Donate
ARTICLE(URDU)

Kalisiyae tareekh mein islahe kalisiya ki awazain

Author
AUTHOR

قرونِ وسطیٰ میں کلیسائی اصلاح کی آوازیں:

جب ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اصلاحِ کلیسیا اچانک سولہویں صدی میں شروع نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے بھی مختلف زمانوں میں کچھ ایسے لوگ اور تحریکیں موجود تھیں جنہوں نے کلیسیا میں موجود بگاڑ، انسانی روایات کے بڑھنے اور بائبلی تعلیم سے دوری پر اعتراض کیا۔ یہ لوگ مکمل طور پر اُس شکل میں "ریفارمڈ پروٹسٹنٹ"  نہیں تھے جیسے بعد میں اصلاحِ کلیسیا کے رہنما تھے، لیکن وہ خدا کے کلام کی طرف واپس جانے کی آواز بلند کر رہے تھے۔ اسی وجہ سے اِن کو اصلاح کی ابتدائی اور تاریخی آوازیں کہا جاتا ہے۔ بہت سے کلیسائی  مؤرخین جیسے  ہائیکو اوبرمان (Heiko Oberman) اور فلپ شیف (Philip Schaff)  نے بھی یہ تسلیم کیا ہے کہ قرونِ وسطیٰ میں ایسے تحریکیں موجود تھیں جو بعد کی اصلاح کے لیے زمین تیار کر رہی تھیں۔

ان ناموں کی فہرست میں سب سے مشہور  نام "جان ویکِلیف (John Wycliffe )"  کا ہے۔ جو چودھویں صدی میں انگلینڈ میں رہتا تھا،اور  جس نے بائبل کا عام عوام کی زبان میں ترجمہ کرنے پر زور دیا تاکہ سادہ لوگ خود خدا کا کلام پڑھ سکیں۔ اُس وقت کلیسیا میں لاطینی زبان استعمال ہوتی تھی جسے سادہ لوگ نہیں سمجھتے تھے۔ ویکِلیف نے سکھایا کہ بائبل ہی ایمان اور عمل کا اصل معیار ہے، اور انسانی روایات کو کلام پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ اُس نے پوپ کی مطلق اختیاریت پر بھی سوال اُٹھائے۔ اگرچہ اُس کے خیالات کی وجہ سے اُسے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور اُس کے مرنے کے بعد اُس کی ہڈیوں کو قبر سے نکال کررومن کیتھولک چرچ کی طرف سے جلا دیا گیا لیکن اُس کی تعلیم نے بعد میں اصلاحِ کلیسیا پر گہرا اثر ڈالا۔

تاریخی طور پر دیکھا جائے تو بہت سے مؤرخین یہ مانتے ہیں کہ ویکِلیف کی تحریک نے بائبل کی بالادستی کے تصور کو دوبارہ زندہ کیا۔ اُس کے پیروکاروں کو بعد میں "لولارڈز  (Lollards)" کہا گیا، اور وہ خفیہ طور پر بائبل کی حقیقی تعلیم پھیلاتے رہے۔ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ کلیسیا میں مکمل خاموشی نہیں تھی، بلکہ خدا نے اصلاح کے  بیج مختلف جگہوں پر بوئے ہوئے تھے۔ اسی دور کی ایک اور اہم شخصیت "جان ہس (Jan Hus ) " تھی۔ وہ چودھویں اور پندرھویں صدی میں بوہیمیا (موجودہ چیک-ریپبلک) میں ایک عالم اور مبلغ تھا۔ اُس نے ویکِلیف کی تحریروں سے متاثر ہو کر بائبل کی بالادستی اور کلیسیائی اصلاح کی بات کی۔ اُس نے بھی کلیسیا کے اندر اخلاقی بگاڑ اور طاقت کے غلط استعمال پر تنقید کی۔ جان ہس نے یہ موقف اختیار کیا کہ مسیح ہی کلیسیا کا حقیقی سربراہ ہے، نہ کہ کوئی انسانی پیشوا۔ اُس کی تعلیمات کی وجہ سے اُسے کونسل آف کانسٹینس میں طلب کیا گیا اور 1415ء  میں اُسے بھی  رومن کیتھولک چرچ کی طرف سے زندہ جلا دیا گیا ۔ لیکن اُس کی موت نے اُس کی تحریک کو ختم نہیں کیا۔ مؤرخین جیسے فیلیپ شیف نے لکھا ہے کہ ہس کی شہادت نے اصلاح کی تحریک کو مزید مضبوط کیا اور عوام میں  بیداری  پیدا کی۔

