کلیسیا خدا کے کلام پر قائم ہے:
آج کل رومن کیتھولک کلیسیا کے لوگ بھی ہم پر اسی طرح حملہ کرتے ہیں اور ناتجربہ کار لوگوں کو "کلیسیا" کے نام سے ڈراتے ہیں، حالانکہ وہ خود مسیح کے سخت مخالف ہیں۔ اس لیے اگر وہ ہیکل، کاہنوں کا نظام اور ایسی دوسری ظاہری چیزیں پیش بھی کریں، تو اُن کی یہ چمک دمک ہمیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے گی کہ ہم وہاں کلیسیا کو مان لیں جہاں خدا کا کلام موجود نہیں۔
خداوند نے ہمیں ایک واضح اور پکا معیار دیا ہے جب اُس نے فرمایا کہ "جو کوئی سچائی سے ہے وہ میری آواز سنتا ہے" (یوحنا 37:18)۔ پھر اُس نے فرمایا کہ " اچھا چرواہا میں ہوں، اور میں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہوں اور وہ مجھے جانتی ہیں"۔ "میری بھیڑیں میری آواز سنتی ہیں، میں اُنہیں جانتا ہوں اور وہ میرے پیچھے چلتی ہیں"۔ اور اس سے پہلے اُس نے کہا تھا کہ جب چرواہا اپنی بھیڑوں کو باہر نکالتا ہے تو وہ اُن کے آگے آگے چلتا ہے، اور بھیڑیں اُس کے پیچھے چلتی ہیں کیونکہ وہ اُس کی آواز کو پہچانتی ہیں۔ لیکن وہ کسی اجنبی کے پیچھے نہیں جاتیں بلکہ اُس سے بھاگتی ہیں، کیونکہ وہ اجنبی کی آواز کو نہیں پہچانتیں (یوحنا 14:10، 4–5)۔
پھر ہم خود کیوں اتنے نادان بنیں کہ کلیسیا کا اندازہ اپنی مرضی سے لگائیں، جبکہ مسیح نے خود اُس کی ایک صاف اور واضح نشانی بتا دی ہے؟ یہ نشانی ہر جگہ ظاہر ہے: جہاں اُس کی آواز سنی جاتی ہے، وہاں کلیسیا موجود ہے؛ اور جہاں اُس کی آواز نہیں سنی جاتی، وہاں حقیقی کلیسیا بھی نہیں۔ پولُس رسول کہتا ہے کہ کلیسیا انسانوں کی رائے یا کاہنوں کے عہدے پر نہیں بلکہ رسولوں اور نبیوں کی تعلیم پر قائم ہے (افسیوں 20:2)۔ اسی معیار سے یروشلیم اور بابل میں فرق کیا جا سکتا ہے، یعنی مسیح کی کلیسیا اور شیطان کی سازش میں فرق۔ جیسا کہ ہمارے نجات دہندہ نے فرمایا کہ "جو خدا سے ہے وہ خدا کی باتیں سنتا ہے؛ تم اس لیے نہیں سنتے کیونکہ تم خدا سے نہیں ہو" (یوحنا 47:8)۔
مختصر یہ کہ چونکہ کلیسیا مسیح کی بادشاہی ہے اور وہ صرف اپنے کلام کے ذریعے حکومت کرتا ہے، تو کیا اس میں کوئی شک ہو سکتا ہے کہ وہ دعوے جھوٹے ہیں جو مسیح کی بادشاہی کو اُس کے عصا یعنی اُس کے پاک کلام کے بغیر قائم دکھاتے ہیں؟