Donate
ARTICLE(URDU)

Kia Pope Patras Rasool ka jaa-nashin hai ?

Author
AUTHOR

کیا بائبلی مسیحی کلیسیا اور مسیحی لوگوں پر پوپ کا کوئی اختیار ہے؟ کیا پوپ واقعی پطرس رسول کا جانشین ہے یا ایک بہروپیا ہے؟

نئے عہدنامے میں وہ اپنے دعوے کے حق میں صرف یہی بات  پیش کرتے ہیں کہ ایک شخص سے کہا گیاکہ ” تو پطرس ہے اور اِس چٹان پر میں اپنی کلیسیا بناؤں گا“ (متی 18:16) اور پھر یہ کہ ”اے شمعون، کیا تو مجھ سے محبت رکھتا ہے؟۔۔۔ میری بھیڑوں کی نگہبانی کر“ (یوحنا 15:21)

لیکن اِن دلائل کو مضبوط کرنے کے لیے اُنہیں پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جسے مسیح کی بھیڑوں کی نگہبانی کا حکم دیا گیا، اُسے تمام کلیسیاؤں پر اختیار بھی دیا گیا تھا، اور ”باندھنے اور کھولنے“  کا مطلب یہ ہے کہ وہ پوری دنیا پر حکومت کرے۔ حالانکہ جس طرح پطرس کو خداوند نے حکم دیا، اُسی طرح وہ خود بھی دوسرے بزرگوں (پادریوں) کو نصیحت کرتا ہے کہ کلیسیا کی نگہبانی کریں (1 پطرس 2:5)۔ اِس سے ہم سمجھتے ہیں کہ مسیح نے پطرس کو دوسروں سے زیادہ کچھ نہیں دیا، بلکہ جو ذمہ داری اُسے ملی وہی دوسروں کو بھی دی گئی۔

مزید یہ کہ مسیح خود واضح کرتا ہے کہ ”باندھنے اور کھولنے“  کا مطلب کیا ہے، یعنی گناہوں کو معاف کرنا یا قائم رکھنا (یوحنا 23:20)۔ پوری کتابِ مقدس میں اِس کی وضاحت ملتی ہے، خاص طور پر وہاں جہاں پولُس کہتا ہے کہ انجیل کے خادمین کو یہ خدمت دی گئی ہے کہ وہ لوگوں کو خدا سے ملائیں، اور ساتھ ہی اُن پر نظم و ضبط بھی قائم کریں جو اِس نعمت کو رد کرتے ہیں (2 کرنتھیوں 18:5؛ 16:10)۔

چابیوں کے بارے میں گمراہ کن دعویٰ:

وہ ”باندھنے اور کھولنے“ والی آیات کو جس طرح غلط معنی دیتے ہیں، اُس کا میں پہلے بھی مختصر ذکر کر چکا ہوں اور آگے مزید وضاحت کروں گا۔ یہاں صرف یہ دیکھنا کافی ہے کہ وہ پطرس کے بارے میں مسیح کے مشہور جواب سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ مسیح نے اُسے آسمان کی بادشاہی کی چابیاں دینے کا وعدہ کیا اور کہا کہ جو کچھ وہ زمین پر باندھے گا وہ آسمان پر بھی بندھا جائے گا (متی 19:16)۔

اگر ہم چابیوں کے مطلب اور باندھنے اور کھولنے کے طریقے پر متفق ہو جائیں تو سارا جھگڑا ختم ہو جائے گا، اور پوپ خود اِس خدمت کو چھوڑنا چاہے گا جو رسولوں کو دی گئی تھی کیونکہ وہ محنت اور مشقت والی ہے اور اس سے اُسے کوئی دنیاوی فائدہ نہیں ہوتا۔

