پہلی صدی میں رسولوں کے زمانہ میں کلیسیا سادہ اور روحانی بنیاد پر قائم تھی۔ اعمال 42:2 میں لکھا ہے کہ ایماندار "رسولوں کی تعلیم، رفاقت، روٹی توڑنے اور دُعا میں مشغول رہتے تھے"۔ اُس وقت کوئی مرکزی عالمی ادارہ موجود نہ تھا۔ مختلف شہروں میں جماعتیں تھیں، جیسے یروشلیم، انطاکیہ، کرنتھس اور روم وغیرہ۔ ہر جگہ بزرگ (Elders) اور خادم (Deacons) مقرر ہوتے تھے (اعمال 23:14، فلپیوں 1:1)۔
لیکن جیسے جیسے رسولوں کا زمانہ ختم ہوا، کلیسیا کو نئی مشکلات کا سامنا ہوا۔ بدعتیں پیدا ہوئیں، جھوٹی تعلیمات آئیں، اور بیرونی ظلم بھی ہوا۔ اس ماحول میں کلیسیا کے اندر قیادت کو مضبوط کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ اسی پسِ منظر میں بشپ (Bishop) کا عہدہ زیادہ نمایاں ہونے لگا۔ دوسری صدی کے شروع میں اَنطاکیہ کے بزرگ اِغناشیس نے اپنے خطوط میں مقامی بشپ کی اطاعت پر زور دیا تاکہ جماعت میں اتحاد قائم رہے۔ اُس کا مقصد نظم و ضبط اور تعلیم کی حفاظت تھا، نہ کہ طاقت کا حصول۔
وقت کے ساتھ ساتھ بعض بڑے شہروں کے بشپ زیادہ بااثر ہو گئے، خاص طور پر روم، انطاکیہ اور اسکندریہ کے بشپ۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ یہ شہر سیاسی اور ثقافتی لحاظ سے اہم تھے۔ روم اُس وقت رومی سلطنت کا دارالحکومت تھا، اس لیے وہاں کی جماعت کو خاص
اہمیت ملنے لگی۔ مگر دوسری اور تیسری صدی میں بھی کلیسیا ایک متحد عالمی ادارہ نہیں بنی تھی۔ ہر شہر کی جماعت نسبتاً خودمختار تھی۔
تیسری اور چوتھی صدی میں حالات میں بڑی تبدیلی آئی۔ سن 313ء میں شہنشاہ کانسٹنٹائن اعظم( Constantine the Great )نے میلان کے فرمان کے ذریعے مسیحیوں کو مذہبی آزادی دی۔ اس سے پہلے مسیحی اکثر ظلم و ستم کا شکار رہتے تھے، مگر اب کلیسیا کو سرکاری تحفظ مل گیا۔ یہ ایک بڑی نعمت بھی تھی اور ایک نیا امتحان بھی۔ کانسٹنٹائن کے بعد کلیسیا کو سرکاری سرپرستی ملنے لگی۔ بڑے بڑے گرجا گھر تعمیر ہوئے، بشپ سرکاری مشوروں میں شامل ہونے لگے، اور سن 325ء میں نیقیہ (Nicean) کی مشہور کونسل منعقد ہوئی تاکہ آریوسی بدعت (Arian heresy) کا مقابلہ کیا جا سکے۔ یہ کونسل مسیح کی الوہیت کی تصدیق کے لیے بہت اہم تھی۔ مگر اسی دور میں کلیسیا اور ریاست کا تعلق گہرا ہوتا گیا، جس سے بعض اوقات روحانی سادگی متاثر ہوئی۔
روم کے بشپ کی حیثیت بھی آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی گئی۔ چونکہ روم سلطنت کا دارالحکومت تھا اور کلیسائی روایت کے مطابق پطرس اور پولُس رسول وہاں شہید ہوئے تھے، اس لیے روم کی جماعت کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ چوتھی اور پانچویں صدی میں روم کے بشپ نے وسیع اختیارات کا دعویٰ کرنا شروع کیا۔ مثال کے طور پر Leo I (پانچویں صدی) نے بشپ روم کے اختیار پر زور دیا۔ لیکن یہ ترقی آہستہ آہستہ ہوئی، اور شروع کی صدیوں میں موجودہ شکل کی "رومن کیتھولک کلیسیا" ابھی وجود میں نہیں آئی تھی۔
