مضمون 1
چونکہ تمام انسانوں نے آدم میں گناہ کیا، جس سے وہ خدا کی لعنت کے نیچے آ گئے اور ہمیشہ کی موت کے لائق ٹھہرے، اس لیے اگر خدا ان سب کو ان کے حال پر چھوڑ کر ہلاک ہونے دیتا اور ان کے گناہوں کی وجہ سے سزا کے حوالے کر دیتا، تو بھی اُس کی طرف سے کوئی ناانصافی نہ ہوتی۔ جیسا رسول فرماتا ہے کہ، " ہر ایک کا مُنہ بند ہو جائے اور ساری دُنیا خُدا کے نزدِیک سزا کے لائِق ٹھہرے" (رومیوں 19:3)۔ اور آگے آیت 23 بیان کرتی ہے کہ، " سب نے گُناہ کِیا اور خُدا کے جلال سے محرُوم ہیں۔" مزید رومیوں 23:6 میں کہا گیا ہے کہ، " گُناہ کی مزدُوری مَوت ہے۔"
مضمون 2
لیکن خدا کی محبت یوں ظاہر ہوئی، کہ اُس نے اپنا اِکلَوتا بیٹا دنیا میں بھیجا تاکہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے۔ "جو مُحبّت خُدا کو ہم سے ہے وہ اِس سے ظاہِر ہُوئی کہ خُدا نے اپنے اِکلَوتے بیٹے کو دُنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اُس کے سبب سے زِندہ رہیں۔" (1- یوحنا 9:4)۔ کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی مُحبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلَوتا بیٹا بخش دِیا تاکہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے۔ (یوحنا 16:3)۔
مضمون 3
اور انسان کو ایمان تک پہنچانے کے لیے ، خدا اپنی رحمت سے انجیل کی خوشخبری سنانے والے خادمین اُن کے پاس بھیجتا ہے جنہیں وہ چاہتا ہے، اور اپنے مقرر کردہ وقت میں انہی کی خدمت کے ذریعے انسانوں کو گناہوں سے توبہ کرنے اور مسیحِ مصلوب پر ایمان لانے کا حکم دیا جاتا ہے ۔
"مگر جِس پر وہ اِیمان نہیں لائے اُس سے کیوں کر دُعا کریں؟ اور جِس کا ذِکر اُنہوں نے سُنا نہیں اُس پر اِیمان کیونکر لائیں؟ اور بغَیر مُنادی کرنے والے کے کیوں کر سُنیں؟ اور جب تک وہ بھیجے نہ جائیں مُنادی کیوں کر کریں؟" (رومیوں 14:10–15)۔
مضمون 4
خدا کا غضب اُن لوگوں پر قائم رہتا ہے جو انجیل کی خوشخبری پر ایمان نہیں لاتے۔ لیکن جو اسے سچے اور زندہ ایمان کے ساتھ قبول کرتے اور یسوع مسیح کو اپنا نجات دہندہ مانتے ہیں، وہ خدا کے غضب اور ہلاکت سے نجات پاتے ہیں، اور اُنہیں ہمیشہ کی زندگی کا تحفہ عطا کیا جاتا ہے۔
مضمون 5
انسان کے دوسرے تمام گناہوں کی طرح اُسکی بےایمانی کا سبب اور ذمہ دار خدا نہیں بلکہ خود انسان ہی ہے۔ لیکن یسوع مسیح پر ایمان اور اُسکے وسیلے سے نجات خدا کا عطا کردہ تحفہ ہے، جیسا کہ لکھا ہے کہ، " تُم کو اِیمان کے وسِیلہ سے فضل ہی سے نجات مِلی ہے اور یہ تُمہاری طرف سے نہیں۔ خُدا کی بخشِش ہے۔" (افسیوں 8:2)۔ "کیونکہ مسِیح کی خاطِر تُم پر یہ فضل ہُؤا کہ نہ فَقط اُس پر اِیمان لاؤ ۔،" وغیرہ (فلپیوں 29:1)۔