چونکہ انجیل کی تعلیم کے ذریعے آسمان ہمارے لیے کھلتا ہے، اِس لیے خوبصورت انداز میں اِسے ”چابیاں“ کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔ اِسی طرح باندھنے اور کھولنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگ ایمان کے ذریعے خدا سے صلح کریں تو ”کھل“ جاتے ہیں، اور بے ایمانی کی وجہ سے”بندھے“ رہتے ہیں۔ اگر پوپ صرف یہی اختیار اپنے لیے مانتا تو شاید کوئی اُس سے اختلاف نہ کرتا۔ لیکن چونکہ یہ کام محنت طلب ہے اور اس میں دنیاوی فائدہ نہیں، اس لیے پوپ کو یہ پسند نہیں۔ اِسی وجہ سے جھگڑا کھڑا ہوتا ہے کہ مسیح نے پطرس کو اصل میں کیا دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں صرف وہی عزت بیان ہوئی ہے جو رسولی خدمت کے بوجھ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ اگر ہم اِس کی صحیح تعریف کو مانیں تو یہاں پطرس کو کوئی ایسا خاص حق نہیں دیا گیا جو باقی رسولوں کو نہ ملا ہو۔ اگر اس کے علاوہ کچھ مانا جائے تو نہ صرف دوسروں کے ساتھ ناانصافی ہوگی بلکہ تعلیم کی اصل شان بھی کم ہو جائے گی۔

وہ کہتے ہیں کہ سب رسولوں کو انجیل سنانے کا حکم دیا گیا اور سب کو باندھنے اور کھولنے کا اختیار بھی ملا، لیکن پطرس کو خاص طور پر پوری کلیسیا کا سردار بنایا گیا کیونکہ اُسے چابیاں دینے کا وعدہ کیا گیا۔ لیکن اگر وہی اختیار جو ایک کو دیا گیا، سب کو بھی دیا گیا، تو پھر وہ ایک دوسروں سے کیسے بڑا ہوا؟ وہ کہتے ہیں کہ فرق یہ ہے کہ پطرس نے یہ اختیار اکیلے بھی پایا اور دوسروں کے ساتھ بھی، جبکہ باقیوں نے صرف مل کر پایا۔ اس کے جواب میں ہم سیپرین اور آگسٹین کی بات مان سکتے ہیں کہ مسیح نے یہ کام کسی ایک کو دوسروں پر برتری دینے کے لیے نہیں کیا، بلکہ کلیسیا کی وحدت ظاہر کرنے کے لیے کیا۔

سیپرین کہتا ہے کہ ” ایک شخص میں سب کو چابیاں دی گئیں تاکہ سب کی وحدت ظاہر ہو۔ باقی سب بھی پطرس جیسے ہی تھے اور عزت اور اختیار میں برابر شریک تھے، مگر ابتدا ایک سے کی گئی تاکہ یہ ظاہر ہو کہ مسیح کی کلیسیا ایک ہے۔“

آگسٹین کہتا ہے کہ”اگر پطرس میں کلیسیا کا راز نہ ہوتا تو خداوند اُس سے نہ کہتا کہ میں تجھے چابیاں دوں گا۔ اگر یہ صرف پطرس کو کہا گیا ہوتا تو کلیسیا کے پاس چابیاں نہ ہوتیں۔ لیکن اگر کلیسیا کے پاس ہیں تو پطرس نے اُنہیں پوری کلیسیا کی نمائندگی کرتے ہوئے حاصل کیا۔“ اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ” سب سے سوال کیا گیا، مگر جواب پطرس نے دیا، اور اُسے کہا گیا کہ میں تجھے چابیاں دوں گا، گویا صرف اُسے اختیار ملا ہو، حالانکہ اُس نے سب کی طرف سے جواب دیا اور سب کے ساتھ مل کر اختیار پایا، کیونکہ وہ سب کی وحدت کی نمائندگی کرتا تھا۔ ایک نے سب کے لیے پایا، کیونکہ سب میں ایک ہی وحدت ہے۔“

پطرس رسول  کو اختیار نہیں بلکہ عزت دی گئی:

