ہم میں سے بہت سے لوگ اکثر یوحنا 16:3 میں لفظ ”دنیا“ کو لے کر بحث کرتے ہیں اور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسیح کا کفارہ پوری دنیا کے لیے تھا۔ بعض لوگ اِس بحث میں اِس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں جیسے وہ خود خدا ہوں اور یہ فیصلہ کریں کہ خدا کیا چاہتا ہے۔ وہ 2 پطرس 9:3 کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا، اِس لیے مسیح کا کفارہ یقیناً پوری دنیا کے لیے ہونا چاہیے۔ لیکن اگر ہم ایسے ادُھورے یا سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کیے گئے سچ کو مکمل حقیقت مان لیں تو پھر ہم مسیح کے کفارے کو خدا کی مرضی اور اُس کے حقیقی مقصد کے مطابق کیسے سمجھ سکیں گے؟
کفارہ کا مطلب ہے ” پوری قیمت ادا کرنا“ یعنی صلیب پر مسیح یسوع نے گناہوں کی مکمل قیمت ادا کر دی۔ اب جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسیح کا کفارہ پوری دنیا کے لیے تھا، وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ کچھ لوگ آخرکار جہنم میں جائیں گے۔ اگر مسیح نے سب کے گناہوں کی قیمت ادا کر دی تھی تو پھر وہ لوگ جو جہنم میں جائیں گے، وہ اپنے گناہوں کی قیمت دوسری بار کس بنیاد پر ادا کریں گے؟ کیونکہ اُن کے مطابق تو مسیح پہلے ہی صلیب پر سب کے گناہوں کا کفارہ دے چکا ہے۔
اِس اعتراض کے جواب میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسیح کا کفارہ پوری دنیا کے لیے اِس معنی میں ہے کہ اُس نے نجات کو پوری دنیا کے لیے ممکن بنا دیا۔ لیکن اِس خیال کا مطلب یہ ہوگا کہ مسیح یسوع مکمل نجات دہندہ نہیں بلکہ ایسا آدھا ادُھورا نجات دہندہ ہے جس نے اپنے لوگوں کے لیے نجات کو یقینی بنانے کی بجائے صرف اِسے ممکن بنایا۔ اگر ایسا مانا جائے تو یہ نہ صرف کلامِ مقدس کی تعلیم کے خلاف ہے بلکہ خدا کے سامنے انسانی غرور اور دل کی سختی کو ظاہر کرتا ہے۔ بائبل کہیں بھی یہ نہیں کہتی کہ مسیح صرف نجات کو ممکن بنانے کے لیے آیا تھا بلکہ بار بار اعلان کرتی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کو نجات دینے کے لیے آیا۔ جیسا کہ لکھا ہے ”وہ (کنواری مریم) ایک بیٹا جنے گی اور تو (یوسف) اُس کا نام یسوع رکھنا کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے گا“ (متی 21:1)۔ اِسی طرح یسوع مسیح خود فرماتا ہے کہ ”میں آیا ہوں تاکہ وہ (خدا کے برگزیدہ) زندگی پائیں بلکہ کثرت سے پائیں“ (یوحنا 10:10)۔
بعض لوگ بغیر گہرائی سے سوچے سمجھے 2 پطرس 9:3 کا حوالہ دیتے ہیں کہ”خدا کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا“، اور اِس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ مسیح کا کفارہ پوری دنیا کے لیے تھا۔ لیکن دراصل یہ حوالہ مسیح کے کفارے کے بارے میں بات ہی نہیں کرتا بلکہ خدا کے صبر اور اُس کی قدرت کے بارے میں ہے۔ پطرس رسول یہاں اُن ایمانداروں کے بارے میں بات کر رہا ہے جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، یعنی خدا کے برگزیدہ لوگ۔ وہ بیان کرتا ہے کہ خدا اپنے برگزیدوں میں سے کسی ایک کی بھی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ چاہتا ہے کہ سب کے سب توبہ تک پہنچیں۔ خدا انسان نہیں کہ وہ کچھ چاہے اور وہ پورا نہ ہو۔ اگر خدا واقعی پوری دنیا کے ہر انسان کی ہلاکت نہ چاہتا تو یقیناً پوری دنیا نجات پا جاتی۔
