(خادمین کی بلاہٹ، اختیار اور مقرر ہونا، 10–16)
10. خادمین کی باقاعدہ بلاہٹ ضروری ہے:
چونکہ مقدس جماعت میں ہر کام شائستگی اور ترتیب کے ساتھ ہونا چاہیے (1 کرنتھیوں 40:14)، اس لیے کلیسائی حکومت قائم کرنے میں اس اصول کا خاص خیال رکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ اس معاملے میں بے ترتیبی سب سے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے یہ انتظام کیا گیا کہ کوئی بے چین یا فساد پیدا کرنے والا شخص خود آگے بڑھ کر تعلیم دینے یا حکومت کرنے نہ لگے (جیسا کہ حقیقت میں ایسا ہونے والا تھا)۔ اس وجہ سے صاف طور پر مقرر کیا گیا کہ کلیسیا میں کوئی بھی شخص بلاہٹ کے بغیر کوئی عوامی عہدہ اپنے اُوپر نہ لے (عبرانیوں 4:5؛ یرمیاہ 16:17)۔
لہٰذا اگر کوئی شخص کلیسیا میں سچا خادم سمجھا جانا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ: پہلا، اُسے باقاعدہ طور پر بلایا گیا ہو۔ اور دوسرا، وہ اپنی بلاہٹ کے مطابق خدمت بھی کرے، یعنی جو ذمہ داری اُسے دی گئی ہے اُسے قبول کرے اور پورا کرے۔
ہم یہ بات اکثر پولُس کی زندگی میں دیکھتے ہیں۔ جب وہ اپنی رسولی خدمت کو ثابت کرنا چاہتا ہے تو تقریباً ہمیشہ اپنی بلاہٹ کا ذکر کرتا ہے اور اس کے ساتھ اس بات کا بھی کہ وہ دی گئی خدمت کو دیانت داری سے انجام دیتا ہے۔ اگر مسیح کا اتنا بڑا خادم بھی کلیسیا میں سنے جانے کا اختیار اپنے لیے خود سے نہیں لیتا، بلکہ صرف اس بنیاد پر بولتا ہے کہ خداوند نے اُسے مقرر کیا ہے اور وہ دی گئی ذمہ داری کو وفاداری سے پورا کرتا ہے، تو پھر کوئی ایسا شخص جس میں اِن میں سے ایک یا دونوں باتیں موجود نہ ہوں، اگر اپنے لیے ایسا احترام مانگے تو یہ کتنی بڑی بے شرمی ہوگی۔ لیکن چونکہ ہم پہلے ہی خدمت کو صحیح طور پر انجام دینے کی ضرورت کا ذکر کر چکے ہیں، اس لیے اب ہم صرف بلاہٹ کے بارے میں بات کریں گے۔
11. ظاہری اور باطنی بلاہٹ:
اس موضوع کو چار حصوں میں بیان کیا جا سکتا ہے:
کون لوگ خادم مقرر کیے جائیں۔
کس طریقے سے مقرر کیے جائیں۔
کن کے ذریعے مقرر کیے جائیں۔
اور کس رسم یا ابتدائی تقریب کے ساتھ مقرر کیے جائیں۔
یہاں میں اُس ظاہری اور باقاعدہ بلاہٹ کی بات کر رہا ہوں جو کلیسیا کے عوامی نظام سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن میں اُس باطنی بلاہٹ کی بات نہیں کر رہا جو ہر خادم اپنے دل میں خدا کے سامنے محسوس کرتا ہے، مگر کلیسیا اس کی گواہ نہیں ہوتی۔ اس سے مراد دل کی وہ اچھی گواہی ہے کہ ہم یہ خدمت نہ تو کسی لالچ، نہ شہرت کی خواہش، اور نہ کسی اور ذاتی فائدے کے لیے قبول کرتے ہیں، بلکہ خدا کے سچے خوف اور کلیسیا کی ترقی کی خواہش کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔
جیسا کہ میں نے کہا، اگر ہم اپنی خدمت کو خدا کے سامنے مقبول بنانا چاہتے ہیں تو یہ بات ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔ لیکن پھر بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کلیسیا کی طرف سے صحیح طور پر بلایا گیا ہو، حالانکہ اُس نے یہ خدمت بُرے ضمیر کے ساتھ قبول کی ہو، بشرطیکہ اُس کی بدی ظاہر نہ ہو۔
یہ بھی عام طور پر کہا جاتا ہے کہ عام لوگ اُس وقت خدمت کے لیے بلائے جاتے ہیں جب وہ اس کام کے لیے مناسب اور قابل نظر آئیں۔ یعنی جب علم، دینداری، اور ایک اچھے چرواہے کی دوسری خوبیاں اُن میں پائی جائیں تو یہ خدمت کے لیے ایک طرح کی تیاری سمجھی جاتی ہے۔ کیونکہ جن لوگوں کو خداوند اس بڑی خدمت کے لیے مقرر کرتا ہے، وہ پہلے ہی اُنہیں اس کام کے لیے ضروری صلاحیتیں اور تیاری عطا کرتا ہے، تاکہ وہ خالی ہاتھ اور بغیر تیاری کے نہ آئیں۔ اسی لیے پولُس پہلے کرنتھیوں کے خط میں جب کلیسیا کے عہدوں کا ذکر کرتا ہے تو پہلے اُن نعمتوں اور صلاحیتوں کو بیان کرتا ہے جو ان عہدوں کو انجام دینے والوں میں ہونی چاہئیں۔ لیکن چونکہ یہ اُن چار حصوں میں سے پہلا حصہ ہے جن کا میں نے ذکر کیا ہے، اس لیے اب ہم اسی پر مزید بات کریں گے۔
12. کلیسیا کا خادم کون بن سکتا ہے؟ اور یہ کیسے ہوتا ہے؟
پولُس نے دو جگہوں پر تفصیل سے بیان کیا ہے کہ بشپ (پادری) کے طور پر کن لوگوں کو منتخب کرنا چاہیے (ططس 7:1؛ 1 تیمتھیس 1:3)۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ صرف وہی لوگ چنے جائیں جو صحیح تعلیم رکھتے ہوں اور پاک زندگی گزارتے ہوں، اور جن میں کوئی ایسی نمایاں کمی نہ ہو جو اُن کے اختیار کو کم کرے یا خدمت کو بدنام کرے۔
خادموں اور بزرگوں کے بارے میں بھی تقریباً یہی صفات بیان کی گئی ہیں (دیکھیں باب 4، حصے 10–13)۔ ہمیں ہمیشہ یہ خیال رکھنا چاہیے کہ جو لوگ اس خدمت کے لیے چنے جائیں وہ اس ذمہ داری کے لیے نااہل یا کمزور نہ ہوں۔ یعنی اُن میں وہ صلاحیتیں موجود ہوں جو اس خدمت کو صحیح طور پر انجام دینے کے لیے ضروری ہیں۔ اسی لیے ہمارے خداوند یسوع مسیح نے جب اپنے رسولوں کو بھیجنا چاہا تو پہلے اُنہیں وہ سب چیزیں عطا کیں جو اُن کی خدمت کے لیے ضروری تھیں۔ اور پولُس نے بھی جب ایک اچھے اور سچے بشپ کی صفات بیان کیں تو تیمتھیس کو نصیحت کی کہ وہ کسی نامناسب شخص کو اس عہدے کے لیے منتخب کر کے اپنے آپ کو آلودہ نہ کرے۔
جب میں کہتا ہوں "کس طریقے سے" تو اس سے میری مراد انتخاب کی رسم نہیں بلکہ وہ خدا ترسی اور سنجیدگی ہے جو انتخاب کے وقت ہونی چاہیے۔ اسی لیے لوقا بیان کرتا ہے کہ جب ایمانداروں نے بزرگوں کو منتخب کیا تو اُنہوں نے روزہ رکھا اور دُعا کی (اعمال 23:14)۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ بہت اہم کام ہے، اس لیے اُنہوں نے بڑی عزت اور احتیاط کے ساتھ اِسے انجام دیا۔ اور سب سے بڑھ کر اُنہوں نے دُعا میں سنجیدگی دِکھائی اور خدا سے حکمت اور سمجھ کی روح مانگی۔