مضمون 6
کچھ لوگ خدا کی طرف سے ایمان کا تحفہ حاصل کرتے ہیں جبکہ باقیوں کو یہ نہیں دیا جاتا، یہ سب خدا کے ابدی فیصلے کے مطابق ہوتا ہے، کیونکہ "یہ وُہی خُداوند فرماتا ہے جو دُنیا کے شرُوع سے اِن باتوں کی خبر دیتا آیا ہے۔" (اعمال 18:15)۔ "جو اپنی مرضی کی مصلحت سے سب کُچھ کرتا ہے ۔" (افسیوں 11:1)۔ اسی فیصلے کے مطابق خدا اپنے چُنے ہوئے لوگوں کے دل، چاہے وہ کتنے ہی ضدی کیوں نہ ہوں، اپنی مہربانی سے نرم کرکے، اُنہیں ایمان کی طرف مائل کرتا ہے۔جبکہ غیر منتخب لوگوں کو اپنے عادلانہ فیصلے کے تحت اُن کی اپنی بدی اور سخت دلی میں چھوڑ دیتا ہے۔
یہاں خاص طور پر انسانوں کے درمیان گہرا، رحمت بھرا اور ساتھ ہی ساتھ منصفانہ فرق ظاہر ہوتا ہے، اگر چہ تمام انسان ہلاک ہونے میں برابر کے شریک ہیں۔ یہ وہ فیصلہ ہے جسے خدا کے کلام میں چناؤ (Election) اور رد کیے جانے (Reprobation) کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے، جسے بگڑے ہوئے، ناپاک اور غیر مستحکم ذہن رکھنے والے لوگ اپنی تباہی کے لیے غلط سمجھ لیتے ہیں، لیکن پاک اور پرہیزگار روحوں کے لیے یہ عقیدہ بے پناہ تسلی اور سکون کا سبب بنتا ہے۔
مضمون 7
الٰہی چناؤ (Election) کا عقیدہ خدا کا ناقابل تبدیلی مقصد ہے، جس کے مطابق، اُس نے دنیا کی تخلیق سے پہلے، اپنے فضل سے، اپنی مرضی کے نیک اِرادہ کے مُوافِق، پوری انسانی نسل میں سے، جو اپنی ہی خطا سے اپنی اصل راستبازی کے مقام سے گناہ اور ہلاکت میں گر گئی تھی، کچھ مخصوص لوگوں کو مسیح میں نجات کے لیے چُن لیا، اور انہی کے لیے مسیح کو خدا نے ازل سے اُن کا درمیانی، سردار، اور نجات دہندہ مقرر کیا ہے۔
خدا کے یہ برگزیدہ لوگ اپنی فطرت کے لحاظ سے دوسروں سے نہ تو بہتر تھے اور نہ ہی زیادہ لائق بلکہ سب کی طرح ایک ہی بدحالی میں گرفتار تھے۔ لیکن خدا نے یہ مقرر کیا کہ وہ انہیں مسیح کے سپرد کرے تاکہ وہ اُسی کے وسیلہ سے نجات پائیں۔ پھر انہیں اپنے کلام اور اپنے روح کے ذریعے مؤثر طور پر بُلایا، اپنی طرف کھینچا، اور اپنی رفاقت میں لایا۔ خدا نے انہیں سچا ایمان بخشا، راست بازی عطا کی، اور پاکیزگی میں بڑھایا۔ اور اپنی قدرت سےمسیح یسوع کے ساتھ ان کی رفاقت کو مضبوطی سے قائم رکھا، یہاں تک کہ آخرکار اپنی رحمت کو ظاہر کرنے اور اپنے جلالی فضل کی تعریف کے لیے انہیں جلال بھی بخشا۔ جیسالکھا ہے کہ " اُس نے ہم کو بنایِ عالَم سے پیشتر اُس میں چُن لِیا تاکہ ہم اُس کے نزدِیک مُحبّت میں پاک اور بے عَیب ہوں۔ اور اُس نے اپنی مرضی کے نیک اِرادہ کے مُوافِق ہمیں اپنے لِئے پیشتر سے مُقرّر کِیا کہ یِسُوعؔ مسِیح کے وسِیلہ سے اُس کے لے پالک بیٹے ہوں۔ تاکہ اُس کے اُس فضل کے جلال کی سِتایش ہو جو ہمیں اُس عزِیز میں مُفت بخشا۔ (افسیوں 4:1–6)، مزید یہ کہ " جِن کو اُس نے پہلے سے مُقرّر کِیا اُن کو بُلایا بھی اور جِن کو بُلایا اُن کو راست باز بھی ٹھہرایا اور جِن کو راست باز ٹھہرایا اُن کو جلال بھی بخشا۔" (رومیوں 30:8)۔
مضمون 8
الٰہی چناؤ کے بارے میں خدا کے مختلف احکام نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی حکم ہے جس کے مطابق تمام برگزیده نجات پاتے ہیں، چاہے ان کا تعلق پرانے عہد نامے سے ہو یانئے عہد نامے سے۔ کیونکہ کلامِ مقدس میں خدا کی خوشنودی، مقصد اور مرضی ایک ہی بتائی گئی ہے، جس کے مطابق اُس نے دنیا کی تخلیق سے پہلے ہمیں فضل اور جلال، نجات اور نجات کے راستے کے لیے چُنا اور ہمیں اسی مقررہ راستے پر چلنے کی ہدایت دی۔
مضمون 9
الٰہی چناؤ کی بنیاد انسان میں پہلے سے دیکھے گئے ایمان، ایمان کی وفاداری، پاکیزگی یا کسی اور نیک صفت کی بنیاد پر نہیں رکھی گئی، یعنی یہ کسی شرط، سبب یا بنیاد پر منحصر نہیں ہے ، بلکہ انسان ایمان اور ایمان کی وفاداری،اور پاکیزگی وغیرہ کے لیے چنے گئے ہیں۔ اسی لیے الٰہی چناؤ ہر نجات بخش نیکی کا ذریعہ ہے، جس سے ایمان، پاکیزگی اور دیگر نجات کے تحفے جاری ہوتے ہیں، آخرکار ابدی زندگی خود اس کے ثمرات اور اثرات کے طور پر ملتی ہے۔ جیسا کہ رسول کہتا ہے کہ " اُس نے ہم کو بنایِ عالَم سے پیشتر اُس میں چُن لِیا تاکہ ہم اُس کے نزدِیک مُحبّت میں پاک اور بے عَیب ہوں۔" (افسیوں 4:1)۔
مضمون 10
خدا کی خوشنُود مرضی ہی اِس فضل کے چُناؤ کی واحد وجہ ہے، اور نجات کے لیے یہ فضل کا چُناؤ خدا نے انسانوں کی کچھ صفات اور اعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے نہیں کیا، بلکہ خدا نے اپنی نیک مرضی سے گناہگاروں کے عام مجموعے میں سے کچھ مخصوص افراد کو اپنے برگزیدہ لوگوں کے طور پرچُن لیا۔ جیسا کہ لکھا ہے کہ "ابھی تک نہ تو لڑکے پَیدا ہُوئے تھے اور نہ اُنہوں نے نیکی یا بدی کی تھی کہ اُس سے (یعنی ربیکا سے) کہا گیا کہ بڑا چھوٹے کی خِدمت کرے گا۔" اور جیسا کہ لکھا ہے کہ " مَیں نے یعقُوبؔ سے تو مُحبّت کی مگر عیسَو سے نفرت۔" (رومیوں 11:9-13)۔ مزید اعمال 48:13 میں بیان کیا گیا ہے کہ " جِتنے ہمیشہ کی زِندگی کے لِئے مُقرّر کِئے گئے تھے اِیمان لے آئے۔"
مضمون 11
