Donate
ARTICLE(URDU)

Augustine ki talemaat jo Reformed Protestant church ki buneyaad bani..?

Author
AUTHOR

 آگسٹین اور خدا کا حاکمانہ فضل:

اس باب میں ہم چوتھی اور پانچویں صدی کے ایک اہم مسیحی عالم اور بشپ کی تعلیمات کو دیکھتے ہیں جن کا نام "بزرگ آگسٹین" (Augustine of Hippo) ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فضل، الٰہی تقدیرِ/انتخاب اور نجات کے بارے میں اُس کی تعلیمات بعد میں رِیفارمڈ پروٹسٹنٹ کلیسائی ایمان کے ساتھ بہت زیادہ ملتی ہیں۔ اسی لیے اصلاحِ کلیسیا کے زمانہ میں مصلحین (Protestant-Reformers ) نے اُس کی تحریروں کو اہم حوالہ کے طور پر استعمال کیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فضل کی یہ تعلیم سولہویں صدی کی ایجاد نہیں تھی بلکہ کلیسیا میں پہلے سے  ہی موجود تھی۔ آگسٹین نے اپنی زندگی کے شروع میں مختلف فلسفوں اور نظریات کو آزمایا، لیکن بعد میں وہ سچے مسیحی ایمان کی طرف واپس آیا اور کلیسیا کا ایک بڑا رہنما بنا۔ اُس نے کئی اہم کتابیں لکھیں، جیسے "اعترافات"  (Confessions) اور "مقدسین کی تقدیرِ الٰہی کے بارے میں" (On the Predestination of the Saints)۔ اِن کتابوں میں اُس نے گناہ، فضل اور نجات کے بارے میں گہری اور بائبلی تعلیم دی۔

انسان کی آزادانہ مرضی کی غلامی:

آگسٹین نے سکھایا کہ انسان جو ماں باپ کے ملاپ سے  پیدا ہوتا ہے دراصل گناہ میں  جنم لیتا ہے اور اپنی طاقت سے خدا کی طرف نہیں آ سکتا۔ بائبل بھی یہی تعلیم دیتی ہے۔ رومیوں 10:3–12 میں لکھا ہے کہ "کوئی راستباز نہیں، ایک بھی نہیں… کوئی خدا کا طالب نہیں"۔ اسی طرح یرمیاہ 9:17 میں بتایا گیا ہے کہ "دل سب چیزوں سے زیادہ مکّار ہے اور لاعلاج ہے"۔

آگسٹین نے اِن آیات کی بنیاد پر کہا کہ انسان کی مرضی گناہ کے باعث گناہ غلامی میں باندِھی ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس سوچنے اور انتخاب کرنے کی صلاحیت تو ہے، لیکن اُس کی خواہشات ہمیشہ گناہ کی طرف  ہی مائل رہتی ہیں۔ وہ خود سے نجات حاصل نہیں کر سکتا جب تک خدا کا فضل پہلے اُس کے دل کو نہ بدلے۔ یہی تعلیم بعد میں رِیفارمڈ پروٹسٹنٹ الہیات میں "انسانی آزادانہ مرضی کا گناہ کی غلامی میں گِرنا" کے نام سے مشہور ہوئی۔ جسے  رِیفارمڈ پروٹسٹنٹ الہیات کے اُستاد جان کیلون (John Calvin) نے بھی اپنی کتاب "مسیحی مذہب کی بنیادی تعلیمات"(Institutes of the Christian Religion) میں واضح کیا کہ نجات کا عمل انسان کے اپنے اچھے اعمال کا  نتیجہ نہیں بلکہ خدا کے فضل سے شروع ہوتا ہے۔

الٰہی تقدیرِ/انتخاب:

آگسٹین نے یہ بھی سکھایا کہ خدا اپنے الٰہی و ازلی علم اور منصوبے کے مطابق کچھ لوگوں کو نجات کے لیے چنتا ہے۔ اُس نے خاص طور پر اپنی کتاب"مقدسین کی تقدیرِ الٰہی" میں لکھا کہ ایمان اور نجات خدا کی طرف سے دی گئی نعمتیں ہیں۔ یہ تعلیم بائبل کے مطابق افسیوں 4:1–5 کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، جہاں لکھا ہے کہ خدا نے ہمیں دنیا کے وجود میں آنے سے پہلے چن لیا اور اپنی مرضی کے نیک اِرادہ کے مُوافِق مسِیح یِسُوعؔ میں نجات کے لیے مقرر کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نجات کا منصوبہ خدا نے پہلے سے بنایا تھا۔ انسان اپنی کوشش سے خدا کو نہیں چنتا، بلکہ خدا پہلے انسان کو چنتا ہے۔ آگسٹین کی یہ تعلیم بعد میں رِیفارمڈ پروٹسٹنٹ کلیسیا کے ایمان کا اہم حصہ بنی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقدیر اور انتخاب کا نظریہ نیا نہیں ہے بلکہ ابتدائی کلیسیا میں بھی اس پر سنجیدگی سے بات کی جاتی تھی۔

ایمان میں ثابت قدمی:

