Donate
ARTICLE(URDU)

Pope ka bible mein kha zikar han ? kia Masih ki izat or jalal mein kisi insan ko shareek karna jaiz han ?

Author
AUTHOR

اگر پوپ واقعی مسیحی کلیسیا کا سربراہ ہے تو بائبل میں اس کا ذکر کیوں نہیں ملتا؟ کیا مسیح کی عزت اور جلال کسی انسان کو دینا جائز ہے؟

۔ کلیسیا کا کوئی انسانی ”سر“ نہیں ہو سکتا جو پوری کلیسیا پر اختیار رکھتا ہو:

اگرچہ میں یہ مان بھی لوں کہ پطرس رسولوں میں سب سے آگے تھا اور اُس کا درجہ دوسروں سے بلند تھا، پھر بھی اس ایک مثال سے یہ  قانون نہیں بنایا جا سکتا کہ پوری کلیسیا کے لیے ہمیشہ ایک ہی انسانی سربراہ ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ ایک خاص واقعہ کو ہمیشہ کے لیے قانون نہیں بنایا جا سکتا، اور دونوں باتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ بارہ رسولوں میں ایک شخص کا قائد ہونا اس لیے ممکن تھا کہ وہ تعداد میں کم تھے۔ لیکن اگر بارہ افراد پر ایک کا سربراہ ہونا درست ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک لاکھ افراد پر بھی ایک ہی شخص کو سربراہ ہونا چاہیے؟  قدرت اور انسانی عقل بھی یہی مانتی ہے کہ کسی مجلس میں، جہاں سب برابر ہوں، پھر بھی ایک شخص کو نظم و ترتیب کے لیے مقرر کیا جاتا ہے تاکہ دوسرے اُس کی طرف رجوع کریں۔ اسی لیے ہر مجلس میں کوئی ناظم ہوتا ہے، ہر عدالت میں کوئی صدر ہوتا ہے، اور ہر جماعت میں کوئی سربراہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اگر یہ کہا جائے کہ رسولوں نے پطرس کو ایک طرح کی قیادت دی تھی تو اِس میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔

لیکن جو نظام چند افراد کے درمیان کارآمد ہو، اُسے پوری دنیا پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایک انسان پوری دنیا کو نہیں چلا سکتا۔ پھر بھی وہ دلیل دیتے ہیں کہ فطرت میں ہر جگہ ایک سربراہ ہوتا ہے، جیسے پرندوں اور شہد کی مکھیوں میں جو ہمیشہ ایک کے تحت چلتی ہیں۔ میں اُن مثالوں کو مان لیتا ہوں، لیکن کیا مکھیاں پوری دنیا سے جمع ہو کر ایک ملکہ چنتی ہیں؟ نہیں، ہر چھتے کی اپنی الگ ملکہ ہوتی ہے۔ اِسی طرح ہر پرندوں کے جُھنڈ کا اپنا الگ سردار ہوتا ہے۔ اس سے بس یہی ثابت ہوتا ہے کہ ہر کلیسیا کا اپنا بشپ (نگران) ہونا چاہیے، نہ یہ کہ پوری دنیا کا ایک ہی سربراہ ہو۔

وہ ہمیں  ریاستوں کی مثال دیتے ہوئے، یونانی شاعر ہومر کا قول  پیش کرتے ہیں کہ ” اکیلا حاکم بہتر ہے“ (یعنی بہت سے سربراہ اچھے نہیں ہوتے) اور اُن کے ساتھ  دوسرے بت پرست مصنفین بھی بادشاہت کی تعریف کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات اس معنی میں نہیں کہ ایک شخص پوری دنیا پر حکومت کرے، بلکہ اس معنی میں ہے کہ ایک سلطنت میں دو بادشاہ نہیں ہو سکتے، کیونکہ ایک ہی سلطنت دو حکمرانوں کو برداشت نہیں کرتی۔

9۔ مسیح کی سربراہی کسی اور کو منتقل نہیں ہو سکتی:

چاہے وہ لوگ یہ بات جیسے بھی ماننا چاہیں (اگرچہ یہ بات انتہائی بے معنی ہے) کہ پوری دنیا کے لیے ایک ہی بادشاہی نظام بہتر اور مفید ہو سکتا ہے، پھر بھی میں یہ قبول نہیں کرتا کہ کلیسیا کی حکومت میں بھی یہی اصول نافذ کیا جائے۔ کلیسیا کا اصل اور واحد سربراہ مسیح ہے، جس کے تحت ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہیں، اُس نظام اور ترتیب کے مطابق جو خود مسیح نے مقرر کیا ہے۔

اس لیے جب وہ اس بہانے سے یہ چاہتے ہیں کہ ایک انسان پوری کلیسیا پر حکومت کرے، تو وہ مسیح کی سخت توہین کرتے ہیں، کیونکہ کلیسیا کبھی بھی اپنے سر کے بغیر نہیں ہو سکتی اور وہ ”سر“ صرف مسیح ہے۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ ” اُس کے ساتھ جو سر ہے یعنی مسِیح کے ساتھ پَیوستہ ہو کر ہر طرح سے بڑھتے جائیں۔جِس سے سارا بدن ہر ایک جوڑ کی مدد سے  پَیوستہ ہو کر اور گٹھ کر اُس تاثِیر کے مُوافِق جو بقدر ہر حِصّہ ہوتی ہے اپنے آپ کو بڑھاتا ہے“(افسیوں 15:4-16)۔