ایک اور اہم شخصیت " پیٹر والڈو (Peter Waldo)" تھی، جو بارہویں صدی میں ملکِ فرانس سے  تھا۔ اُس نے  اَمیر ہوتے ہوئے بھی سادہ زندگی اختیار کی اور انجیل کی منادی کو عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اُس نے بھی یہ زور دیا کہ مسیح کی تعلیم کو انسانی روایت پر فوقیت حاصل ہے۔ اُس کے  پیروکاروں کو بعد میں "والڈینسین"  کہا گیا۔ اُنہیں کئی صدیوں تک ظلم اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، مگر وہ بائبل کی تعلیم سے وابستہ رہے۔ تاریخی تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ والڈینسین جماعتیں قرونِ وسطیٰ میں موجود رہیں اور بعض علاقوں میں خفیہ طور پر اپنی مذہبی شناخت محفوظ رکھیں۔ رِیفارمڈ پروٹسٹنٹ نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ لوگ مکمل طور پر بعد کی اصلاحی کلیسیا کے عقائد کو نہیں مانتے تھے۔ اُن کے بعض نظریات اُس زمانہ کے کلیسائی نظام سے متاثر بھی تھے۔ اس لیے ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ مکمل ریفارمڈ تھے۔ لیکن ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ وہ خدا کے کلام کی طرف واپسی کی آواز تھے۔ اُنہوں نے کلیسیا میں موجود غلطیوں پر سوال اُٹھایا اور سادہ رسولی ایمان کی طرف واپس جانے کی کوشش کی۔

بائبل ہمیں سکھاتی ہے کہ خدا اپنی کلیسیا کو کبھی مکمل طور پر سچائی سے محروم نہیں ہونے دیتا۔ متی 18:16 میں یسوع مسیح نے فرمایا ہے کہ جہنم کے دروازے اُس کی کلیسیا پر غالب نہیں آئیں گے۔ اس وعدے کا عملی اظہار ہمیں تاریخ میں اِنہی اصلاحی آوازوں کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اگر قرونِ وسطیٰ میں مکمل تاریکی ہوتی تو ایسے لوگ  پیدا نہ ہوتے جو کلام کی سچائی کا دفاع کرتے۔اس بات کو بعض جدید چرچ مؤرخین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اصلاحِ کلیسیا ایک اچانک انقلاب نہیں تھا بلکہ ایک تاریخی تسلسل تھا۔ اُنہوں نے یہ لکھا کہ ویکِلیف، ہس اور والڈو جیسے لوگ اصلاح کے پیش رو تھے۔ اُن کی تحریریں اور قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ خدا نے مختلف زمانوں میں اپنے وفادار گواہ کھڑے کیے۔

لہٰذا قرونِ وسطیٰ میں کلیسیا کے اندر بگاڑ ضرور موجود تھا، لیکن ساتھ ہی اصلاح کی آوازیں بھی موجود تھیں۔ یہ لوگ مکمل طور پر بعد کی پروٹسٹنٹ تعلیم کے نمائندے نہیں تھے، مگر اُنہوں نے بائبل کی بالادستی، سادہ ایمان اور روحانی پاکیزگی پر زور دیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا نے اپنی کلیسیا کو مکمل طور پر نہیں چھوڑا بلکہ ہر دور میں ایسے گواہ  پیدا کیے جو سچائی کو زندہ رکھتے رہے۔ یہی بات رِیفارمڈ  پروٹسٹنٹ کلیسیا کے ایمان کے اس نظریے کو مضبوط کرتی ہے کہ خدا تاریخ میں ہمیشہ اپنے اصلاح کرنے والے لوگوں کو محفوظ رکھتے ہوئے اپنی حقیقی کیتھولک کلیسیا کو قائم رکھتا ہے۔