کلیسیا کے لیے خادمین کی خدمت کی اہمیت:
اِفِسیوں 4:4-16 میں پولُس رسول ظاہر کرتا ہے کہ انسانوں کی خدمت، جسے خدا کلیسیا کو سنبھالنے کے لیے استعمال کرتا ہے، ایک اہم رشتہ ہے جس کے ذریعے ایماندار ایک بدن میں جڑے رہتے ہیں۔ وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ کلیسیا اُس وقت تک محفوظ نہیں رہ سکتی جب تک وہ اُن محافظوں کے ذریعے قائم نہ رہے جن کے سپرد خداوند نے اِس کی حفاظت کی ہے۔ مسیح "جو سب آسمانوں سے بھی اُوپر چڑھ گیا تاکہ سب چِیزوں کو معمُور کرے" (افسیوں 10:4)۔ یہ کس طرح ہوتا ہے؟ اس کا طریقہ یہ ہے کہ: اُس نے خادموں کو یہ خدمت دی اور فضل بخشا ہے تاکہ وہ اُس کے تحفے کلیسیا تک پہنچائیں۔ یوں وہ اپنے روح کی قوت کے ساتھ اپنی موجودگی ظاہر کرتا ہے تاکہ یہ خدمت بےکار نہ ہو۔ اسی سے مقدسین کی تجدید ( نئی زندگی قائم) ہوتی ہے، اور مسیح کے بدن کی تعمیر ہوتی ہے۔ اسی طرح ہم ہر بات میں اُس کی طرف بڑھتے ہیں جو سر ہے، یعنی مسیح، اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑتے جاتے ہیں۔ اور اسی طرح ہم سب مسیح کی وحدت میں لائے جاتے ہیں، بشرطیکہ ہمارے در میان نبوتی کلام (بائبل مقدس) قائم رہے، ہم اُس کے خادمین کو قبول کریں، اور اُس تعلیم کو حقیر نہ جانیں جو ہمیں دی جاتی ہے۔
لہٰذا جو کوئی اس انتظام اور حکومت کے طریقے کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے، یا اِسے معمولی سمجھ کر کم اہم بناتا ہے، وہ دراصل کلیسیا کی بربادی بلکہ اِس کی تباہی کا منصوبہ بناتا ہے۔ کیونکہ جس طرح سورج کی روشنی اور گرمی، اور کھانا پینا موجودہ زندگی کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں، اسی طرح رسولوں اور چرواہوں (پادری صاحبان) کی خدمت زمین پر کلیسیا کو قائم رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
خدا نے اس خدمت کی عظمت کو مختلف القاب دے کر بار بار اس کی تعریف کی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی بڑی نعمتوں میں سے ایک سمجھ کر بہت قدر کی نگاہ سے دیکھیں۔ خداوند فرماتا ہے کہ جب وہ اُستادوں کو قائم کرتا ہے تو انسانوں پر ایک خاص احسان کرتا ہے، جیسا کہ وہ اپنے نبی سے کہلواتا ہے کہ "اُس کے پاؤں پہاڑوں پر کیا ہی خُوش نُماہیں جو خُوشخبری لاتا ہے اور سلامتی کی مُنادی کرتا ہے" (یسعیاہ 7:52)۔ اس خدمت کی اس سے بڑھ کر تعریف اور کیا ہو سکتی ہے کہ یسوع مسیح خود رسولوں کو دنیا کا نور اور زمین کا نمک کہتا ہے (متی 13:5-14)۔ اور کہتا ہے کہ "جو تمہاری سنتا ہے وہ میری سنتا ہے، اور جو تمہیں رد کرتا ہے وہ مجھے رد کرتا ہے" (لوقا 16:10)۔
لیکن سب سے زیادہ واضح بیان دوسرے کرنتھیوں کے خط میں ہے، جہاں پولُس اس موضوع پر خاص طور پر بات کرتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ کلیسیا میں انجیل کی خدمت سے بڑھ کر کوئی چیز عظیم اور جلال والی نہیں، کیونکہ یہ روح، راستبازی اور ہمیشہ کی زندگی کی خدمت ہے۔ ان حوالہ جات کا مقصد یہ ہے کہ ہم کلیسیا کو خادموں کے ذریعے سنبھالنے اور چلانے کے طریقے کو معمولی یا حقیر نہ سمجھیں، کیونکہ خداوند نے اِسے ہمیشہ کے لیے قائم کیا ہے۔
خدا نے نہ صرف الفاظ سے بلکہ مثالوں سے بھی دکھایا ہے کہ یہ خدمت کتنی ضروری ہے۔ جب وہ کرنیلیس پر اپنی سچائی کے نور کو زیادہ واضح کرنا چاہتا تھا تو اُس نے آسمان سے ایک فرشتہ بھیجا تاکہ وہ پطرس کو بلانے کا حکم دے (اعمال 3:10-6)۔ اسی طرح جب خدا نے پولُس کو اپنی پہچان دینے اور اُسے کلیسیا میں شامل کرنے کا ارادہ کیا تو اُس نے خود اپنی آواز سے تعلیم نہیں دی بلکہ اُسے ایک انسان کے پاس بھیجا تاکہ وہ اُس سے نجات کی تعلیم حاصل کرے اور بپتسمہ پائے (اعمال 6:9-20)۔
اگر یہ بات محض اتفاق نہیں کہ خدا کا فرشتہ، جو خدا کے ارادے کو بیان کرنے والا ہے، خود خدا کی مرضی بیان نہیں کرتا بلکہ ایک انسان کو بلانے کا حکم دیتا ہے؛ اور اگر مسیح، جو ایمانداروں کا واحد اُستاد ہے، پولُس کو ایک انسان کی تعلیم کے سپرد کرتا ہے، وہ پولُس جسے وہ تیسرے آسمان تک لے گیا اور ایسے عجیب مکاشفے دکھائے جنہیں بیان بھی نہیں کیا جا سکتا (2 کرنتھیوں 2:12)، تو پھر کون اِس خدمت کو حقیر سمجھے گا یا اِسے غیر ضروری جانے گا، جس کی اہمیت پر خود خدا نے اتنی واضح گواہی دی ہے؟