اور چونکہ خدا خود سب سے زیادہ حکمت والا، لاتبدِیل، سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے، اس لیے اُس کی طرف سے کیے گئے چُناؤ کو نہ تو روکا جا سکتا ہے، نہ بدلا جا سکتا ہے، نہ واپس لیا جا سکتا ہے اور نہ ہی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اُس کے برگزیدہ لوگوں کو نہ تو رد کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اُن کی تعداد بدلی جا سکتی ہے۔
مضمون 12
اگرچہ برگزیدہ لوگ وقت پر، مختلف درجات اور پیمانوں میں اپنے اس ابدی اور ناقابلِ تبدیلی چُناؤ کا یقین حاصل کرتے ہیں، لیکن یہ یقین خدا کے رازوں اور گہری باتوں میں تجسس کرکے نہیں، بلکہ اپنے اندر خدا کے کلام میں بیان کیے گئے چُناؤ کے ناقابلِ خطا پھلوں کو روحانی خوشی اور پاکیزہ مسرت کے ساتھ دیکھ کر حاصل کرتے ہیں یعنی مسیح پر سچے ایمان، فرزندانہ خوف، گناہ پر حقیقی افسوس، اور راستبازی کی بھوک اور پیاس وغیرہ سے۔
مضمون 13
الٰہی چُناؤ کا شعور اور یقین خدا کے فرزندوں کو روزانہ اُس کے حضور عاجزی اختیار کرنے، اُس کی رحمت کی گہرائی کی تعظیم کرنے، اپنے آپ کو پاک کرنے، اور اُس کے لیے گہری محبت کے ساتھ شکر گزار ہونے کا سبب فراہم کرتا ہے، جس نے سب سے پہلے اُن کے لیے اپنی گہری محبت کو ظاہر کیا۔
الٰہی چناؤ کے اس عقیدے پر غور کرنے سے نہ تو خدا کے احکام کی پابندی میں سستی پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی انسان دنیاوی تحفظ یا بے فکری میں مبتلا ہوتا ہے، بلکہ یہ، خدا کے عادلانہ فیصلے کے مطابق، اُن لوگوں میں پیدا ہونے والے عام اثرات ہیں جو چناؤ کے فضل کو سنجیدگی سے نہیں اپناتے اور برگزیدہ لوگوں کے راستوں پر چلنے سے انکار کرتے ہیں۔
مضمون 14
چونکہ الٰہی چناؤ کا عقیدہ، جو خدا کے نہایت حکیمانہ ارادے پر مبنی ہے، اور جسکا اعلان نبیوں ، خود مسیح یسوع، اور اُسکے رسولوں کے ذریعے کیا گیا، یہ پرانے اور نئے عہد نامے دونوں میں مقدس صحیفوں میں صاف طور پر بیان کیا گیا ہے، لہٰذا اسے آج بھی کلیسیا میں، مناسب وقت اور مقام پر، اسی مقصد کے لیے ظاہر کیا جانا چاہیے جس کے لیے اسے خاص طور پر مقرر کیا گیا تھا، بشرطیکہ یہ احترام کے ساتھ، حکمت اور پرہیزگاری کی روح میں، خدا کے نہایت پاک نام کے جلال کے لیے، اور اُس کے لوگوں کو زندگی اور تسلی بخشنے کے لیے کیا جائے، بغیر اس کے کہ کوئی بے فائدہ طور پر خدائے برتر کے پوشیدہ راستوں کی کھوج کرنے کی کوشش کرے۔
"کیونکہ مَیں خُدا کی ساری مرضی تُم سے پُورے طَور پر بیان کرنے سے نہ جِھجکا۔" (اعمال 27:20)۔
