Donate
ARTICLE(URDU)

Kiya sirf Naam, Rasmein, aur Jaa-nashini Kalisiya ko sucha sabit kar sakti hai..?

Author
AUTHOR

 جھوٹی کلیسیا اپنے بڑے دعووں کے باوجود ثابت کرتی ہے کہ وہ خدا کے کلام کو نہیں سنتی:

آج کے زمانے میں رومن کیتھولک کلیسیا کے ماننے والوں کا دعویٰ ویسا ہی ہے جیسا کبھی یہودی کیا کرتے تھے، جب خدا کے نبی اُنہیں اندھے پن، بے دینی اور بت پرستی پر ملامت کرتے تھے۔  جس طرح یہودی اپنی ہیکل، رسموں اور کاہنوں پر فخر کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ یہی کلیسیا کی پہچان ہے، اُسی طرح رومن کیتھولک لوگ بھی ہمیں کلیسیا کے نام پر کچھ ظاہری نشانیاں دِکھاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ظاہری چیزیں اکثر کلیسیا سے حقیقی طور پر جڑی ہوئی نہیں ہوتیں، اور کلیسیا اِن کے بغیر بھی قائم رہ سکتی ہے۔

اس لیے ہمیں اُن کی تردید کے لیے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں، سوائے اُس دلیل کے جو یرمیاہ نبی نے یہودیوں کے خلاف پیش کی تھی کہ  "جُھوٹی باتوں پر بھروسا نہ کرو اور یُوں نہ کہتے جاؤ کہ یہ ہے خُداوند کی ہَیکل۔ خُداوند کی ہَیکل۔ خُداوند کی ہَیکل۔" (یرمیاہ 4:7)۔  خدا صرف اُسی جگہ کو اپنا مانتا ہے جہاں اُس کا کلام سنا اور دیانتداری سے مانا جاتا ہے۔ اگرچہ خدا کا جلال کروبیوں کے درمیان ہیکل میں ظاہر ہوتا تھا (حزقی ایل 4:10)، اور اُس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ وہاں سکونت کرے گا، لیکن جب کاہنوں نے اُس کی عبادت کو بگاڑ دیا اور غلط رسمیں شامل کر دیں، تو خدا نے اپنی حضوری وہاں سے ہٹا لی اور وہ جگہ اپنی پاکیزگی کھو بیٹھی۔

 اگر وہ ہیکل، جو ہمیشہ کے لیے خدا کی رہائش گاہ سمجھی جاتی تھی، خدا کی طرف سے چھوڑ دی گئی، تو رومن کیتھولک لوگوں کے پاس کوئی دلیل نہیں کہ وہ کہیں خدا اشخاص، مقامات یا ظاہری رسموں کا پابند ہے اور وہاں ضرور رہے گا جہاں صرف کلیسیا کا نام اور شکل باقی ہو (رومیوں 6:9)۔ پولُس رسول رومیوں کے خط کے نویں سے بارھویں باب تک اِسی مسئلے پر بات کرتا ہے۔  بہت سے کمزور ایمان والے پریشان تھے کیونکہ جو لوگ خدا کی قوم کہلاتے تھے، وہی انجیل کی تعلیم کو رد کرتے اور اُس پر ظلم بھی کرتے تھے۔  پولُس تعلیم کی وضاحت کے بعد یہ مشکل حل کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ یہودی جو سچائی کے دشمن تھے، حقیقت میں کلیسیا نہیں تھے، حالانکہ اُن کے پاس ظاہری طور پر کلیسیا کی تمام نشانیاں موجود تھیں۔ اُن کے کلیسیا نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اُنہوں نے مسیح کو قبول نہیں کیا۔
گلتیوں کے خط میں پولُس اسماعیل اور اسحاق کی مثال دیتا ہے اور صاف کہتا ہے کہ بہت سے لوگ کلیسیا میں جگہ تو رکھتے ہیں لیکن اصل میراث اُن کی نہیں، کیونکہ وہ آزاد عورت کی نسل سے نہیں ہیں۔ وہ دو یروشلیم کا مقابلہ کرتا ہے: ایک جو شریعت سے جڑا ہے اور غلامی کی علامت ہے، اور دوسرا جو آزادی کی علامت ہے۔  بہت سے لوگ جو غلامی میں  پیدا ہوئے اور پلے بڑھے، فخر سے کہتے ہیں کہ وہ خدا اور کلیسیا کے بیٹے ہیں، حالانکہ وہ خود بگڑے ہوئے ہیں اور خدا کے سچے بیٹوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔

ہمیں بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آسمان سے یہ حکم دیا گیا تھا کہ "لونڈی اور اُس کے بیٹے کو نکال دو۔"  لہٰذا ہمیں اس مضبوط حکم پر بھروسا کرنا چاہیے اور اُن کے بے معنی فخر کو رد کرنا چاہیے۔  اگر وہ ظاہری نشانوں پر فخر کرتے ہیں، تو اسماعیل بھی مختون تھا۔ اگر وہ قدامت پر فخر کرتے ہیں، تو وہ پہلوٹھا تھا۔ پھر بھی وہ رد کر دیا گیا۔  پولُس کہتا ہے (رومیوں 6:9) کہ صرف وہی خدا کے بیٹے شمار ہوتے ہیں جو سچی اور خالص تعلیم کے مطابق  پیدا ہوئے ہوں۔ اسی بنیاد پر خدا نے کہا کہ وہ بُرے کاہنوں کا پابند نہیں، حالانکہ اُس نے اُن کے باپ لاوی سے عہد کیا تھا (ملاکی 4:2)۔  کاہن اپنے منصب پر فخر کرتے تھے، مگر خدا نے کہا کہ اگر وہ خود عہد کو پورا نہیں کرتے تو وہ رد کیے جائیں گے۔

پس اگر جانشینی کے ساتھ صحیح تعلیم اور عمل نہ ہو، تو ایسی جانشینی کی کوئی قدر نہیں۔  اگر بعد میں آنے والے لوگ اپنے اصل سے ہٹ جائیں، تو اُن کی عزت ختم ہو جاتی ہے۔  کیا ہم کہیں گے کہ صرف اس لیے کہ  کائِفا پہلے نیک کاہنوں کے بعد آیا، اور ہارون سے لے کر اُس تک سلسلہ جاری تھا، تو اُس کی بدکار مجلس کو کلیسیا کہا جائے؟ دنیاوی حکومتوں میں بھی کوئی یہ قبول نہیں کرے گا کہ کیلیگولا، نیرو یا دوسرے ظالم حکمرانوں کی حکومت کو اس لیے درست کہا جائے کہ وہ پہلے اچھے حکمرانوں کے بعد آئے تھے۔  خاص طور پر کلیسیا کی حکومت میں یہ بات بالکل بے معنی ہے کہ تعلیم کو نظر انداز کر کے صرف اشخاص کی جانشینی کو اہم سمجھا جائے۔ جن مقدس اُستادزہ کا وہ حوالہ دیتے ہیں، اُن کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ جہاں جہاں بزرگوں کا سلسلہ جاری رہے وہاں خود بخود کلیسیا بھی قائم رہتی ہے۔  بلکہ چونکہ اُن کے زمانے تک تعلیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، اس لیے وہ کہتے تھے کہ رسولوں کی متفقہ تعلیم کے خلاف بات کرنا غلط ہے۔

لہٰذا اب اُن کے پاس کلیسیا کے نام کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں۔  جب ہم کلیسیا کی صحیح تعریف پر آتے ہیں، تو وہ خود اپنے دعووں میں پھنس جاتے ہیں، کیونکہ وہ مسیح کی پاک دلہن کی جگہ ایک بگڑی ہوئی عورت کو کھڑا کر تے ہیں۔ جس سے ہمیں دھوکا نہیں کھانا چاہیے، آؤ  آگسٹین کی اس نصیحت پر غور کریں۔
 وہ کہتا ہے کہ "کبھی کبھی کلیسیا بہت سے جھگڑوں اور بُرے واقعات کی وجہ سے کمزور اور دھندلی نظر آتی ہے۔ کبھی امن کے دنوں میں وہ پُرسکون اور ٹھیک حالت میں دکھائی دیتی ہے۔ اور کبھی مشکلات اور آزمائشوں کے طوفان میں گھری ہوئی نظر آتی ہے۔" (آگسٹین، خط 48) وہ مثال دیتا ہے کہ کئی بار کلیسیا کے مضبوط ستون ایمان کی خاطر جلاوطن ہوئے یا دنیا میں چھپ کر رہنے پر مجبور ہوئے۔