یہ سب تاریخی حقیقتیں ہیں: بشپوں کا اختیار بڑھا، کلیسیا کو سرکاری طاقت ملی، اور روم کی حیثیت مستحکم ہوئی۔ مگر یہ کہنا درست نہیں کہ اس وقت پوری کلیسیا فوراً بگڑ گئی یا ایمان ختم ہو گیا۔ تاریخ اس سے کہی زیادہ پیچیدہ ہے۔ اِسی زمانہ میں خدا نے اپنے وفادار خادم بھی کھڑے کیے۔ آریوسی تنازعہ (Arian heresy) کے دوران اِسکندر کے بزرگ اَتھناسیُس نے مسیح کی الوہیت کا دفاع کیا، حالانکہ بہت سے راہنما دباؤ میں آ گئے تھے۔ اُس نے جلاوطنی برداشت کی مگر سچائی پر قائم رہا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اداروں کے اندر رہتے ہوئے بھی خدا وفادار
گواہ پیدا کرتا ر ہا ہے۔
اسی طرح بزرگ آگسٹین (چوتھی اور پانچویں صدی) نے فضل، گناہ اور نجات کے بارے میں گہری تعلیم دی۔ اُس نے یہ واضح کیا کہ انسان اپنی قوت سے نجات حاصل نہیں کر سکتا بلکہ خدا کے فضل کا محتاج ہے۔ یہ تعلیم بعد میں رِفارمڈ پروٹسٹنٹ الہیات میں بھی نمایاں ہوئی۔ اگر کلیسیا مکمل طور پر بگڑ چکی ہوتی تو ایسی بائبلی تعلیم محفوظ نہ رہتی۔ بائبل ہمیں پہلے ہی خبردار کرتی ہے کہ کلیسیا میں کمزوریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اعمال 29:20-30 میں پولُس رسول بزرگوں سے کہتا ہے کہ " مَیں یہ جانتا ہُوں کہ میرے جانے کے بعد پھاڑنے والے بھیڑئے تُم میں آئیں گے جِنہیں گلّہ پر کُچھ ترس نہ آئے گا۔ اور خُود تُم میں سے اَیسے آدمی اُٹھیں گے جو اُلٹی اُلٹی باتیں کہیں گے تاکہ شاگِردوں کو اپنی طرف کھینچ لیں۔" اس سے ظاہر ہے کہ خطرہ شروع سے موجود تھا۔ مگر اسی باب میں پولُس یہ بھی کہتا ہے کہ خدا کا کلام اُس کے لوگوں کو قائم
رکھنے کے لیے کافی ہے۔
لہٰذا ابتدائی صدیوں کی تاریخ ہمیں ایک متوازن تصویر دِکھاتی ہے۔ ایک طرف قیادت کا ڈھانچہ مضبوط ہوا، ریاستی طاقت شامل ہوئی، اور روم کی اہمیت بڑھی۔ دوسری طرف خدا نے اپنے وفادار خادموں کے ذریعے سچائی کی حفاظت کی۔ یہ وہی اصول ہے جو ہم پہلے باب میں دیکھ چکے ہیں: خدا اپنے فضل سے اپنی کلیسیا کو محفوظ رکھتا ہے، چاہے انسانی نظام کامل نہ بھی ہو۔
اس باب کا مقصد یہ نہیں کہ ہم ابتدائی صدیوں کو مکمل تاریکی قرار دیں، بلکہ یہ کہ ہم سمجھیں کہ کلیسیا انسانی کمزوریوں کے باوجود باقی رہی۔ مسیح کا وعدہ قائم رہا، اور سچائی کے گواہ ہر دور میں موجود رہے۔ یہی حقیقت ہمیں تاریخ کو سکون اور دیانتداری سے دیکھنے میں مدد دیتی ہے۔