ہم کہیں نہیں پڑھتے کہ کسی اور سے یہ کہا گیا ہو کہ ” تو پطرس ہے اور اِس چٹان پر میں اپنی کلیسیا بناؤں گا“ (متی 18:16)۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسیح نے پطرس کے بارے میں کوئی ایسی خاص بات کہی ہو جو دوسروں کے لیے نہ ہو، کیونکہ پولُس اور خود پطرس بھی سب ایمانداروں کے بارے میں یہی بات کہتے ہیں (افسیوں 20:2؛ 1 پطرس 5:2)۔ پولُس کہتا ہے کہ مسیح کونے کا بنیادی پتھر ہے جس پر سب ایماندار ایک مقدس ہیکل کی طرح تعمیر ہوتے ہیں۔ اور پطرس کہتا ہے کہ ہم سب زندہ پتھر ہیں جو اِس قیمتی پتھر پر قائم ہیں اور اسی کے ذریعے خدا اور ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پطرس دوسروں سے بڑا ہے کیونکہ اُسے خاص نام دیا گیا۔ میں خوشی سے مانتا ہوں کہ پطرس کو کلیسیا کی بنیاد رکھنے والوں میں خاص عزت حاصل تھی، یا یوں کہیں کہ وہ ایمانداروں میں پہلے درجے پر تھا۔ لیکن میں یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اُسے دوسروں پر اختیار بھی حاصل تھا۔ یہ کیسی دلیل ہے؟ اگر پطرس جوش، تعلیم اور حوصلے میں دوسروں سے آگے تھا، تو کیا اس کا مطلب ہے کہ اُسے اُن پر حکومت بھی دی گئی؟ اگر ایسا ہے تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اندریاس پطرس سے پہلے تھا، کیونکہ وہ پہلے مسیح کے پاس آیا اور پطرس کو بھی لایا (یوحنا 40:1-42)۔

خیر، پطرس کو عزت میں آگے مان لیا جائے، پھر بھی عزت اور اختیار میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اکثر پطرس کو بولنے دیتے تھے، وہ کچھ حد تک سب سے پہلے بات کرتا، نصیحت کرتا اور سمجھاتا تھا۔ لیکن کہیں بھی یہ نہیں ملتا کہ اُسے دوسروں پر کوئی اختیار دیا گیا ہو۔

کلیسیا کی صرف ایک ہی بنیاد:

اگرچہ ہم ابھی اس بحث کے اُس حصے تک نہیں پہنچے، پھر بھی میں یہاں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ صرف ”پطرس“ کے نام سے پوری کلیسیا پر حکومت کا اختیار ثابت کرنا چاہتے ہیں، اُن کی دلیل کتنی کمزور ہے۔ وہ پہلے یہ بات کہتے تھے کہ کلیسیا پطرس پر قائم ہے، کیونکہ لکھا ہے کہ ”اس چٹان پر میں اپنی کلیسیا بناؤں گا۔“ لیکن یہ دلیل قابلِ توجہ بھی نہیں، رد کرنے کی تو بات ہی چھوڑ دیں۔ بعض ابتدائی بزرگوں نے اس آیت کی ایسی تشریح کی تھی، لیکن جب پوری کتابِ مقدس اس مطلب کے خلاف ہے تو پھر خدا کے کلام کے مقابلے میں اُن کی رائے کیوں پیش کی جاتی ہے؟ اور ہم اُن الفاظ کے معنی پر اتنی بحث کیوں کریں، گویا وہ مشکل یا مبہم ہیں، حالانکہ اُن کا مطلب بالکل صاف اور واضح ہے۔

پطرس نے اپنے اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے اقرار کیا تھا کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے (متی 16:16)۔ اسی سچائی کی چٹان پر مسیح اپنی کلیسیا قائم کرتا ہے، کیونکہ یہی ایک اصل بنیاد ہے۔ جیسا کہ پولُس رسول کہتا ہے کہ ” سِوا اُس نیو کے جو پڑی ہُوئی ہے اور وہ یِسُوعؔ مسِیح ہے کوئی شخص دُوسری نہیں رکھ سکتا۔“ (1 کرنتھیوں 11:3)۔ اس لیے میں قدیم بزرگوں کی بات کو رد نہیں کر رہا کہ میرے پاس اُن کے اقوال نہیں ہیں۔ اگر میں چاہوں تو اُن میں سے بہت سے حوالے دے سکتا ہوں۔ لیکن جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں، میں ایک واضح بات پر لمبی بحث کر کے اپنے قارئین کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، خاص طور پر اس لیے کہ ہمارےمصنفین اس موضوع کو پہلے ہی اچھی طرح  بیان کر چکے ہیں۔