"واہ! خُدا کی دَولت اور حِکمت اور عِلم کیا ہی عمِیق ہے! اُس کے فَیصلے کِس قدر اِدراک سے پرے اور اُس کی راہیں کیا ہی بے نِشان ہیں! خُداوند کی عقل کو کِس نے جانا؟ یا کَون اُس کا صلاح کار ہُؤا؟" (رومیوں 33:11–34)۔ "مَیں اُس تَوفِیق کی وجہ سے جو مُجھ کو مِلی ہے تُم میں سے ہر ایک سے کہتا ہُوں کہ جَیسا سمجھنا چاہئے اُس سے زِیادہ کوئی اپنے آپ کو نہ سمجھے بلکہ جَیسا خُدا نے ہر ایک کو اندازہ کے مُوافِق اِیمان تقسِیم کِیا ہے اِعتدال کے ساتھ اپنے آپ کو وَیسا ہی سمجھے۔" (رومیوں 3:12) "اِس لِئے جب خُدا نے چاہا کہ وعدہ کے وارِثوں پر اَور بھی صاف طَور سے ظاہِر کرے کہ میرا اِرادہ بدل نہیں سکتا تو قَسم کو درمِیان میں لایا۔ تاکہ دو بے تبدِیل چِیزوں کے باعِث جِن کے بارے میں خُدا کا جُھوٹ بولنا مُمکِن نہیں ہماری پُختہ طَور سے دِل جمعی ہو جائے جو پناہ لینے کو اِس لِئے دَوڑے ہیں کہ اُس اُمّید کو جو سامنے رکھّی ہُوئی ہے قبضہ میں لائیں۔" (عبرانیوں 17:6–18)۔
مضمون 15
ہمارے لیے الٰہی چناؤ کے اس ازلی اور بے معاوضہ فضل کو خاص طور پر واضح کرنے اور قابلِ قدر بنانے کے لیے کتابِ مقدس خود یہ گواہی دیتی ہے کہ خدا نے سب لوگوں کو نہیں بلکہ کچھ ہی لوگوں کو ابدی زندگی کے لیے چنا، جبکہ باقیوں کو خدا نے اپنے ازلی فرمان میں اُن کے حال پر چھوڑ دیا۔ خدا نے اپنی قادرِ مطلق، عادل، بے عیب اور ناقابلِ تبدیل مرضی کے مطابق فیصلہ کیا کہ وہ اُن لوگوں کو اسی عام مصیبت (گناہ) میں رہنے دے، جس میں وہ خود اپنی مرضی سے گر گئے تھے، اور اُنہیں نہ نجات بخش ایمان عطا کرے اور نہ ہی توبہ کرنے کا فضل۔ بلکہ خدا نے اپنے عادلانہ فیصلے میں اُنہیں اُن ہی کے راستوں پر چلنے دیا، اور آخرکار اپنے انصاف کے اظہار کے لیے اُنہیں نہ صرف اُن کے کفر کی وجہ سے بلکہ اُن کے تمام دوسرے گناہوں کے باعث بھی ہمیشہ کی ہلاکت اور سزا کا مستحق ٹھہرایا۔
اور یہی وہ رد کیے جانے کا فیصلہ (Reprobation) ہے، جو کسی طرح بھی خدا کو گناہ کا خالق نہیں بناتا (ایسا سوچنا بھی گستاخی ہے)، بلکہ دکھاتا ہے کہ خدا نہایت ہیبت ناک، بے عیب، اور عادل منصف اور بدی کا انتقام لینے والا ہے۔
مضمون 16
وہ لوگ جو ابھی تک مسیح پر زندہ ایمان، دل سے پکا اعتماد، ضمیر کی سچی سلامتی، فرزند کی طرح فرمانبرداری کے جوش، اور مسیح کے وسیلے سے خدا پر فخر کرنے کے تجربے تک نہیں پہنچے، لیکن پھر بھی اُن ذرائع کو باقاعدگی سے استعمال کرتے رہتے ہیں جنہیں خدا نے یہ نعمتیں دینے کے لیے مقرر کیا ہے۔اُنہیں رد کیے جانے (Reprobation) کے عقیدہ سے ڈرنا نہیں چاہیے، اور نہ ہی اپنے آپ کو رد شدگان (Reprobate) میں شامل سمجھنا چاہیے۔ بلکہ اُنہیں چاہیے کہ اُن ذرائع کو محنت، لگن اور ثابت قدمی سے استعمال کرتے رہیں، اور سچے دل سے گہری خواہش کے ساتھ عاجزی اور دعا میں خدا کے مقررہ وقت کے گہرے فضل کا انتظار کریں۔
