Donate
ARTICLE(URDU)

Kiya Yesu Masih ko sirf Adult baptism ki hawale mein biyaan karna raawa hai ?

Author
AUTHOR

یسوع مسیح کے بپتسمہ سے متعلق الفاظ:

وہ کہتے ہیں کہ اُن کی سب سے مضبوط دلیل بپتسمہ کی ادائیگی کے بارے میں ہے، جو اُنہیں متی کی انجیل کے آخری باب میں ملتی ہے۔ جہاں  یسوع مسیح اپنے شاگردوں کو ساری دنیا میں بھیجتے ہوئے حکم دیتا ہے کہ پہلے تعلیم دیں اور پھر بپتسمہ دیں (متی 19:28)۔ اسی طرح مرقس کی انجیل کے آخری باب میں لکھا ہے کہ "جو ایمان لائے اور بپتسمہ لے وہ نجات پائے گا" (مرقس 16:16)۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس سے زیادہ اور کیا چاہیے؟ مسیح  یسوع کے اپنےالفاظ یہ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ تعلیم بپتسمہ سے پہلے ہونی چاہیے، اور بپتسمہ ایمان کے بعد آتا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خود خداوند نے مثال دی، کیونکہ اُس نے تیس برس کی عمر تک بپتسمہ نہیں لیا (متی 13:3؛ لوقا 21:3-22)۔ لیکن وہ یہاں کئی طرح سے خود کو الجھا لیتے ہیں اور اپنی لاعلمی ظاہر کرتے ہیں۔ وہ بڑی بچکانہ غلطی کرتے ہیں کہ بپتسمہ کی پہلی بنیاد اسی مقام سے نکالتے ہیں، حالانکہ مسیح نے اپنی خدمت کے آغاز ہی سے رسولوں کو بپتسمہ دینے کا حکم دیا تھا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ بپتسمہ کا حکم اور اصول صرف اِنہی دو حوالوں سے لیا جائے، گویا یہی اس کی ابتدا ہو۔

لیکن اگر ہم اُن کی بات مان بھی لیں، تو بھی اُن کی یہ دلیل کمزور ہے۔ اگر وہ الفاظ کی ترتیب پر اتنا زور دیتے ہیں کہ چونکہ کہا گیا ہے کہ "جاؤ، منادی کرو اور بپتسمہ دو"، اور پھر "جو ایمان لائے اور بپتسمہ لے"، اس لیے پہلے منادی اور ایمان ضروری ہے، تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ پہلے بپتسمہ دینا چاہیے اور پھر ان باتوں کی تعلیم دینا چاہیے جن کا مسیح نے حکم دیا، کیونکہ لکھا ہےکہ "اُنہیں بپتسمہ دو اور سکھاؤ کہ وہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تمہیں حکم دیا ہے۔"

اسی طرح ہم نے پہلے بھی دیکھا کہ جب مسیح نے پانی اور روح سے نئے جنم کی بات کی، تو اگر ہم اُن کی طرح الفاظ کی ترتیب پر زور دیں، تو بپتسمہ کو روحانی نئے جنم سے پہلے ہونا چاہیے، کیونکہ پانی کا ذکر پہلے ہے۔ مسیح نے یہ نہیں کہا کہ روح اور پانی سے، بلکہ کہا کہ پانی اور روح سے  پیدا ہونا ضروری ہے۔

مرقس 16:16 میں بچوں کا ذکر نہیں ملتا:

یہ وہ دلیل ہے جس پر وہ بہت زیادہ بھروسا کرتے ہیں، مگر یہ پہلے ہی کافی حد تک کمزور ہو چکی ہے۔ پھر بھی، چونکہ ہمارے پاس سادہ اور واضح سچائی موجود ہے، اسلیے  میں اس بات کو معمولی بہانوں یا کمزور دلِیلوں سے ٹالنا نہیں چاہتا۔، بلکہ اُنہیں ایک مضبوط جواب دینا چاہتا ہوں۔  

