6۔ کلیسیا کی جائیداد کا استعمال:
اس سے ہم یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ کلیسیا کے مال کو کس طرح استعمال کیا جاتا تھا اور اِسے کس طرح تقسیم کیا جاتا تھا۔ کلیسائی مجلسوں کے فیصلوں اور قدیم بزرگوں کی تحریروں سے ہر جگہ یہ بات ملتی ہے کہ کلیسیا کے پاس جو کچھ بھی تھا، چاہے زمین ہو یا پیسہ، وہ دراصل غریبوں کا حق سمجھا جاتا تھا۔
اسی لیے بشپس (پادری صاحبان) اور ڈیکنز کو بار بار یہ یاد دلایا جاتا تھا کہ " یاد رکھو کہ تم اپنے مال کو نہیں سنبھال رہے بلکہ اُس مال کو جو غریبوں کی ضرورت کے لیے رکھا گیا ہے۔ اگر تم بے ایمانی سے اِسے چھپاؤ یا ضائع کرو تو تم خون کے قصوروار ٹھہرو گے۔"
اسی وجہ سے اُنہیں نصیحت کی جاتی تھی کہ وہ اس مال کو بڑے خوف اور احترام کے ساتھ اُن لوگوں میں بانٹیں جو اِس کے حق دار ہیں، اور یہ کام ایسے کرے جیسے خدا کے سامنے یہ کام کر رہے ہوں، اور کسی کے ساتھ جانبداری نہ کریں۔ اسی لیے خریسوستم (Chrysostom)، امبروز (Ambrose)، آگسٹین (Augustine) اور دوسرے بزرگوں کی تحریروں میں ایسے سنجیدہ بیانات ملتے ہیں جن میں وہ لوگوں کے سامنے اپنی دیانت داری کا اظہار کرتے ہیں۔ چونکہ یہ انصاف کی بات تھی اور خدا کے کلام سے بھی منظور تھی کہ جو لوگ کلیسیا کی خدمت میں محنت و مشقت کرتے ہیں اُنہیں کلیسیا کے خرچ سے سہارا دیا جائے (1 کرنتھیوں 14:9؛ گلتیوں 6:6)، اور اُس زمانے میں بعض بزرگوں نے اپنی جائیداد خدا کے لیے وقف کر کے خود غریبی اختیار کر لی تھی، اس لیے مال کی تقسیم اس طرح کی جاتی تھی کہ خادموں کی ضرورت بھی پوری ہو اور غریبوں کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ یہ بھی خیال رکھا جاتا تھا کہ خادم خود سادگی کی مثال ہوں۔ اُنہیں اتنا زیادہ نہ دیا جائے کہ وہ عیش و آرام یا فضول خرچی میں پڑ جائیں، بلکہ صرف اتنا دیا جائے جو اُن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہو۔
اسی کے بارے میں بزرگ جیروم (Jerome) نے کہا ہے کہ " وہ روحانی خادم جو اپنی ذاتی جائیداد سے گزارا کر سکتے ہیں، اگر وہ غریبوں کے مال میں سے لیں تو یہ بے حرمتی ہے، اور اس طرح وہ اپنے اُوپر سزا کھاتے پیتے ہیں۔"
7۔ کلیسائی ہدیے کی چار حصوں میں تقسیم:
ابتدائی کلیسیاوں میں ہدیے اور نذرانوں کا انتظام آزادانہ اور رضاکارانہ طور پر کیا جاتا تھا۔ جہاں پادری صاحبان اور ڈیکنز خود ہی ایمانداری سے اپنا کام کرتے تھے، اور صاف ضمیر اور پاک زندگی قوانین کی جگہ کافی تھی۔ لیکن بعد میں جب کچھ لوگوں کے لالچ اور بگڑی ہوئی خواہشات کی وجہ سے بُری مثالیں سامنے آئیں، تو اُن خرابیوں کو درست کرنے کے لیے قوانین (Canons) بنائے گئے۔ اُن کے مطابق کلیسیا کی آمدنی کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا:
ایک حصہ روحانی خادمین (پادری صاحبان) کے لیے،
ایک حصہ غریبوں کے لیے،
ایک حصہ کلیسیا اور دوسری عمارتوں کی مرمت کے لیے،
اور ایک حصہ غریب لوگوں کے لیے، چاہے وہ مقامی ہوں یا باہر سے آنے والے۔
کچھ قوانین اس آخری حصے کو پادری کے لیے قرار دیتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس کا مالک بن جائے اور اِسے اپنی مرضی سے خرچ کرے۔ بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ اس سے مہمان نوازی کر سکے، جیسا کہ پولُس رسول اس عہدے کے لیے ضروری قرار دیتا ہے (1 تیمتھیس 2:3)۔ بزگ جیلاسیئس (Gelasius) اور گریگوری (Gregory) بھی اسی طرح اس کی وضاحت کرتے ہیں۔ جیلاسیئس کہتا ہے کہ "پادری کو جو حصہ دیا جاتا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ قیدیوں اور مسافروں کی مدد کر سکے۔" اور گریگوری اس بات کو اور زیادہ واضح الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ " رسولی مسند (Apostolic See) کا یہ رواج ہے کہ جب کسی پادری کو مقرر کیا جائے تو اُسے حکم دیا جائے کہ وہ کلیسیا کی تمام آمدنی کو چار حصوں میں تقسیم کرے: ایک حصہ پادری اور اُس کے گھرانے کے لیے مہمان نوازی اور ضروری خرچ کے لیے، دوسرا روحانی خادموں کے لیے، تیسرا غریبوں کے لیے، اور چوتھا کلیسیا کی عمارتوں کی مرمت کے لیے۔"
