۔ کلیسیا کی جھوٹی اور سچی شان کے بارے میں:
لیکن یہاں وہ ایک خوبصورت بہانہ پیش کرتے ہیں، کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ اس شان و شوکت سے کلیسیا کی عظمت مناسب طریقے سے برقرار رکھی گئی ہے۔ اُن کے کچھ لوگ تو اتنے بے شرم ہیں کہ کھلم کھلا فخر کرتے ہیں کہ اِسی طرح وہ پیشگوئیاں پوری ہوتی ہیں جن میں قدیم نبیوں نے مسیح کی بادشاہی کی شان بیان کی ہے، جہاں فادر (کاہن) شاہی لباس میں دِکھائے گئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ خدا نے اپنی کلیسیا سے یہ وعدے بے وجہ نہیں کیے تھے: ” بلکہ سب بادشاہ اُس کے سامنے سرنِگُوں ہوں گے۔کُل قَومیں اُس کی مُطِیع ہوں گی۔ “ (زبور 11:72)
”جاگ جاگ اَے صِیُّون اپنی شَوکت سے مُلبّس ہو! اَے یروشلیِم مُقدّس شہر اپنا خُوش نُما لِباس پہن لے! کیونکہ آگے کو کوئی نامختُون یا ناپاک تُجھ میں کبھی داخِل نہ ہو گا۔“ (یسعیاہ 1:52) ” اُونٹوں کی قطاریں اور مِدیاؔن اور عیفہ کی سانڈنیاں آ کر تیرے گِرد بے شُمار ہوں گی۔ وہ سب سبا سے آئیں گے اور سونا اور لُبان لائیں گے اور خُداوند کی حمد کا اِعلان کریں گے۔ قِیدار کی سب بھیڑیں تیرے پاس جمع ہوں گی۔ نبایوؔت کے مینڈھے تیری خِدمت میں حاضِر ہوں گے۔ وہ میرے مذبح پر مقبُول ہوں گے اور مَیں اپنی شَوکت کے گھر کو جلال بخشُوں گا۔“ (یسعیاہ 6:60-7)
اگر میں اِس دھوکے کو رد کرنے میں زیادہ دیر لگاؤں تو شاید بچگانہ لگے، اس لیے میں مختصر بات کرتا ہوں۔ اگر کوئی یہودی اِن آیات کو اِسی طرح غلط معنی میں استعمال کرے تو یہ لوگ اُسے کیا جواب دیں گے؟ وہ کہیں گے کہ وہ بے وقوفی کر رہا ہے، کیونکہ وہ روحانی باتوں کو دنیاوی اور جسمانی معنی میں لے رہا ہے۔
ہم جانتے ہیں کہ نبیوں نے زمینی چیزوں کی مثالوں کے ذریعے ہمیں اُس آسمانی جلال کی تصویر دکھائی ہے جو کلیسیا میں نظر آنی چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ رسولوں کے زمانے میں کلیسیا کے پاس اِن ظاہری نعمتوں کی بہتات نہیں تھی، لیکن پھر بھی سب مانتے ہیں کہ اُس وقت مسیح کی بادشاہی کی قوت سب سے زیادہ ظاہر ہوئی۔ تو پھر اِن آیات کا مطلب کیا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ قیمتی، بلند اور باعزت ہے وہ سب خداوند کے تابع ہونا چاہیے۔ جب کہا جاتا ہے کہ بادشاہ مسیح کے آگے جھکیں گے اور اپنے تاج اُس کے قدموں میں رکھیں گے اور اپنی دولت کلیسیا کے لیے وقف کریں گے، تو یہ بات اُس وقت سب سے زیادہ سچ ثابت ہوئی جب تھیوڈوسیس(Theodosius) نے اپنی شاہی شان چھوڑ کر عام لوگوں کی طرح خدا اور کلیسیا کے سامنے توبہ کی۔ اِسی طرح دوسرے دیندار بادشاہوں نے کلیسیا میں خالص تعلیم کو محفوظ رکھنے اور اچھے اُستادوں کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اُس زمانے میں کاہن فضول دولت میں عیش نہیں کرتے تھے۔ اس کی گواہی اکیلیا کی کونسل(Council of Aquileia) کے اِس جملے سے ملتی ہے جس کی صدارت امبروز نے کی: ”خداوند کے کاہنوں (فادروں) کی غربت باعثِ عزت ہے۔“
