میں سچائی کو باقی رکھنے کے لیے کلیسیا اُس کی وفادار نگہبان ہے، کیونکہ خدا نے پسند کیا ہے کہ وہ اپنے کلام کی پاک منادی کو کلیسیا کے ذریعے قائم رکھے۔ وہ ہمیں روحانی غذا دے کر اپنے آپ کو باپ کے طور پر ظاہر کرتا ہے اور ہماری نجات کے لیے ضروری سب کچھ مہیا کرتا ہے۔

مزید یہ کہ کلیسیا کی بڑی تعریف کی گئی ہے کہ مسیح نے اُسے اپنی دلہن کے طور پر چُنا اور جدا کیا ہے، "جس میں نہ داغ ہے نہ شکن" (افسیوں 27:5)۔ اسے "اُس کا بدن" بھی کہا گیا ہے، " اور اُسی کی معمُوری جو ہر طرح سے سب کو معمُور کرتی ہے۔" (افسیوں 23:1)۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کلیسیا سے بغاوت کرنا دراصل خدا اور مسیح کا انکار کرنا ہے۔

لہٰذا ہمیں ایسے ناحق اختلاف اور علیحدگی سے بہت بچنا چاہیے۔ کیونکہ ایسا کر کے ہم اپنی حد تک خدا کی سچائی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، اور یوں ہم اُس کے سخت غضب کے مستحق بنتے ہیں۔ اس سے بڑا جرم سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ کوئی شخص بے ادبی اور بے وفائی سے اُس مقدس رشتے کو توڑے جو خدا کے اکلوتے بیٹے نے ہمارے ساتھ قائم کیا ہے۔