Donate
ARTICLE(URDU)

Pope k church k davy or haqiqat :

Author
AUTHOR

13۔ دعوے اور حقیقت:

جو شخص پاپائی نظام میں موجود کلیسائی حکومت کے پورے طریقے کو غور سے دیکھے گا، وہ پائے گا کہ یہاں لوٹ مار اِس طرح ہوتی ہے جیسے ڈاکو بغیر کسی قانون یا حد کے کھلے عام لوٹتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی بہت سی باتیں مسیح کے مقرر کیے ہوئے نظام سے بالکل مختلف بلکہ اُس کے خلاف ہیں۔ وہ قدیم کلیسیا کی رسموں اور طریقوں سے بہت دُور ہو چکی ہیں اور فطرت اور عقل دونوں کے خلاف ہیں۔ اس لیے مسیح کے نام کو استعمال کر کے اس بے ترتیب نظام کا دفاع کرنا مسیح کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ”ہم کلیسیا کے ستون، مذہب کے کاہن،مسیح کے نائب اور ایمانداروں کے سردار ہیں، کیونکہ رسولوں کا اختیار سلسلہ وار ہم تک پہنچا ہے۔“   گویا وہ لکڑی کے بے جان بتوں سے بات کر رہے ہوں، کیونکہ وہ بار بار اِسی طرح کے بے معنی دعوے کرتے رہتے ہیں۔ جب وہ اِس طرح فخر کرتے ہیں تو میں اُن سے پوچھتا ہوں کہ اُن کا رسولوں کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ ہم یہاں کسی موروثی عزت کی بات نہیں کر رہے جو آدمی کو بغیر محنت کے مل جائے، بلکہ ہم خدا کے کلام کی منادی کے کام کی بات کر رہے ہیں جس سے وہ بہت زیادہ بھاگتے ہیں۔

اِسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ اُن کی حکومت دراصل مخالفِ مسیح کی آمریت ہے، تو وہ فوراً جواب دیتے ہیں کہ اُن کے قابلِ احترام کلیسائی نظام کی تعریف بہت سے مقدس اور بزرگ لوگوں نے کی ہے۔ لیکن کیا مقدس باپ دادا نے کبھی اس بے ترتیب اور اندھے نظام کے بارے میں سوچا بھی تھا جہاں اکثر بشپ ایسے جاہل لوگوں کو بنا دیا جاتا ہے جو ایمان کی بنیادی باتیں بھی نہیں جانتے، یا کبھی ایسے لڑکوں کو جو ابھی بچپن ہی سے نکلے ہوتے ہیں؟ اور اگر کوئی تھوڑا بہت پڑھا لکھا ہو بھی تو (جو کہ بہت کم ہوتا ہے) وہ بشپ کے عہدے کو صرف شان و شوکت کا لقب سمجھتا ہے۔

اِسی طرح کلیسیاؤں کے فادر بھیڑوں کی نگہبانی کا خیال اتنا ہی کم رکھتے ہیں جتنا ایک موچی کھیتی باڑی کا خیال رکھتا ہے۔ ہر چیز اِس قدر الجھ چکی ہے کہ بابل کے انتشار سے بھی زیادہ بدتر حالت  پیدا ہو گئی ہے، اور اب حقیقی روحانی قیادت کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔

14۔ فادروں کی اخلاقی حالت:

اب اگر ہم اُن کے کردار کو دیکھیں تو وہ روشنی کہاں ہے جسے مسیح نے دنیا کے لیے ضروری کہا تھا؟ وہ زمین کا نمک کہاں ہے؟ وہ پاکیزگی کہاں ہے جو لوگوں کے لیے ہمیشہ ایک مثال بن سکے؟

آج کے زمانے میں کوئی بھی طبقہ عیش و عشرت، ناز و نخرے اور ہر طرح کی بے راہ روی میں اِس قدر بدنام نہیں جتنا کہ رومن کیتھولک کلیسیا کے فادر اور اُن کا نظام ہے۔ کسی اور طبقے میں دھوکہ، فریب، خیانت اور بے ایمانی سکھانے والے اِن کی نسبت اتنے ماہر نہیں ملتے، اور نہ ہی اس طرح برائی اور فساد میں کہیں اتنی مہارت اور دلیری پائی جاتی جتنی اِن میں پائی جاتی ہے۔ اِس کے علاوہ دکھاوا، غرور، لالچ اور سختی میں بھی وہ بہت زیادہ اگے ہے۔

اِن سب باتوں کی وجہ سے دنیا اِس قدر تنگ آ چکی ہےکہ مجھے بڑھا چڑھا کر بات کرنے کا ڈر نہیں ہے میں صرف ایک بات کہتا ہوں جس سے وہ خود بھی انکار نہیں کر سکتے کہ بشپوں میں شاید ہی کوئی ایک ایسا ہو، اور مقامی فادروں میں سو میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں، کہ اگر قدیم کلیسیا کے قوانین کے مطابق اُن کے کردار کا فیصلہ کیا جائے تو وہ یا تو کلیسیا سے خارج نہ کیا جائے یا اپنے عہدے سے نہ ہٹایا جائے۔

یہ بات سننے میں شاید ناقابلِ یقین لگے، کیونکہ فادروں کے اخلاق کی سخت نگرانی کرنے والا پرانا نظم و ضبط اب تقریباً ختم ہو چکا ہے، لیکن حقیقت یہی ہے۔ اس لیے جو لوگ رومی کلیسیا کے جھنڈے کے تحت خدمت کرتے ہیں وہ اب اپنے پادرانہ منصب پر فخر کریں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اُن کے پاس ہے وہ نہ مسیح سے ہے، نہ رسولوں سے، نہ مقدس باپ دادا سے اور نہ  ہی ابتدائی کلیسیا کی روایت سے۔