اُس وقت بشپس کے پاس کچھ وسائل تھے جن سے وہ چاہیں تو کلیسیا کی ظاہری شان دِکھا سکتے تھے، مگر اُنہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ جانتے تھے کہ چرواہوں کے لیے سب سے نامناسب بات یہ ہے کہ وہ اچھے کھانوں، قیمتی کپڑوں، بہت سے خادموں اور بڑے محلات پر فخر کریں۔ اِس کی بجائے اُنہوں نے عاجزی، سادگی بلکہ غربت کو اختیار کیا، جسے مسیح نے اپنے خادموں کے لیے پسند کیا ہے۔
18۔ کلیسیا کے مال و دولت کا غلط اور درست استعمال کے بارے میں:
مختصر طور پر ہم دوبارہ بتاتے ہیں کہ آج کل کلیسیا کے مال و دولت کی جو تقسیم، بلکہ فضول خرچی ہو رہی ہے، وہ اُس سچے ڈییکونیتی نظام سے کتنی مختلف ہے جس کی تعلیم خدا کا کلام دیتا ہے اور جس پر قدیم کلیسیا عمل کرتی تھی۔ (کتاب 1، باب 11، سیکشن 7، 13؛ کتاب 3، باب 20، سیکشن 30؛ اُوپر، باب 4، سیکشن 8)۔
میں کہتا ہوں کہ کلیسیا کی عمارتوں کو سجانے پر جو مال خرچ کیا جاتا ہے وہ غلط طریقے سے کیا جاتا ہے، اگر اِس میں وہ اعتدال نہ ہو جو مقدس چیزوں کے لیے ضروری ہے اور جس کی تعلیم رسولوں اور قدیم مقدس بزرگوں نے اپنے قول اور عمل سے دی تھی۔ مگر آج کی کلیسیاؤں میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی۔ جو چیز قدیم سادگی یا مناسب درمیانی حالت کے مطابق ہو، وہ بھی مسترد کر دی جاتی ہے۔ لوگوں کو صرف وہی چیز پسند ہے جس میں عیش و عشرت اور زمانے کے بگاڑ کی بو ہو۔
اسی دوران وہ زندہ ہیکلوں یعنی لوگوں کی ضرورتوں کا خیال رکھنے کی بجائے یہ گوارا کرتے ہیں کہ ہزاروں غریب مر جائیں، مگر کلیسیا کا کوئی چھوٹا سا پیالہ یا برتن بھی توڑ کر اُن کی مدد نہ کی جائے۔ میں خود سخت فیصلہ نہیں کرنا چاہتا، اس لیے صرف یہ پوچھتا ہوں کہ اگر ٹولوز کے بشپ ایکسوپیریئس، یا اکاشیئس، یا امبروز جیسے لوگ زندہ ہو کر دیکھیں تو کیا کہیں گے؟ یقیناً جب غریبوں کی ضرورتیں اتنی زیادہ ہوں تو وہ اِس بات کو پسند نہ کریں گے کہ اُن کا حق چھین کر فضول کاموں میں خرچ کیا جائے۔
اگرچہ یہاں تک بھی کہ اگر کوئی غریب نہ بھی ہوں، تب بھی جن کاموں پر یہ مال خرچ کیا جا رہا ہے وہ کئی طرح سے نقصان دہ ہیں اور کسی طرح بھی فائدہ مند نہیں۔ لیکن میں انسانوں کی نہیں بلکہ مسیح کی طرف رجوع کرتا ہوں، کیونکہ یہ مال مسیح کے نام پر وقف کیا گیا ہے اور اُسی کی مرضی کے مطابق خرچ ہونا چاہیے۔ مگر وہ لوگ مسیح کے حکم کے خلاف اِس مال کو ضائع کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ مسیح کے لیے خرچ ہو رہا ہے۔