اس لیے پادری کے لیے جائز نہیں تھا کہ وہ اپنے لیے اتنا مال لے جو سادہ کھانے پینے اور لباس سے زیادہ ہو۔ اگر کوئی شخص عیش و آرام یا دِکھاوے میں پڑ جاتا تو اُس کے ساتھی اُسے فوراً تنبیہ کرتے، اور اگر وہ نہ مانتا تو اُسے اُس کے عہدے سے ہٹا دیا جاتا۔
8۔ کلیسیا کے خزانے کی غریبوں میں تقسیم:
شروع میں کلیسیاؤں کی سجاوٹ پر بہت کم خرچ کیا جاتا تھا۔ بعد میں جب کلیسیا کچھ زیادہ مالدار ہو گئی، تب بھی اس معاملے میں اُنہوں نے اعتدال اور سادگی کو برقرار رکھا۔ پھر بھی جو پیسہ جمع ہوتا تھا اُسے ضرورت کے وقت غریبوں کی مدد کے لیے محفوظ رکھا جاتا تھا۔ مثلاً جب یروشلم کے علاقے میں قحط پڑا اور لوگوں کی ضرورت کسی اور طریقے سے پوری نہ ہو سکی، تو سیِرل (Cyril)نے کلیسیا کے برتن اور لباس لے کر بیچ دیے تاکہ اِس پیسے سے غریبوں کی مدد کی جا سکے۔ اسی طرح امیدہ کے بشپ اکاسیئس (Acatius) کے زمانے میں جب بہت سے فارسی لوگ قحط کی وجہ سے مرنے کے قریب تھے، تو اُس نے روحانی خادمین کو جمع کیا اور یہ بات کہی کہ " ہمارے خدا کو نہ پیالوں کی ضرورت ہے اور نہ پلیٹوں کی، کیونکہ وہ نہ کھاتا ہے اور نہ پیتا ہے۔" پھر اُس نے کلیسیا کے قیمتی برتن پگھلا دیے تاکہ اُس سے کھانا فراہم کیا جا سکے اور مصیبت زدہ لوگوں کو قید سے آزاد کرایا جا سکے۔
جیروم (Jerome) بھی کلیسیاؤں کی حد سے زیادہ سجاوٹ پر تنقید کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ اُس کے زمانے میں تولوز کا بشپ ایکسپیریئس (Exuperius) اس قدر سادہ زندگی گزارتا تھا کہ وہ (عشائے ربانی میں) خداوند کے بدن کو ٹوکری میں اور اُس کے خون کو شیشے کے برتن میں رکھتا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ کسی غریب کو بھوکا نہیں رہنے دیتا تھا۔
جو بات ابھی اکاسیئس (Acatius) کے بارے میں کہی گئی، اسی طرح کی بات امبروز (Ambrose) اپنے بارے میں بھی بیان کرتا ہے۔ جب ایشیا کے لوگوں نے اُس پر اعتراض کیا کہ اُس نے قیدیوں کو آزاد کرانے کے لیے مقدس برتن توڑ دیے ہیں، تو اُس نے بہت خوبصورت جواب دیا کہ " جس نے رسولوں کو بغیر سونے کے بھیجا تھا، اُسی نے کلیسیاؤں کو بھی بغیر سونے کے قائم کیا۔ کلیسیا کے پاس سونا اس لیے نہیں کہ اُسے جمع کر کے رکھے، بلکہ اس لیے کہ اُسے تقسیم کرے اور ضرورت مندوں کی مدد کرے۔ ایسی چیز کو سنبھال کر رکھنے کا کیا فائدہ جو کسی کے کام نہ آئے؟ کیا ہمیں نہیں معلوم کہ اسوری (Assyrians) لوگ خداوند کی ہیکل سے کتنا سونا اور چاندی لے گئے تھے؟ کیا یہ بہتر نہیں کہ کاہن اُسے پگھلا کر غریبوں کی مدد کرے، اگر اور کوئی ذریعہ نہ ہو، بجائے اس کے کہ کوئی بے دین دشمن اُسے لے جائے؟" وہ مزید کہتا ہے کہ خداوند یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ " تم نے اتنے غریب لوگوں کو بھوک سے کیوں مرنے دیا جبکہ تمہارے پاس سونا موجود تھا جس سے اُن کی مدد ہو سکتی تھی؟ تم نے اتنے قیدیوں کو کیوں آزاد نہ کرایا؟ تم نے اتنے لوگوں کو دشمن کے ہاتھوں کیوں مرنے دیا؟ زندہ انسانوں کو بچانا دھات کے برتنوں کو بچانے سے بہتر تھا۔" اگر کوئی یہ عذر پیش کرے کہ " مجھے ڈر تھا کہ خدا کے گھر کی سجاوٹ کم نہ ہو جائے" ، تو جواب یہ ہوگا کہ " مقدس عبادات کو سونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جو چیزیں سونے سے نہیں خریدی جاتیں وہ سونے سے زیادہ پسندیدہ نہیں بنتیں۔ مقدس چیزوں کی اصل خوبصورتی یہ ہے کہ قیدیوں کو آزاد کرایا جائے۔"
مختصر یہ کہ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں کلیسیا کے پاس جو کچھ بھی تھا وہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے تھا۔ اسی لیے امبروز (Ambrose) ایک اور جگہ کہتا ہے کہ " پادری کے پاس دراصل کچھ بھی اپنا نہیں ہوتا؛ جو کچھ ہے وہ غریبوں کا حق ہے۔"