دیکھو کہ تمام لوگ جسم کے اعضا کے طور پر رکھے گئے ہیں، لیکن ”سر“  کا مقام صرف مسیح کو دیا گیا ہے۔ ہر عضو کو ایک محدود کام اور خاص حد دی گئی ہے، جبکہ کامل فضل اور مکمل حکومت صرف مسیح میں ہے۔

میں اُن کی اس بات سے واقف ہوں جو وہ اکثر اعتراض کے طور پر کہتے ہیں کہ مسیح کو اس لیے واحد سر کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذات سے اور اپنے نام سے حکومت کرتا ہے، لیکن اس سے یہ لازم نہیں کہ اُس کے تحت کوئی اور ”نائب سر“ بھی ہو سکتا ہے جو اُس کا نائب بن کر کام کرے۔ لہذا،  یہ بات تب تک قبول نہیں ہو سکتی جب تک وہ یہ ثابت نہ کریں کہ یہ عہدہ خود مسیح نے مقرر کیا ہے۔ کیونکہ رسول سکھاتا ہے کہ تمام خدمت اور نظام جسم کے اعضا میں پھیلا ہوا ہے، جبکہ اختیار صرف ایک آسمانی ”سر“ سے آتا ہے (افسیوں 16:4)۔

اور اگر اِسے مزید واضح کرنا ہو تو یوں سمجھ لیں کہ چونکہ کتابِ مقدس گواہی دیتی ہے کہ مسیح ہی سر ہے اور یہ عزت صرف اُسی کے لیے ہے، اس لیے یہ حق کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا، سوائے اُس شخص کے جسے خود مسیح نے مقرر کیا ہو۔ لیکن نہ صرف اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں، بلکہ کلامِ مقدس اس کے خلاف واضح دلائل دیتا ہیں (افسیوں 22:1؛ 15:4؛ 23:5؛ کلسیوں 18:1؛ 10:2)۔

10۔ اتحاد مسیح میں ہے، کسی انسانی بادشاہ میں نہیں:

پولُس بعض اوقات کلیسیا کی ایک زندہ تصویر پیش کرتا ہے، لیکن وہ کہیں بھی کسی ایک سر (سربراہ) کا ذکر نہیں کرتا۔ بلکہ اُس کی  بیان کردہ باتوں سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ایسا تصور کرنا بھی مسیح کی مقرر کردہ ترتیب کے خلاف ہے۔

مسیح اپنے آسمان پر اُٹھائے جانے کے بعد ہماری آنکھوں سے اُوجھل ہو گیا، لیکن وہ اس لیے آسمان پر گیا کہ سب چیزوں کو  معمور کرے۔ اب وہ کلیسیا میں موجود ہے اور ہمیشہ موجود رہے گا۔ پولُس جب یہ دِکھانا چاہتا ہے کہ مسیح کس طرح اپنی موجودگی ظاہر کرتا ہے تو وہ اُن خدمت کے عہدوں کا ذکر کرتا ہے جو مسیح نے مقرر کیے:

”ہم میں سے ہر ایک کو مسیح کی بخشش کے مطابق فضل دیا گیا ہے “ اور ”اُس نے بعض کو رسول، بعض کو نبی، بعض کو مبشر، اور بعض کو چرواہے اور معلم بنایا “۔

یہاں وہ یہ کیوں نہیں کہتا کہ ایک شخص سب پر حکومت کرتا ہے اور مسیح کا نائب ہوتا ہے؟ اگر یہ بات سچ ہوتی تو یہ بات یہاں ضرور بیان کی جاتی، کیونکہ موقع بالکل مناسب تھا۔ مسیح ہمارے ساتھ کیسے موجود ہے؟ اُن خادموں کے ذریعے جنہیں اُس نے کلیسیا کی خدمت کے لیے مقرر کیا ہے۔ لیکن وہ کسی ایک ” نائب سر“  کا ذکر نہیں کرتا۔

پولُس اتحاد کی بات کرتا ہے، لیکن وہ اتحاد خدا اور مسیح پر ایمان میں ہے۔ وہ انسانوں کو صرف مشترکہ خدمت دیتا ہے، اور ہر ایک کو الگ الگ ذمہ داری دیتا ہے۔ جب وہ کہتا ہے کہ ”ایک ہی اُمّید، ایک ہی  خُداوند ہے۔ ایک ہی اِیمان، اور ایک ہی بپتِسمہ ہے۔“ (افسیوں 4:4-5) تو وہ یہ کیوں نہیں کہتا کہ ”ایک اعلیٰ پادری (پوپ)“ بھی ہے جو کلیسیا کو متحد رکھتا ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ بات ضرور شامل کی جاتی۔ اس پوری آیت سے واضح ہے کہ پولُس کلیسیا کے روحانی نظام کی مکمل تصویر پیش کر رہا ہے، لیکن اس میں کسی انسانی بادشاہت یا ایک مرکزی سربراہ کا کوئی ذکر نہیں۔ وہ صرف یہ بتاتا ہے کہ مسیح ہی سر ہے، اور ہر مسیحی ایماندار کو الگ الگ فضل کے مطابق خدمت دی گئی ہے۔

لہٰذا آسمانی اور زمینی نظام کے درمیان غیر ضروری فلسفیانہ موازنہ درست نہیں۔ ہمیں کلیسیا کی ترتیب میں صرف وہی اصول اپنانے چاہیے جو خود مسیح نے اپنے کلام میں واضح کیے ہیں۔