مگرحقیقت یہ ہے کہ کلیسیا کی عام آمدنی اِن خرچوں سے زیادہ کم نہیں ہوتی، کیونکہ کوئی بشپ کا عہدہ اتنا امیر نہیں، کوئی خانقاہ اتنی پیداوار والی نہیں، اور نہ ہی کوئی منصب اتنا زیادہ ہے کہ فادروں کے لالچ اور عیش پسندی کو پورا کر سکے۔ اس لیے وہ خود تو اپنا مال بچاتے ہی ہیں،ساتھ ہی لوگوں کو توہم پرستی کے ذریعے اس بات پر آمادہ بھی کرتے ہیں کہ جو مال غریبوں کو دینا چاہیے وہ کلیسیاؤں کی عمارتوں، مجسموں، قیمتی برتنوں اور مہنگے لباسوں پر خرچ کریں۔ اس طرح روزانہ کی خیرات اِسی گہرے گڑھے میں ضائع ہو جاتی ہے۔
19۔ کلیسائی عہدہ داروں کی جائیداد اور اختیار کے بارے میں :
جو آمدنی وہ زمینوں اور جائیدادوں سے حاصل کرتے ہیں، اس کے بارے میں میں وہی کہہ سکتا ہوں جو پہلے کہہ چکا ہوں، اور جو سب لوگوں کے سامنے ظاہر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کو بشپ اور ایبٹ کہا جاتا ہے وہ اس مال کو کس طرح امانت داری سے سنبھالتے ہیں۔ ایسی حالت میں کلیسیا کے صحیح نظام کو یہاں کیسے تلاش کیا جا سکتا ہے؟
جن لوگوں کی زندگی سادگی، ضبط نفس، پرہیزگاری اور عاجزی کی مثال ہونی چاہیے، کیا یہ مناسب ہے کہ وہ خادمین، بادشاہوں کے ساتھ اپنے ملازمین کی تعداد، محل کی عظمت، لباس اور ضیافت کی عیش و عشرت میں مقابلہ کریں؟ خدا کا ابدی اور نہ بدلنے والا حکم یہ ہے کہ کاہن ناجائز دولت کی خواہش نہ کریں اور سادہ کھانے پر قناعت کریں۔ لیکن اِس کے برعکس وہ نہ صرف دیہات اور قلعوں پر قبضہ کرتے ہیں بلکہ بڑے بڑے صوبوں پر بھی اختیار جتاتے ہیں، بلکہ بعض اوقات سلطنت تک حاصل کر لیتے ہیں۔ اس سے زیادہ اُن کے فرض کے خلاف اور کیا ہو سکتا ہے؟
اگر وہ خدا کے کلام کو نظر انداز کرتے ہیں تو پھر وہ قدیم کلیسائی قوانین کو کیا جواب دیں گے؟ اُن قوانین میں کہا گیا ہے کہ بشپ کے لیے کلیسیا کے قریب ایک چھوٹا سا گھر، اور ایک سادہ میز اور فرنیچر ہونا چاہیے؟ (کارتھیج کی کونسل (Conc. Carth. cap. 14, 15))۔ اِسی طرح اکیلیا کی کونسل(Council of Aquileia) نے کہا تھا کہ خداوند کے کاہنوں (فادروں) کی غربت باعثِ عزت ہے۔
کلیسائی بزرگ جیروم نے نیپوٹیان کو نصیحت کی تھی کہ وہ اپنے دسترخوان پر غریبوں اور مسافروں کو جگہ دے اور مسیح کو اپنے ساتھ بطور مہمان سمجھے۔ شاید وہ اس نصیحت کو بہت سخت سمجھ کر رد کر دیں۔ لیکن جیروم نے یہ بھی کہا تھا کہ ایک بشپ کی عزت اس میں ہے کہ وہ غریبوں کی ضرورت پوری کرے، اور کاہنوں (فادروں) کی شرمندگی اس میں ہے کہ وہ اپنی دولت بڑھانے کی فکر کریں۔ یہ بات وہ مان نہیں سکتے کیونکہ اس سے اُن کی بدنامی ظاہر ہو جائے گی۔ لیکن یہاں اُنہیں زیادہ سختی سے گھیرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہمارا مقصد صرف یہ دِکھانا تھا کہ کلیسائی ڈییکونیتی کا اصل اور درست نظام اُن میں بہت پہلے ہی ختم ہو چکا ہے، اور اب وہ اس منصب کو اپنی کلیسیا کی تعریف کے لیے پیش نہیں کر سکتے۔ میرا خیال ہے کہ یہ بات اچھی طرح ثابت ہو چکی ہے۔