Donate
ARTICLE(URDU)

Kiya Roman Catholic Church sy alaq hona tafirqa-bazi han ya Masih Yesu k sath ithad ki nishani..?

Author
AUTHOR

مسیح کی سربراہی ہی اتحاد کی شرط ہے:

سائپرین بھی پولُس کی  پیروی کرتے ہوئے کلیسیا کے اتحاد کی جڑ مسیح کی واحد سربراہی میں پاتا ہے۔ پھر وہ کہتا ہے کہ  " کلیسیا ایک ہے، جو بڑھتے ہوئے پھیلاؤ کے ساتھ بہت سے لوگوں تک پھیلتی جاتی ہے۔ جیسے سورج کی کرنیں بہت سی ہوتی ہیں مگر روشنی ایک ہی ہوتی ہے۔ جیسے درخت کی شاخیں بہت سی ہوتی ہیں مگر تنا ایک ہوتا ہے جو مضبوط جڑ سے قائم رہتا ہے۔ جیسے ایک چشمے سے بہت سی نہریں نکلتی ہیں، اور اگرچہ پانی کی کثرت سے وہ دور دور تک پھیل جاتی ہیں، پھر بھی اُن کی اصل ایک ہی رہتی ہے۔ اگر سورج کی ایک کرن کو سورج سے الگ کر دیا جائے تو وہ قائم نہیں رہ سکتی۔ اگر درخت کی ایک شاخ توڑ دی جائے تو وہ بڑھ نہیں سکتی۔ اگر کسی نہر کو چشمے سے کاٹ دیا جائے تو وہ سوکھ جاتی ہے۔ اسی طرح کلیسیا بھی خداوند کے نور سے روشن ہو کر پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے، لیکن اُس کا نور ایک ہی ہے۔"

ان الفاظ سے بہتر انداز میں یہ بات بیان نہیں کی جا سکتی کہ مسیح کے تمام اعضا ایک دوسرے سے کتنے مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بار بار ہمیں سر یعنی مسیح کی طرف واپس لاتا ہے۔ اسی لیے وہ کہتا ہے کہ جب بدعتیں اور تفرقے پیدا ہوتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ سچائی کے اصل منبع کی طرف نہیں لوٹتے، سر  یعنی مسیح کو تلاش نہیں کرتے، اور آسمانی اُستاد کی تعلیم پر قائم نہیں رہتے۔

اب رومن کیتھولک لوگ چاہیں تو ہمیں بدعتی کہہ کر شور مچاتے رہیں کہ ہم اُن کی کلیسیا سے الگ ہو گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اُن سے اس لیے جدا ہوئے کیونکہ وہ سچائی کے خالص اقرار کو برداشت نہیں کرتے۔ میں اس بات کا ذکر بھی نہیں کرتا کہ اُنہوں نے ہم پر لعنت اور تکفیر کر کے ہمیں نکال دیا۔ ہمارا عذر یہی کافی ہے، جب تک کہ وہ رسولوں کو بھی تفرقہ باز نہ قرار دیں، کیونکہ ہمارا معاملہ اُن کے ساتھ ایک جیسا ہے۔

مسیح نے اپنے رسولوں کو پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ  "وہ تمہیں عبادت گاہوں سے نکال دیں گے" (یوحنا 2:16)۔  جن عبادت گاہوں کا وہ ذکر کر رہا تھا، اُس وقت وہ جائز کلیسیائیں سمجھی جاتی تھیں۔ پس جب یہ بات یقینی ہے کہ ہمیں نکالا گیا، اور ہم دکھا سکتے ہیں کہ یہ سب مسیح کے نام کی وجہ سے ہوا، تو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اصل وجہ کو جانچنا چاہیے۔ 

لیکن اگر وہ ایسا نہ بھی کریں، تو میرے لیے یہی کافی ہے کہ ہم نے اُن (رومن کیتھولک) سے الگ ہو کر مسیح کے قریب ہونے کا راستہ اختیار کیا۔