13. خادموں کو کون منتخب کرے؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ خادموں کو کون منتخب کرے۔ اس بارے میں ہمیں رسولوں کے کلام سے کوئی مکمل اصول نہیں ملتا، کیونکہ اُن کی بلاہٹ عام خادموں کی بلاہٹ سے کچھ مختلف تھی۔چونکہ اُن کی خدمت غیر معمولی تھی، اس لیے ضروری تھا کہ وہ کسی خاص اور نمایاں نشان کے ساتھ ظاہر ہو۔ اسی لیے جو لوگ یہ خدمت انجام دینے والے تھے، اُنہیں خود خداوند کے منہ سے بلایا اور مقرر کیا گیا۔
لہٰذا رسولوں نے یہ خدمت کسی انسانی انتخاب سے نہیں بلکہ صرف خدا اور مسیح کے حکم سے قبول کی۔ اسی وجہ سے جب رسول یہوداہ کی جگہ کسی اور کو مقرر کرنا چاہتے تھے تو اُنہوں نے خود کسی ایک شخص کو منتخب کرنے کی ہمت نہ کی، بلکہ دو آدمیوں کو پیش کیا تاکہ خدا قرعہ کے ذریعے ظاہر کرے کہ اُن میں سے کون اُس کی مرضی کے مطابق منتخب ہو (اعمال 23:1)۔
اسی طرح ہمیں پولُس کے اس بیان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ رسول "آدمیوں کی طرف سے نہیں اور نہ کسی انسان کے ذریعے بلکہ یسوع مسیح اور خدا باپ کی طرف سے مقرر ہوا" (گلتیوں 1:1)۔
پہلا حصہ یعنی "آدمیوں کی طرف سے نہیں" تمام سچے خادموں پر بھی لاگو ہوتا ہے، کیونکہ کوئی شخص خدا کی بلاہٹ کے بغیر اس خدمت کو صحیح طور پر انجام نہیں دے سکتا۔ لیکن دوسرا حصہ خاص طور پر پولُس کے لیے تھا۔ جب وہ اس بات پر فخر کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کے پاس نہ صرف ایک سچے اور جائز چرواہے کی صفات تھیں بلکہ وہ اپنی رسولی خدمت کی خاص نشانی بھی پیش کرتا ہے۔ کیونکہ گلتیہ میں کچھ لوگ اُس کی خدمت کو کم تر دِکھانے کی کوشش کر رہے تھے اور اُسے صرف ایک عام شاگرد قرار دیتے تھے جو پہلے رسولوں کے بعد مقرر کیا گیا تھا۔ اس لیے پولُس نے اپنی خدمت کی عزت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری سمجھا کہ وہ یہ ظاہر کرے کہ وہ کسی طرح بھی دوسرے رسولوں سے کم نہیں ہے۔
اسی لیے وہ واضح طور پر کہتا ہے کہ وہ کسی عام بشپ کی طرح لوگوں کے فیصلے سے منتخب نہیں ہوا بلکہ خود خداوند کے منہ اور اُس کے واضح حکم سے مقرر کیا گیا ہے۔
14. انسانی وسیلہ:
کوئی سمجھدار شخص اس بات سے انکار نہیں کرے گا کہ خادموں کی جائز اور باقاعدہ بلاہٹ کا طریقہ یہ ہے کہ بشپ (پادری) انسانوں کے ذریعے مقرر کیے جائیں، کیونکہ کتابِ مقدس میں اس کے بارے میں بہت سے حوالے موجود ہیں۔
