کیا بائبل کے پُرانے عہد کا سردار کاہن رومی پوپ کی اعلیٰ حیثیت کی دلیل ہے؟
اب تک ہم نے اُن کلیسائی نظامات کا جائزہ لیا ہے جو ابتدائی کلیسیا میں موجود تھے، لیکن وقت کے ساتھ وہ بگڑ گئے اور پھر آہستہ آہستہ مزید خراب ہوتے گئے۔ یہاں تک کہ پاپائی کلیسیا میں اب اِن کا صرف نام ہی باقی رہ گیا ہے، حقیقت میں وہ صرف ایک دِکھاوا بن چکے ہیں۔ اس فرق کو دیکھ کر ایک دیندار انسان سمجھ سکتا ہے کہ وہ کلیسیا کیسی ہے جس سے الگ ہونے پر ہم پر فرقہ بازی کا الزام لگایا جاتا ہے۔
لیکن اس سارے معاملے کے سب سے اہم حصے یعنی روم کی کلیسیا کی برتری کے بارے میں ہم نے ابھی بات نہیں کی۔ وہ اِسی سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اصل اور سچی ٬٬کیتھولک کلیسیا“ صرف اُنہی کے پاس ہے۔ کیونکہ اِس بات کی بنیاد نہ تو مسیح کے قائم کردہ نظام میں ہے، اور نہ ہی ابتدائی کلیسیا کے عمل سے ثابت ہوتی ہے، جبکہ دوسرے معاملات کے بارے میں ہم دِکھا چکے ہیں کہ وہ ابتدا میں درست تھے مگر بعد میں بگڑ گئے اور بالکل نئی شکل اختیار کر گئے۔ پھر بھی وہ دنیا کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کلیسائی اتحاد کا اصل اور واحد ذریعہ یہی ہے کہ رومی پاپائی کلیسیا سے وابستہ رہتے ہوئے ، اِس کے ماتحت رہا جائے۔ اُن کا اصل سہارا یہی ہے کہ وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اُس ”سر“ کو قائم رکھتے ہیں جس پر کلیسیا کا اتحاد منحصر ہے، اور جس کے بغیر کلیسیا کا ٹکڑوں میں بٹ جانا لازم ہے۔ اُن کے نزدیک اگر کلیسیا روم کے اختیار میں نہ ہو تو وہ ایسے ہے جیسے جسم بغیر سر کے ہو۔ اسی لیے جب وہ اپنے ٬٬ کلیسائی نظامِ درجہ بندی“ پر بحث کرتے ہیں تو ہمیشہ اِس اصول سے آغاز کرتے ہیں کہ ٬٬رومی پوپ (بطور مسیح کا قائم مقام، جو کلیسیا کا سر ہے) تمام کلیسیا پر اُس کی جگہ حکومت کرتا ہے، اور کلیسیا درست طور پر اُس وقت تک وجود میں نہیں آتی جب تک یہ تخت باقی سب پر برتری نہ رکھے۔“
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس دعوے کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھیں، تاکہ کلیسیا کے صحیح نظام کے بارے میں کوئی اہم بات نظر انداز نہ ہو۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا کلیسائی درجہ بندی کے صحیح نظام کے لیے یہ ضروری ہے کہ ایک ہی مرکز سب سے زیادہ طاقت اور عزت رکھے اور یوں پورے جسم (کلیسیا) کا ٬٬ سر“ یعنی سربراہ کہلائے؟ اگر ہم ایسا لازمی قرار دیں، جبکہ خدا کے کلام میں اِس کی بنیاد نہ ہو، تو ہم کلیسیا پر ناحق قانون تھوپتے ہیں۔ اِس لیے جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں، اُنہیں پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ نظام مسیح نے مقرر کیا تھا۔
وہ اِس کے لیے شریعت کے زمانے کے سردار کاہن اور یروشلم میں خدا کے مقرر کردہ اعلیٰ اختیار کا حوالہ دیتے ہیں۔لیکن اِس کا جواب آسان ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ جو نظام ایک قوم کے لیے تھا، اُسے پوری دنیا پر لاگو کرنا ضروری نہیں۔ ایک قوم اور پوری دنیا کے حالات بہت مختلف ہوتے ہیں۔ یہودیوں کے اردگرد بت پرست قومیں تھیں، اس لیے خدا نے اپنی عبادت کا مرکز ایک جگہ مقرر کیا تاکہ وہ مختلف مذاہب میں نہ بٹ جائیں۔ وہاں ایک سردار کاہن مقرر کیا گیا تاکہ سب اُس کی طرف دیکھیں اور متحد رہیں۔ لیکن اب جب سچا دین پوری دنیا میں پھیل چکا ہے، تو کیا یہ مناسب ہے کہ مشرق اور مغرب سب کا اختیار ایک ہی شخص کو دے دیا جائے؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ پوری دنیا پر ایک ہی حاکم ہونا چاہیے، صرف اِس لیے کہ ایک علاقے میں ایک ہی حاکم ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم وجہ بھی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ سردار کاہن دراصل مسیح کی طرف اشارہ تھا۔ اب جب کہ وہ کہانت مسیح میں پوری ہو گئی، تو اس اختیار کا حق بھی اُسی کو منتقل ہونا چاہیے۔
پھر سوال یہ ہے کہ یہ اختیار کس کو ملا؟ یقیناً رومی پوپ کو نہیں، جیسا کہ وہ دعویٰ کرتا ہے، بلکہ صرف مسیح کو۔ کیونکہ مسیح خود اِس منصب کو رکھتا ہے، اُس کا کوئی نائب یا جانشین نہیں ہے۔ وہ اِس عزت کو کسی اور کو نہیں دیتا۔ کیونکہ اس کہانت میں صرف تعلیم دینا ہی شامل نہیں، بلکہ وہ قربانی بھی شامل ہے جو مسیح نے اپنی موت کے ذریعے دی، اور وہ شفاعت بھی جو وہ اب باپ کے حضور ہمارے لیے کرتا ہے (عبرانیوں 11:7)۔