جب ہم بائبل کو مجموعی طور پر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کفارے کی تعلیم صرف نئے عہد نامہ تک محدود نہیں بلکہ اِس کی بنیاد پُرانے عہد نامہ میں رکھی گئی ہے۔ پُرانے عہد نامہ میں خدا نے اسرائیل کو حکم دیا کہ سال میں ایک مرتبہ اپنے لوگوں کے گناہوں کے لیے قربانی پیش کریں (احبار 34:16)۔ اِس قربانی کا مقصد پوری دنیا کے گناہوں کا کفارہ دینا نہیں تھا بلکہ صرف خدا کے لوگوں یعنی بنی اسرائیل کے گناہوں کے لیے تھا۔ اُس زمانے میں خدا کی کلیسیا قومِ اسرائیل تک محدود تھی، یعنی نجات کے دائرے میں آنے کے لیے کسی شخص کا بنی اسرائیل (پُرانے عہد کی کلیسیا) میں شامل ہونا ضروری تھا۔ تاہم خدا نے ابراہام سے وعدہ کیا تھا کہ” زمین کی سب قومیں تیرے وسیلہ سے برکت پائیں گی“ (پیدائش 3:12)۔ مسیح یسوع کے وسیلہ سے یہ وعدہ پورا ہوا۔ اب خدا کی کلیسیا صرف قومِ اسرائیل تک محدود نہیں رہی بلکہ ہر قوم، ہر زبان، ہر نسل اور ہر قومیت کے لوگ خدا کے فضل سے مسیح کی کلیسیا میں شامل ہیں۔
بائبل بار بار اِس بات پر زور دیتی ہے کہ مسیح کا کفارہ خاص طور پر اُس کے لوگوں کے لیے تھا۔ یسوع مسیح نے خود فرمایا کہ”میں اچھا چرواہا ہوں۔ اچھا چرواہا بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہے“ (یوحنا 11:10)۔ اِسی باب میں وہ فقی -فریسیوں اور اِس دنیا کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ”تُم اِس لِئے یقِین نہیں کرتے کہ میری بھیڑوں میں سے نہیں ہو“ (یوحنا 26:10)۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح نے اپنی جان اپنی بھیڑوں یعنی اپنے لوگوں کے لیے دی تاکہ وہ اُس پر ایمان لائے، نہ کے دنیا کے ہر انسان کے لیے۔
کلامِ مقدس یہ بھی سکھاتا ہے کہ تمام انسان گناہ کی وجہ سے ہلاکت اور جہنم کے مستحق ہیں (رومیوں 23:3؛ رومیوں 23:6)۔ لیکن خدا جو پاک، عادل اور محبت کرنے والا ہے، اپنی صفات کو ہم پر ظاہر کرتا ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ خدا نے دنیا کی بنیاد رکھنے سے پہلے کچھ لوگوں کو اپنے فضل میں چن لیا جنہیں وہ اپنے برگزیدہ کہتا ہے (افسیوں 4:1-5)۔ اور جن لوگوں کو اُس نے چنا، اُن کے دلوں کو بھی بدلا اور اُنہیں نئی روح اور نئی زندگی دی تاکہ وہ خدا کے احکام پر چل سکیں (حزقی ایل 26:36)۔ اِسی لیے نجات مکمل طور پر خدا کے فضل کا کام ہے، نہ کہ انسان کے کسی نیک عمل یا ارادے کا۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ ”اور تیرے پاس کَون سی اَیسی چِیز ہے جو تُو نے دُوسرے سے نہیں پائی؟“ (1 کرنتھیوں 7:4)۔ بائبل یہ بھی سکھاتی ہے کہ خدا کے برگزیدہ ابدیت کے لیے محفوظ ہیں اور کوئی بھی طاقت اُنہیں مسیح سے جدا نہیں کر سکتی۔ یسوع مسیح فرماتا ہے کہ” اور کوئی اُنہیں (برگزیدوں کو) میرے ہاتھ سے چھین نہیں سکتا“ (یوحنا 28:10)۔ مسیح اپنے لوگوں کو آخر تک نجات میں قائم رکھتا ہے اور اُنہیں کبھی نہیں چھوڑتا۔
لہٰذا ہمارا نجات پانا، نجات میں قائم رہنا، اور اپنے نجات دہندہ کی پیروی کرنا، یہ سب کچھ مسیح یسوع نے صلیب پر اپنے لوگوں کے لیے فتح کیا۔ اِسی وجہ سے ہم ہر اتوار اکٹھے ہوتے ہیں، خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اُس عظیم نجات کے لیے شکرگزاری کے گیت گاتے ہیں۔