اور جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے، پولُس کا یہ کہنا کہ وہ "نہ انسانوں کی طرف سے اور نہ کسی انسان کے ذریعے بھیجا گیا" اس بات کے خلاف نہیں ہے۔ کیونکہ وہ وہاں عام خادموں کے انتخاب کی بات نہیں کر رہا بلکہ اپنی اُس خاص بلاہٹ کا ذکر کر رہا ہے جو رسولوں کے لیے مخصوص تھی۔ پھر بھی خداوند نے پولُس کو خاص طور پر چننے کے باوجود اُسے کلیسیا کی بلاہٹ کے نظام کے تابع رکھا۔ کیونکہ لوقا بیان کرتا ہے کہ: "جب وہ خُداوند کی عِبادت کر رہے اور روزے رکھ رہے تھے تو رُوحُ القُدس نے کہا میرے لِئے برنباسؔ اور ساؤُلؔ کو اُس کام کے واسطے مخصُوص کر دو جِس کے واسطے مَیں نے اُن کو بُلایا ہے۔" (اعمال 2:13)۔
جب روح القدس پہلے ہی اُن کے انتخاب کی گواہی دے چکا تھا تو پھر اُنہیں الگ کرنے اور اُن پر ہاتھ رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس کا مقصد یہی تھا کہ خادموں کو مقرر کرنے میں کلیسیا کا نظام برقرار رہے۔ خدا اس ترتیب کی منظوری کا اس سے زیادہ روشن ثبوت نہیں دے سکتا تھا کہ اُس نے پہلے پولُس کو غیر قوموں کا رسول مقرر کرنے کا اعلان کیا اور پھر کلیسیا کے ذریعے اُسے خاص طور پر الگ کیا گیا۔ ہم یہی بات متّیاؔہ کے انتخاب میں بھی دیکھتے ہیں۔ چونکہ رسولی خدمت بہت اہم تھی، اس لیے رسولوں نے اپنی مرضی سے کسی کو مقرر کرنے کی ہمت نہیں کی۔ اُنہوں نے دو آدمیوں کو پیش کیا تاکہ قرعہ اُن میں سے ایک پر پڑے۔ اس طرح اُن کے انتخاب کے لیے آسمان سے پکی گواہی بھی مل گئی اور ساتھ ہی کلیسیا کے نظام کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔
15. عوام کی رائے:
اب اگلا سوال یہ ہے کہ خادم کو کون منتخب کرے؟
کیا اُسے پوری کلیسیا منتخب کرے؟ یا صرف وہ خادم اور بزرگ جو کلیسائی نظم و ضبط کی ذمہ داری رکھتے ہیں؟ یا کیا کسی ایک شخص کے اختیار سے اُسے مقرر کیا جا سکتا ہے؟
جو لوگ یہ حق صرف ایک شخص کو دیتے ہیں وہ پولُس کے اُن الفاظ کو پیش کرتے ہیں جو اُس نے طِطُس سے کہے کہ "مَیں نے تُجھے کریتے میں اِس لِئے چھوڑا تھا کہ تُو باقی ماندہ باتوں کو درُست کرے اور میرے حُکم کے مُطابِق شہر بہ شہر اَیسے بزُرگوں کو مُقرّر کرے۔" (ططس 5:1)۔ اور تیمتھیس سے بھی کہا کہ "کِسی شخص پر جلد ہاتھ نہ رکھنا " (1تیمتھیس 22:5)۔
لیکن اگر کوئی یہ سمجھیں کہ تیمتھیس افسس میں اور طِطُس کریتے میں اس طرح حکومت کرتے تھے کہ اپنی مرضی سے سب کچھ طے کر لیتے تھے، تو وہ بڑی غلطی کرے گا ۔ دراصل وہ لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے اور اچھا اور فائدہ مند مشورہ دیتے تھے، نہ کہ یہ کہ وہ اکیلے اپنی مرضی سے سب کچھ کریں اور دوسروں کو نظر انداز کر دیں۔ میں ایک ملتی جلتی مثال پیش کرتا ہوں، تاکہ یہ بات میری طرف سے بنائی ہوئی معلوم نہ ہو۔ لوقا بیان کرتا ہے کہ برنباس اور پولُس نے کلیسیاؤں میں بزرگ مقرر کیے، لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ کام کس طریقے سے ہوا۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ کام لوگوں کی رائے سے ہوا (اعمال 23:14)۔ یعنی اُنہوں نے دو آدمیوں کو منتخب کیا، اور پھر پوری جماعت نے ہاتھ اُٹھا کر ظاہر کیا کہ وہ کس کو منتخب کرنا چاہتے ہیں، جیسا کہ یونانی لوگ اپنے انتخابات میں کیا کرتے تھے۔ اسی طرح رومی مؤرخ بھی لکھتے ہیں کہ قونصل (مجلس) نئے حکام کو منتخب کرتا تھا، لیکن حقیقت میں وہ صرف لوگوں کی رائے لیتا تھا اور انتخاب کے وقت لوگوں کی رہنمائی کرتا تھا۔ یقیناً یہ بات قابلِ یقین نہیں کہ پولُس نے تیمتھیس اور طِطُس کو اپنے سے زیادہ اختیار دیا ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پولُس خود بزرگوں کو لوگوں کی رائے سے مقرر کرتا تھا۔ اس لیے اِن حوالوں کو اِس طرح سمجھنا چاہیے کہ کلیسیا کے عام حق اور آزادی کو نقصان نہ پہنچے۔
اسی لیے سِپریان (Cyprian) درست طور پر کہتا ہے کہ یہ خدا کی طرف سے مقرر کردہ اصول ہے کہ کاہن لوگوں کی موجودگی میں اور سب کے سامنے منتخب کیا جائے، اور عوامی گواہی سے اُس کی اہلیت کی تصدیق کی جائے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ خدا کے حکم کے مطابق لاوی کاہنوں کو مقرر کرنے سے پہلے لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا تھا۔ اسی طرح متّیاؔہ کو رسولوں میں شامل کیا گیا اور سات خادم بھی لوگوں کی موجودگی اور منظوری سے منتخب کیے گئے (اعمال 2:6)۔ سِپریان کہتا ہے کہ: "یہ مثالیں ظاہر کرتی ہے کہ کاہن کی دستگذاری ( خدمت کے لیے مقرر کرنا) لوگوں کی موجودگی کے بغیر نہیں ہونی چاہیے، تاکہ وہی دستگذاری درست اور جائز سمجھی جائے جس کی گواہی سب لوگ دیں۔"
پس ہم دیکھتے ہیں کہ خادم خدا کے کلام کے مطابق اُسی وقت صحیح طور پر بلائے جاتے ہیں جب وہ لوگ جو اس خدمت کے لیے مناسب نظر آئیں، عوام کی رضامندی اور منظوری سے منتخب کیے جائیں۔ البتہ دوسرے چرواہے انتخاب کی نگرانی کریں، تاکہ لوگوں کی جماعت سے کسی بے احتیاطی، غلط جذبے یا ہنگامے کی وجہ سے کوئی غلطی نہ ہو۔
16. دستگذاری (خدمت کے لیے مقصوصیت کی رسم):
اب دستگذاری (Ordination) کی صورت پر غور کرنا باقی ہے، جسے ہم نے بلاہٹ کے سلسلے میں آخری درجہ دیا ہے (دیکھیں باب 4، حصے 14–15)۔ یہ بات یقینی ہے کہ جب رسول کسی کو خدمت کے لیے مقرر کرتے تھے تو وہ ہاتھ رکھنے کے سوا کوئی اور رسم استعمال نہیں کرتے تھے۔ میرا خیال ہے کہ یہ طریقہ یہودیوں کی اُس رسم سے لیا گیا تھا جس میں وہ کسی چیز پر ہاتھ رکھ کر گویا اُسے خدا کے حضور پیش کرتے تھے تاکہ وہ برکت پائے اور مخصوص ہو جائے۔ اسی طرح یعقوب نے جب افرائیم اور منسی کو برکت دی تو اُن کے سروں پر اپنے ہاتھ رکھے (پیدائش 14:48)۔ اسی طرح ہمارے خداوند یسوع مسیح نے بھی جب چھوٹے بچوں کے لیے دُعا کی تو اُن پر ہاتھ رکھے (متی 15:19)۔ اور غالباً اِسی مقصد کے لیے یہودی شریعت کے حکم کے مطابق اپنی قربانیوں پر بھی ہاتھ رکھتے تھے۔