اور اُن لوگوں کے پاس رد کیے جانے (Reprobation) کی تعلیم سے ڈرنے کی اور بھی کم وجہ ہے،جو سچے دل سے خدا کی طرف پھِرنے کی خواہش رکھتے ہیں، صرف اُسی کو راضی کرنا چاہتے ہیں، اور گناہ کی غلامی سے نجات کی تمنا رکھتے ہیں، لیکن ابھی تک اُس پاکیزگی اور ایمان کے اُس معیار تک نہیں پہنچے جس کی وہ خواہش کرتے ہیں۔ کیونکہ رحم کرنے والے خدا نے وعدہ کیا ہے کہ وہ دھواں دیتی موم باتی کو بجھائے گا نہیں اور نہ ہی کُچلے ہُوئے سرکنڈے کو توڑے گا۔
لیکن جو خدا اور نجات دہندہ یسوع مسیح کی پرواہ کیے بغیر پوری طرح دنیاوی فکروں اور جسمانی لذتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، اُن تمام لوگوں کے لیے یہ تعلیم حقیقی طور پر خوفناک ہے،جب تک کہ وہ سچے دل سے توبہ کر کے خدا کی طرف واپس نہ آئیں۔
مضمون 17
چونکہ ہم خدا کی مرضی کو اُس کے کلام سے جانتے ہیں، جو یہ گواہی دیتا ہے کہ ایمانداروں کے بچے مقدس ہیں ، اپنی فطرت کے سبب سے نہیں، بلکہ فضل کے عہد کے باعث، جس میں وہ اپنے والدین کے ساتھ شامل کیے گئے ہیں ۔ اس لیے خدا ترس والدین کے پاس اپنے اُن بچوں کے چناؤ اور نجات پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں جنہیں خدا نے اپنی نیک مرضی سے بچپن ہی میں اس زندگی سے بُلا لیا۔
مضمون 18
جو لوگ خدا کے آزادانہ فضل کے چناؤ اور عادلانہ رد کیے جانے کے عقیدہ پر شکایت یا اعتراض کرتے ہیں، اُنہیں ہم رسول کے الفاظ میں جواب دیتے ہیں کہ "اَے اِنسان بھلا تُو کَون ہے جو خُدا کے سامنے جواب دیتا ہے؟" (رومیوں 20:9)۔ اور ہمارے نجات دہندہ کے یہ الفاظ یاد دلاتے ہیں کہ "کیا مُجھے روا نہیں کہ اپنے مال سے جو چاہُوں سو کرُوں؟" (متی 15:20)۔ لہٰذا ہم اِن بھیدوں (رازوں) کی پاک تعظیم میں رسول کے الفاظ میں پکارتے ہیں کہ "واہ! خُدا کی دَولت اور حِکمت اور عِلم کیا ہی عمِیق ہے! اُس کے فَیصلے کِس قدر اِدراک سے پرے اور اُس کی راہیں کیا ہی بے نِشان ہیں! خُداوند کی عقل کو کِس نے جانا؟ یا کَون اُس کا صلاح کار ہُؤا؟ یا کِس نے پہلے اُسے کُچھ دِیا ہے جِس کا بدلہ اُسے دِیا جائے؟ کیونکہ اُسی کی طرف سے اور اُسی کے وسِیلہ سے اور اُسی کے لِئے سب چِیزیں ہیں۔ اُس کی تمجِید ابد تک ہوتی رہے۔ آمِین۔" (رومیوں 33:11–36)۔