Donate
ARTICLE(URDU)

Khuda insano ki khidmat khu istmaal karta hai ?

Author
AUTHOR

خدا انسانوں کی خدمت کیوں استعمال کرتا ہے؟
  ہم اُس طریقے کا ذکر کریں گے جس کے مطابق خداوند نے پسند فرمایا ہے کہ اُس کی کلیسیا کی حکمرانی کی جائے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ صرف خدا ہی کلیسیا پر حکومت کرے، وہی اس میں بادشاہی کرے، وہی اس میں نمایاں ہو، اور اس کی حکمرانی صرف اُسی کے کلام کے ذریعے ہی قائم اور چلائی جائے؛ لیکن چونکہ وہ ہمارے درمیان ظاہری صورت میں موجود نہیں ہے (متی 11:26)، تاکہ اپنی مرضی ہمیں براہِ راست اپنے لبوں سے سنائے، اس لیے وہ (جیسا کہ ہم نے پہلے کہا) انسانوں کی خدمت کو استعمال کرتا ہے۔ یعنی وہ انسانوں کو گویا اپنا نمائندہ بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنا اختیار یا عزت اُن کو دے دیتا ہے، بلکہ وہ اُن کے ذریعے اپنا ہی کام کرواتا ہے، جیسے ایک کاریگر کسی اوزار کو اپنے کام کے لیے استعمال کرتا ہے۔

جیسا کہ میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں، خدا چاہتا تو یہ کام خود بھی کر سکتا تھا، بغیر کسی مدد یا وسیلے کے، یا حتیٰ کہ فرشتوں کے ذریعے بھی کر سکتا تھا۔ مگر کئی وجوہات کی بنا پر اُس نے انسانوں کو اس خدمت کے لیے چنا۔

پہلی وجہ یہ ہے کہ اس طرح وہ ہمارے ساتھ اپنی مہربانی ظاہر کرتا ہے۔ وہ انسانوں کو دنیا میں اپنا سفیر بناتا ہے (2 کرنتھیوں 20:5)، تاکہ وہ اُس کی پوشیدہ مرضی کو بیان کریں اور گویا اُس کی طرف سے بات کریں۔ اس طرح خدا یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ جب وہ ہمیں اپنی ہیکل کہتا ہے  (1 کرنتھیوں 16:3-17؛ 19:6؛ 2 کرنتھیوں 16:6) تو یہ بات بے فائدہ نہیں۔ کیونکہ انسان کے منہ کے ذریعے وہ لوگوں کو ایسے جواب دیتا ہے جیسے  کسی  مقدس مقام سے آواز آ رہی ہو۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے ہمیں عاجزی کی بہت اچھی تربیت ملتی ہے۔ کیونکہ خدا ہمیں عادت ڈالتا ہے کہ ہم اُس کے کلام کی فرمانبرداری کریں، چاہے وہ ہم جیسے انسانوں کے ذریعے سنایا جائے، یا ایسے لوگوں کے ذریعے جو شاید حیثیت میں ہم سے کم ہوں۔ اگر خدا خود آسمان سے بات کرتا تو یہ کوئی حیرت کی بات نہ ہوتی کہ سب لوگ فوراً احترام کے ساتھ اُس کے کلام کو قبول کرتے۔ کیونکہ کون اُس کی قدرت سے نہ ڈرتا؟ کون اُس کی عظیم شان کو دیکھ کر سجدہ میں نہ گرتا؟ اور کون اُس کے بے حد جلال سے مغلوب نہ ہو تا؟ لیکن جب ایک کمزور انسان، جو مٹی سے بنا ہے، خدا کے نام سے بات کرتا ہے، تو ہم اُس وقت اپنی سچی فرمانبرداری اور دینداری دکھاتے ہیں جب ہم اُس کی بات کو عاجزی سے سنتے ہیں، حالانکہ وہ ہم سے کسی لحاظ سے بھی بڑا نہیں ہوتا۔ اسی لیے خدا اپنی آسمانی حکمت کے خزانے کو کمزور مٹی کے برتنوں میں رکھتا ہے (2 کرنتھیوں 7:4)، تاکہ یہ زیادہ واضح ہو جائے کہ ہم اُس خزانے کو کتنی قدر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