لہٰذا رسول جب کسی شخص کو خدمت میں داخل کرتے تھے تو اُس پر ہاتھ رکھ کر ظاہر کرتے تھے کہ وہ اُسے خدا کے حضور پیش کر رہے ہیں۔ وہ یہ عمل اُن لوگوں کے لیے بھی کرتے تھے جنہیں روح القدس کی ظاہری نعمتیں دی جاتی تھیں (اعمال 17:8؛ 6:19)۔ بہرحال جب بھی وہ کسی کو مقدس خدمت کے لیے بلاتے تھے تو یہی عام طریقہ تھا۔ اسی طرح وہ چرواہوں (پادری صاحبان) اور اُستادوں کو مقرر کرتے تھے اور اسی طرح خادموں (ڈیکن) کو بھی مقرر کرتے تھے۔ اگرچہ ہاتھ رکھنے کے بارے میں کوئی واضح حکم نہیں دیا گیا، لیکن چونکہ رسول ہمیشہ اسی طریقے کو اختیار کرتے تھے، اس لیے ہمیں بھی اسے ایک حکم کی طرح اہم سمجھنا چاہیے۔ یہ طریقہ اس لیے بھی مفید ہے کہ اس نشان کے ذریعے لوگوں کے سامنے خدمت کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، اور جس شخص کو مقرر کیا جاتا ہے اُسے یاد دلایا جاتا ہے کہ اب وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ خدا اور کلیسیا کی خدمت کے لیے وقف ہو گیا ہے۔
مزید یہ کہ اگر اس رسم کو اس کے اصل مقصد کے مطابق ادا کیا جائے تو یہ خالی علامت نہیں رہے گی۔ کیونکہ اگر خدا کے روح نے کلیسیا میں کوئی چیز بے مقصد مقرر نہیں کی، تو یہ رسم بھی بے فائدہ نہیں ہے، شرطیکہ اِسے توہم پرستی کے ساتھ غلط استعمال نہ کیا جائے۔
آخر میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خادموں پر ہاتھ رکھنے کا کام پوری جماعت نہیں بلکہ صرف چرواہے (پادری) کرتے تھے۔ البتہ یہ واضح نہیں کہ ہمیشہ کئی چرواہے مل کر ہاتھ رکھتے تھے یا نہیں۔ لیکن یہ معلوم ہے کہ خادموں کے معاملے میں پولُس اور برنباس اور چند دوسرے لوگوں نے ایسا ہی کیا (اعمال 6:6؛ 3:13)۔ ایک اور جگہ پولُس لکھتا ہے کہ اُس نے خود تیمتھیس پر ہاتھ رکھے تھے۔ وہ کہتا ہے کہ "اِسی سبب سے مَیں تُجھے یاد دِلاتا ہُوں کہ تُو خُدا کی اُس نِعمت کو چمکا دے جو میرے ہاتھ رکھنے کے باعِث تُجھے حاصِل ہے۔" (2 تیمتھیس 6:1)۔ اور جو پہلے تیمتھیس میں بزرگوں کے ہاتھ رکھنے کا ذکر ہے، میں اُسے بزرگوں کی جماعت کے معنی میں نہیں لیتا۔ میرے خیال میں اس سے مراد خود دستگذاری کی رسم ہے۔ گویا پولُس یہ کہہ رہا ہو کہ : ایسا عمل کر کہ وہ نعمت جو تجھے اُس وقت ملی تھی جب میں نے ہاتھ رکھ کر تجھے بزرگ مقرر کیا تھا، بے فائدہ نہ ہو۔