آگسٹین نے یہ بھی سکھایا کہ جن لوگوں کو خدا نے اپنے لیے چنااور مسِیح یِسُوعؔ پر ایمان کے وسیلہ سے نجات بخشی ہے، وہ اُس کے فضل سے آخر تک قائم بھی رہتے ہیں۔ اِس تعلیم کو بعد میں "مقدسین کی ثابت قدمی"  کے نام سے یاد رکھا گیا، اس کے بارے میں یسوع مسیح یوحنا 28:10 میں فرماتا ہے کہ " مَیں اُنہیں ہمیشہ کی زِندگی بخشتا ہُوں اور وہ ابد تک کبھی ہلاک نہ ہوں گی اور کوئی اُنہیں میرے ہاتھ سے چِھین نہ لے گا"۔ یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ نجات مسیح کے ہاتھ میں محفوظ ہے۔

آگسٹین نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایمان سے مکمل طور پر پھِر جائے اور مسیح سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شروع سے حقیقی طور پر نجات کے لیے منتخب ہوا ہی نہیں تھا۔ اس تعلیم میں وہ واضح کرتا ہے کہ حقیقی ایمان خدا کے تحفظ سے قائم رہتا ہے۔

ایمان سے پہلے خدا کا کام:

آگسٹین کی ایک مشہور دُعا ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ "اے خداوند، تو جو حکم دیتا ہے اُس کو پورا کرنے کی توفیق بھی عطا کر تاکہ میں اُس پر عمل کر سکوں"۔ اِس دُعا کا مطلب یہ ہے کہ انسان پہلے خدا کے فضل سے اندرونی طور پر بدلتا ہے، پھر ہی وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ ایمان اور فرمانبرداری کر سکے ۔ یوحنا 44:6 میں یسوع فرماتا ہےکہ  "کوئی میرے پاس نہیں آ سکتا جب تک باپ جس نے مجھے بھیجاہے  اُسے کھینچ نہ لے"۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا آغاز انسان کی اپنی کوشش سے نہیں ہوتا بلکہ خدا پہلے انسان کے دل میں کام کرتا ہے، تب ہی کوئی ایمان لاتا ہے (حِزقی ایل 26:36-27) ۔

آگسٹین نے اِسی حقیقت پر زور دیا کہ فضل ایمان سے پہلے آتا ہے۔ خدا پہلے انسان کے دل کو نرم کرتا ہے، پھر انسان ایمان کے ساتھ جواب دیتا ہے۔ یہ تعلیم بھی بعد میں رِیفارمڈ پروٹسٹنٹ کلیسیا کے ایمان میں مرکزی حیثیت کی حامل بنی۔

تاریخی اہمیت:

پانچویں صدی میں کلیسیا کے اندر مختلف نظریات موجود تھے۔ کچھ لوگ انسان کی آزادانہ مرضی پر زیادہ زور دیتے تھے، جبکہ آگسٹین نے خدا کے حاکمانہ فضل اور الٰہی تقدیرِ/انتخاب پر زور دیا۔ اُس کی تعلیمات نے کلیسیا کی سوچ پر گہرا اثر ڈالا۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اُس زمانہ میں موجود کلیسیا آج کی مکمل شکل والی "رومن کیتھولک کلیسیا"  کی طرح منظم اِدارہ نہیں تھی جیسا کہ بعد کی صدیوں میں بنی۔ مگر آگسٹین اُس تاریخی کلیسیا کا حصہ تھا جسے ہم کیتھولک یعنی عالمگیر کلیسیا کہتے  ہیں ، اور اُس نے بائبلی سچائی کو مضبوط انداز میں  بیان کیا۔

جب سولہویں صدی میں اصلاحِ کلیسیا ہوئی تو مصلحین نے خاص طور پر آگسٹین کی تحریروں کو دلیل کے طور پر پیش کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اصلاحی پروٹسٹنٹ کلیسیا کے ایمان نے کوئی نئی تعلیم ایجاد کی، بلکہ یہ کہ اُس نے ابتدائی کلیسائی بزرگوں میں موجود بائبلی سچائی کو دوبارہ واضح کیا۔

نتیجہ:

آگسٹین کی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ انسان  پیدائش ہی سے  گناہ میں بندھا ہوا ہے، نجات خدا کے  الٰہی و ازلی تقدیرِ/انتخاب سے ہے، فضل ایمان سے پہلے آتا ہے، اور حقیقی ایماندار خدا کے ہاتھ میں محفوظ رہتے ہیں۔ یہ ساری باتیں بائبل کی تعلیم کے مطابق ہیں۔ تاریخ ہمیں دِکھاتی ہے کہ یہ سچائیاں پانچویں صدی میں بھی موجود تھیں۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ فضل کی یہ تعلیم سولہویں صدی میں اصلاحی پروٹسٹنٹ کلیسیا کی ایجاد ہے۔ خدا نے اپنی کلیسیا میں ہمیشہ اپنے فضل کی سچائی کو محفوظ رکھا ہے۔

آگسٹین کی مثال ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ اِداروں میں کمزوریاں ہو سکتی ہیں، لیکن خدا اپنی سچائی کو ختم نہیں ہونے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاحی پروٹسٹنٹ کلیسیا کا ایمان اپنے آپ کو تاریخی تسلسل میں دیکھتا ہے اور آگسٹین کی تعلیمات کو خدا کے حاکمانہ فضل کی مضبوط گواہی سمجھتا ہے۔