مزید یہ کہ، ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور بھائی چارہ قائم رکھنے کے لیے سب سے بہتر طریقہ یہ تھا کہ انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اس رشتے سے باندھا جائے، یعنی ایک شخص کو چرواہا مقرر کیا جائے تاکہ وہ دوسروں کو تعلیم دے، اور باقی لوگ شاگرد بن کر ایک ہی منہ سے سکھائی گئی تعلیم حاصل کریں۔ اگر ہر انسان اپنے آپ میں کافی ہوتا اور کسی دوسرے کی مدد کی ضرورت نہ ہوتی (جیسا کہ انسانی عقل کا غرور ہے)، تو ہر شخص دوسرے سب کو حقیر سمجھتا اور اپنی باری میں وہ بھی حقیر سمجھا جاتا۔

لہٰذا خداوند نے اپنی کلیسیا کو اُس مضبوط رشتہ کے مطابق بنایا جسے وہ پہلے سے جانتا تھا کہ سب سے زیادہ اتحاد پیدا کرے گا، جب اُس نے ابدی زندگی اور نجات کی تعلیم انسانوں کے حوالے کی، تاکہ وہ اپنے ہاتھوں سے دوسروں تک پہنچا سکیں۔ پولُس رسول نے اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے افسسیوں کو لکھا کہ:

" ایک ہی بدن ہے اور ایک ہی رُوح۔ چُنانچہ تُمہیں جو بُلائے گئے تھے اپنے بُلائے جانے سے اُمّید بھی ایک ہی ہے۔ ایک ہی خُداوند ہے۔ ایک ہی اِیمان۔ ایک ہی بپتِسمہ۔ اور سب کا خُدا اور باپ ایک ہی ہے۔ جو سب کے اُوپر اور سب کے درمِیان اور سب کے اندر ہے۔ اور ہم میں سے ہر ایک پر مسِیح کی بخشِش کے اندازہ کے مُوافِق فضل ہُؤا ہے۔ اِسی واسطے وہ فرماتا ہے کہ جب وہ عالَمِ بالا پر چڑھا تو قَیدیوں کو ساتھ لے گیا اور آدمِیوں کو اِنعام دِئے۔ (اُس کے چڑھنے سے اَور کیا پایا جاتا ہے سِوا اِس کے کہ وہ زمِین کے نِیچے کے عِلاقہ میں اُترا بھی تھا؟ اور یہ اُترنے والا وُہی ہے جو سب آسمانوں سے بھی اُوپر چڑھ گیا تاکہ سب چِیزوں کو معمُور کرے)۔ اور اُسی نے بعض کو رسُول اور بعض کو نبی اور بعض کو مُبشِّر اور بعض کو چرواہا اور اُستاد بنا کر دے دِیا۔ تاکہ مُقدّس لوگ کامِل بنیں اور خِدمت گُذاری کا کام کِیا جائے اور مسِیح کا بدن ترقّی پائے۔ جب تک ہم سب کے سب خُدا کے بیٹے کے اِیمان اور اُس کی پہچان میں ایک نہ ہو جائیں اور کامِل اِنسان نہ بنیں یعنی مسِیح کے پُورے قَد کے اندازہ تک نہ پُہنچ جائیں۔ تاکہ ہم آگے کو بچّے نہ رہیں اور آدمِیوں کی بازِیگری اور مَکّاری کے سبب سے اُن کے گُمراہ کرنے والے منصُوبوں کی طرف ہر ایک تعلِیم کے جھوکے سے مَوجوں کی طرح اُچھلتے بہتے نہ پِھریں۔ بلکہ مُحبّت کے ساتھ سچّائی پر قائِم رہ کر اور اُس کے ساتھ جو سر ہے یعنی مسِیح کے ساتھ پَیوستہ ہو کر ہر طرح سے بڑھتے جائیں۔ جِس سے سارا بدن ہر ایک جوڑ کی مدد سے پَیوستہ ہو کر اور گٹھ کر اُس تاثِیر کے مُوافِق جو بقدر ہر حِصّہ ہوتی ہے اپنے آپ کو بڑھاتا ہے تاکہ مُحبّت میں اپنی ترقّی کرتا جائے۔   (اِفِسیوں 4:4-16)