یہاں مسیح کا حکم بنیادی طور پر انجیل کی منادی کے بارے میں ہے، اور بپتسمہ اس کے ساتھ ایک تابع اور ضمنی چیز کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ مسیح بپتسمہ کا ذکر اسی حد تک کرتا ہے جس حد تک وہ تعلیم دینے کے کام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ کیونکہ مسیح اپنے شاگردوں کو اس لیے بھیجتا ہے کہ وہ دنیا کی سب قوموں میں انجیل کی خوشخبری سنائیں، تاکہ نجات کی تعلیم کے ذریعے اُن لوگوں کو، جو پہلے گمراہ تھے، اپنی بادشاہی میں جمع کریں۔ لیکن وہ لوگ کون ہیں؟ صاف ظاہر ہے کہ یہاں صرف اُنہی کا ذکر ہے جو اُس کی تعلیم کو قبول کرنے کے قابل ہیں۔ پھر وہ یہ بھی کہتا ہے کہ ایسے لوگ، تعلیم پانے کے بعد، بپتسمہ لیں، اور ساتھ یہ وعدہ بھی بیان کرتا ہے کہ "جو ایمان لائے اور بپتسمہ لے وہ نجات پائے گا"۔ کیا اس پوری گفتگو میں کہیں بھی بچوں کا ذکر ہے؟ بالکل نہیں۔ پھر وہ ہم پر کس طرح کی دلیل سے حملہ کرتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ بالغ لوگوں کو پہلے تعلیم دی جائے اور ایمان میں لایا جائے، پھر بپتسمہ دیا جائے، اس لیے بچوں کو بپتسمہ دینا ناجائز ہے۔

لیکن اس عبارت سے وہ زیادہ سے زیادہ یہی ثابت کر سکتے ہیں کہ انجیل کی  خوشخبری اُن لوگوں کو سنائی جائے جو اُسے سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور پھر اُنہیں بپتسمہ دیا جائے، کیونکہ یہاں صرف اُنہی لوگوں کی بات ہو رہی ہے۔ اس سے بچوں کے بپتسمہ کے راستے میں کوئی رکاوٹ ثابت نہیں کی جا سکتی۔

 یسوع کو بالغوں کے بپتسمہ کی مثال کے طور پر دِیکھانا:

لیکن میں اُن کے غلط دلائل کو ایک بہت آسان مثال سے اتنا واضح کروں گا کہ اندھے بھی سمجھ جائیں ۔ فرض کریں کوئی یہ کہے کہ بچوں کو کھانا نہیں دینا چاہیے، کیونکہ رسول نے کہا ہے کہ صرف محنت کرنے والے کھائیں (2تھسلنیکیوں 10:3)، تو کیا ایسا کہنے کرنے والے کو سب ہنسی کا نشانہ نہ بنائیں گے؟ کیوں؟ کیونکہ جو بات مخصوص لوگوں یا مخصوص عمر کے لیے کہی گئی، وہ اُسے سب پر لاگو کر رہا ہے۔ یہاں بھی یہی غلطی ہو رہی ہے۔ جو چیز صرف بالغوں کے لیے مقرر گئی تھی، وہ اُسے بچوں پر لاگو کر تے ہیں اور اُنہیں  ایسے اصول کے تابع کرتے ہیں جو صرف بالغوں کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔

جہاں تک ہمارے نجات دہندہ یسوع کی مثال کا تعلق ہے، یہ اُن کے موقف کی حمایت نہیں کرتا۔ یسوع کو تیس سال کی عمرسے پہلے بپتسمہ نہیں دیا گیا۔ یہ سچ ہے، لیکن وجہ واضح ہے؛ کیونکہ اُس وقت اُس نے بپتسمہ کی مضبوط بنیاد کو اپنی تعلیم کے ذریعے قائم کرنے کا اِرادہ کیا، یا پھر یوحنا نے جو پہلے بنیاد رکھی تھی، اُسے مضبوط کیا۔ لہٰذا جب اُس نے چاہا کہ مقرہ وقت میں اپنی تعلیم کے ذریعے بپتسمہ قائم کریں، تاکہ اپنے ادارے کو زیادہ اختیار دے سکیں، تو سب سے مناسب وقت پر اُس نے اِسے خود پر یعنی اپنی خدمت کے آغاز میں مقدس قرار دیا۔

آخر میں، وہ صرف یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ بپتسمہ کی ابتدا اور آغاز انجیل کی تبلیغ سے ہوئی۔لیکن اگر وہ تیس سال کی عمر پر زور دیتے ہیں،   تو پھر وہ خود  یہ اصول کیوں نہیں مانتے اور ہر شخص کو اُس کے اپنے خیال کے مطابق بپتسمہ کیوں دے دیتے ہیں؟ بلکہ اُن کے ایک استاد، سروِیٹس (Servetus)، نے بھی سختی سے اس مدت پر اصرار کیا، مگر خود  وہ اکیس سال کی عمر میں نبی کا کام کرنے لگا؛ گویا کوئی بھی شخص چرچ میں شامل ہونے سے پہلے خود کو اُستاد یا رہنما قرار دینے کی اجازت رکھتا ہے۔