کتابِ مقدس کے مطابق رسولوں میں پطرس کا مقام:

حقیقت یہ ہے کہ اس سوال کا بہترین جواب ہمیں کتابِ مقدس سے ہی ملتا ہے، اگر ہم اُن سب مقامات کو دیکھیں جہاں بتایا گیا ہے کہ پطرس کا رسولوں میں کیا کام اور کیا اختیار تھا، وہ اُن کے درمیان کیسے کام کرتا تھا، اور وہ اُسے کیسے قبول کرتے تھے (اعمال 7:15)۔

اگر آپ یہ سب حوالہ جات دیکھیں تو زیادہ سے زیادہ یہی معلوم ہوگا کہ پطرس بارہ رسولوں میں سے ایک تھا، اُن کے برابر اور اُن کا ساتھی، نہ کہ اُن کا حاکم۔ جب کوئی معاملہ پیش آتا تو وہ اُسے مجلس کے سامنے رکھتا اور مشورہ دیتا، لیکن ساتھ ہی دوسروں کی بات بھی سنتا، اُنہیں اپنی رائے دینے کا موقع دیتا، بلکہ فیصلہ کرنے بھی دیتا، اور جب وہ فیصلہ کر لیتے تو وہ بھی اُس پر عمل کرتا۔  جب وہ خادموں (پاسبانوں) کو خط لکھتا ہے تو کسی بڑے حاکم کی طرح حکم نہیں دیتا، بلکہ اُنہیں اپنا ساتھی کہہ کر نرمی سے نصیحت کرتا ہے، جیسے برابر لوگ ایک دوسرے کو کرتے ہیں (1 پطرس 1:5)۔ جب اُس پر یہ الزام لگا کہ وہ غیر قوموں کے پاس گیا، تو اُس نے جواب دیا اور اپنی صفائی پیش کی (اعمال 3:11)۔ جب دوسرے رسولوں نے اُسے یوحنا کے ساتھ سامریہ بھیجا، تو اُس نے انکار نہیں کیا (اعمال 14:8)۔ رسولوں کا اُسے بھیجنا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اُسے اپنا حاکم نہیں سمجھتے تھے، اور اُس کا مان لینا ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود کو اُن کے برابر اور شریک سمجھتا تھا، نہ کہ اُن پر اختیار رکھنے والا۔

اگر یہ سب باتیں نہ بھی ہوتیں، تب بھی گلتیوں کا خط کافی ہے، کیونکہ اس کے تقریباً دو ابواب میں پولُس رسول  یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ رسالت کے لحاظ سے پطرس کے برابر ہے (گلتیوں 18:1؛ 8:2)۔ وہ کہتا ہے کہ وہ پطرس کے پاس اس لیے نہیں تھا گیا کہ اپنی تابعداری  ظاہر کرے، بلکہ اس لیے کہ سب کے سامنے اُن کی تعلیم کی یکسانیگی ظاہر ہو۔ پطرس نے بھی اُس سے کوئی اطاعت طلب نہیں کی، بلکہ اُسے رفاقت کا ہاتھ دیا تاکہ وہ مل کر خدمت کریں۔ پولس کہتا ہے کہ جس طرح پطرس کو یہودیوں میں خدمت کی نعمت ملی، اُسی طرح اُسے غیر قوموں میں ملی۔ بلکہ جب پطرس نے صحیح رویہ اختیار نہ کیا تو پولُس نے اُسے ڈانٹا، اور پطرس نے یہ ڈانٹ قبول بھی کی (گلتیوں 11:2-14)۔

یہ سب باتیں صاف ظاہر کرتی ہیں کہ یا تو پولُس اور پطرس برابر تھے، یا کم از کم پطرس کو دوسروں پر کوئی زیادہ اختیار حاصل نہیں تھا۔ جیسا کہ میں نے کہا، پولُس نے یہ بات خاص طور پر اس لیے  بیان کی کہ کوئی بھی اُسے رسالت کے لحاظ سے پطرس یا یوحنا سے کم نہ سمجھے، کیونکہ وہ سب ساتھی تھے، حاکم نہیں۔